قائد ملت جعفريہ پاکستان کے ترجمان :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان کے مرکزي ترجمان نے لعل شہباز قلندر کے عرس کي تقريبات ميں شرکت کے بعد سيہون شريف سے دينہ جانے والي مسافر کوچ کے خواتين اور بچوں سميت 80 کے لگ بھگ زائرين کے لسبيلہ خضدار کے قريب اغوا پر گہري تشويش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زائرين کي بحفاظت بازيابي کا مطالبہ کيا ?
انہوں نے گذشتہ روز کراچي ميں ممتاز مذہبي و سماجي شخصيت مختار حسين بخاري ايڈووکيٹ کي شہادت سميت جعفر طيار سوسائٹي اور ديگر علاقوں ميں کشيدہ صورتحال اور فائرنگ کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ٹارگٹ کلنگ‘ بدامني اور قتل و غارت گري ملک کي جڑوں کو کھوکھلا کررہي ہے مگر رياست اور امن و امان کے ذمہ دار نہ تو عوام کو امن و تحفظ کرپائے ہيں اور نہ ہي وہ صورتحال کي سنگيني کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اور سنجيدہ اقدامات کرسکے ہيں?
ترجمان نے مزيد کہا: ملکي معيشت کے لئے ريڑھ کي ہڈي کي حيثيت رکھنے والے شہر قائد ميں ايک مدت سے جاري موت کا رقص اور حاليہ دنوں ميں ايک سو کے لگ بھگ معصوم اور بے گناہ شہريوں کے قتل عام امن و امان کي بدترين صورت حال کي عکاسي کرتا ہے اور خوف و اضطراب اور عدم تحفظ کي يہ کيفيت محب وطن حلقوں کے لئے انتہائي تشويش اور اضطراب کا باعث ہے ضرورت اس امر کي ہے کہ ان واقعات پرفوري قابوپايا جائے اوربدامني‘ دہشت گرد ي اور ٹارگٹ کلنگ کے مکمل خاتمے کے لئے ٹھوس اور سنجيدہ اقدامات کئے جائيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے