18 April 2012 - 17:48
خبر کا کوڈ: 3101
فونت
دست دعا : اشھد حسين نقوي
رسا نيوزايجنسي – حوزہ علميہ قم کے محقق نے بيان کيا : روزہ دار بخوبي واقف ہے کہ خود استجابت دعا کي کوشش کرے اوراعمال کي دنيا ميں نيک اعمال انجام دے اور برائيوں سے فاصلہ اختيار کرکے خدا کي رضايت حاصل کرے ?
دعا

حوزہ علميہ قم کے محقق ، حجت الاسلام حسين ديلمي نے رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر سے گفتگو ميں ماہ مبارک رمضان کے دوسرے دن کي دعا کے سلسلے ميں فرمايا : دوسرے دن کي دعا کے پہلے ٹکڑے ميں خداوند متعال سے بندے کي فرياد ہے کہ ھميں اپني بارگاہ کا تقرب عطا کرے ?

انہوں نے بيان کيا : ِخدا کا تقرب تمام انبياع الھي واولياء اللہ کي دلي خواھش ہے ، فرشتے ، علماء اور عارف حضرات کي مراد ہے کيوں کہ مقام قرب الھي بامنزلت مقام ہے اور مقربين بارگاہ الھي کو خدا کے يہاں خاص مقام حاصل ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس محقق نے بيان کيا : مقام تقرب الھي ، دوري وجدائي کے روبرو ومقابل ہے ، ھم جب اھل بيت عليھم السلام کي سيرت اور اپ کے سخن کے ائينے کو روبرو رکھتے ہيں توھميں ملتا ہے کہ خدا کا تقرب اور جو کچھ بھي اس کي رضا کا سبب ہے وہ تمام اپ حضرات کے اطمينان کا باعث ہے اور بہت سارے عارفين و خداترس افراد اس کي بارگاہ سے دوري سے ھميشہ ڈرا کرتے تھے ?

انہوں نے بيان کيا : ضروري ہے کہ بندے کي گفتار ورفتارايسي ہو جس ميں رضا الھي موجود ہو اور غضب الهي کو فراهم کرنے والے تمام اسباب سے کنارہ کشي اختيار کرے اوراگاہ رہے کہ فقط ايک گناہ شيطان کو درگاہ الھي سے نکالنے کا سبب بنا ?

حوزہ علميہ قم کے اس محقق نے بيان کيا : روزہ دار بخوبي واقف ہے کہ خود اپني دعا کي استجابت کيلئے کوششيں کرے اوراعمال کي دنيا ميں نيکيوں پر عمل کرکے اور برائيوں سے فاصلہ اختيار کرکے خدا کي رضايت حاصل کرے ?

انہوں نے بيان کيا : روايات ميں آيہ « يا ايها النفس المطمئنه » کا ايک مصداق امام حسين عليہ السلام کو بيان کيا گيا ہے کيوں کہ اپ نے اپني جان دے کر خدا کي رضايت خريد لي ?

حوزہ علميہ قم کے اس محقق نے بيان کيا : ھميں اپنے معاشرے اورگھرانے ميں اس طرح پيش انا چاھئے کہ رضايت الھي کا ميعار قرار پائے ?

انہوں نے ائمہ معصوم عليھم السلام سے روايت نقل کرتے ہوئے کہا : واجبات کي انجام دھي ميں خدا کي رضايت پنہاں ہے يعني ھر مسلمان واجبات کے انجام دينے ميں رحمت خدا کو بدست لانے کي کوشش ميں ہے اور اس لحاظ سے کہ گناہ منفور بارگاہ الھي ہے اسے پس پردہ انجام دينے ميں بھي کوئي فرق نہي ?

انہوں نے بيان کيا : درگاہ الھي سے دوري اتنا زيادہ تکليف دہ ہے کہ اميرالمومنين علي عليہ السلام نے دعا کميل ميں فرمايا : خدايا ميں تيرے عذاب پر تو صبر کرسکتا ہوں مگر تيرے فراق کو کيسے برداشت کروں ?

حجت الاسلام حسين ديلمي نے مزيد فرمايا : دعا پہلا قدم ہے کيوں انسان اپنے مطالبے سے باخبر ہوا ہے اور جب خدا کي مدد مل گئي تو اسے بروے کار لانے کي کوشش کرے اوراعمال صالح کے ذريعہ رحمت الھي کو خود سے قريب کرے ?

حوزہ علميہ قم کے اس محقق نے بيان کيا : جو کوئي بھي خدا پرست افراد کے ساتھ ساتھ اور الھي فضا سے مانوس ہو خدا سے تقرب کي علامت ہے ?

اپ نے فرمايا : دوسري رمضان کي دعا ميں خدا وند متعال سے ھماري التجا ہے کہ ھميں تلاوت قران کريم کي توفيق عطا کرے اور اس سلسلے ميں ائمہ معصومين عليھم السلام کي سيرت طيبہ ملحوظ نظر رہني چاھئے ?

حوزہ علميہ قم کے اس محقق نے بيان کيا : منقول ہے کہ امام رضا عليہ السلام ھر تين دن ميں ايک قران ختم کرتے تھے اور ايات بہشت وجہنم کي تلاوت کے وقت دست بہ دعا ہوتے تھے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬