بحرين کے شيعہ رہنما :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے شيعہ رہنما آيت الله شيخ عيسي قاسم اس ھفتہ کے نماز جمعہ جو مسجد امام صادق (ع) ميں منعقد ہوئي اس کے خطبہ جمعہ کے درميان اس ملک ميں سياسي حصہ داري پاليسي کي توسيع کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : حکومت اور حکومت کے طرفدار اور اس کے مخالف سب کوٹہ پاليسي سياست کا مقابلہ کرنے کا نعرہ لگا رہے ہيں ليکن حقيقيت يہ ہے کہ بحريني معاشرہ دو حصہ مالک و مملوک ميں تقسيم ہو گيا ہے ? وزارتيں ، سروسز ، پارليمنٹ اور دوسري ذمہ دارياں ايک پارٹي کے ہاتھ ميں ہے اور تشدد ظلم و ستم، غربت، مذہبي دباؤ جھوٹے الزامات معاشرے کے دوسرے پارٹي کي قسمت بنا دي گئي ہے ?
انہوں نے وضاحت کي : کوٹہ پاليسي کے مقابلہ کي حقيقت يہ ہے کہ تمام شہري ايک جيسے حقوق و خدمات حاصل کريں اور حقوق و خصوصي سہوليت کے حصول کے لئے خصوصيات و صلاحيتيں بنيادي سبب ہو ? يہ امر سياست ميں بھي مدنظر رکھا جائے اور تمام باشندوں کے ووٹ کي اھميت ايک جيسي ہوني چاہيئے اور ايک باشندے اور دوسرے باشندے کے ووٹ ميں اختلاف نہي ہونا چاہيئے ?
آيت الله عيسي قاسم نے وضاحت کي : ھر عاقل و دين دار انسان قومي حس و عقل کے ذريعہ ان دو تفسير کے درميان کا فرق سمجھ جائے گا ? کوٹہ پاليسي سياست کي پہلي تفسير ظلم و دوسروں کے حق کو نظر انداز کرنے کا ا?خري حد ہے اور اسلام ميں برابري ، انسانيت اور شہريت کو ھدف بنا رکھا ہے ، ليکن دوسري تفسير کوٹہ پاليسي سايست سے مقابلہ کو بيان کرتي ہے مسلمان کو مسلمان کا بھائي جانتي ہے عوام کو انساني اقدار و قومي اتحاد قائم کرتي ہے اور اس کو منصافانہ نگاہ سے ديکھتي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے