مجلس وحدت مسلمين پاکستان:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي ڈپٹي سکريٹري حجت الاسلام محمد امين شہيدي نے پشاور ميں ايک پر ہجوم پريس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا : وزير داخلہ رحمان ملک کي ذمہ داري ہے کہ وہ کاروان کو بحفاظت کرم ايجنسي پہنچائيں اورشرکائے کاروان کي بحفاظت واپسي کا وعدہ پوراکريں ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ دوسري صورت ميں حکومت ملک کے کونے کونے ميں عوامي احتجاج کے لا متناہي سلسلے سے روبرہو گي تاکيد کي : لاء اينڈ آرڈر کي صورتحال کي تمام تر ذمہ داري وزارت داخلہ اور پشاور کي انتظاميہ پر عائد ہو گي ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ امدادي کاروان امن کي اسلام آباد سے روانگي سے قبل وزير داخلہ رحمان ملک نے کمشنر اسلام آباد ، ڈي سي اسلام آباد ، اے سي اسلام آباد اور آئي جي اسلام آباد کي موجودگي ميں کاروان کو فول پروف سيکورٹي کے ساتھ کرم ايجنسي پہنچانے اور شرکائے کاروان کي بحفاظت واپسي يقيني بنانے کي يقين دہاني کرائي تھي کہا : اس کے باوجود کاروان کو راستہ ميں دو مقامات پر بلا جواز روکا گيا جس کے نتيجے ميں يہ کاروان ڈھائي گھنٹے کي مسافت ، سات گھنٹے ميں طے کرکے پشاور پہنچا اوراب پشاورانتظاميہ نے بھي رکاوٹيں کھڑي کرنا شروع کر ديں ہيں ?
انہوں نے کہا کہ اگر پشاور انتظاميہ کے رويئے ميں تبديلي نہ آئي تو مجلس وحدت مسلمين پورے ملک ميں احتجاج کا اعلان کرے گي ، جس کے بعد پورے پاکستان ميں احتجاجي مظاہروں کا لا متناہي سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حالات کي خرابي کي تمام تر ذمہ داري وزارت داخلہ پاکستان اور پشاور انتظاميہ پر عائد ہو گي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے