08 August 2011 - 15:24
خبر کا کوڈ: 3111
فونت
سيد مقتدي صدر :
رسا نيوز ايجنسي ـ صدر تحريک عراق کے رہنما نے تاکيد کي کہ قابض فوج ميں سے کوئي بھي عراق ميں فوج کي تربيت کے لئے بھي اگر رکے گا تو اس سے فوجي مقابلہ کيا جائيگا ?
سيد مقتدي صدر

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق صدر تحريک عراق کے رہنما حجت الاسلام سيد مقتدي صدر نے اپنے ايک پيغام ميں کچھ امريکي فوجيوں کي اس ملک ميں عراقي سيکورٹي فورس کي تربيت کے بہانے سے مزيد موجودگي پر شديد انتباہ کيا ہے ?

اس پيغام ميں بيان کيا گيا ہے : امريکي فوجيوں ميں سے جو بھي عراق ميں رکے گا وہ غاصب اور قابض ہے اور اس سے فوجي مقابلہ کرنا واجب ہے ? اور جو حکومت امريکي کو تربيت کے عنوان سے اس ملک ميں موجود رہنے کي طرفداري کرتي ہے وہ کمزور حکومت ہے ?

يہ پيغام اس وقت بيان کيا گيا ہے کہ جب بغداد اور واشنگٹن کے درميان سن ???? ميں سيکورٹي معاہدہ پر دستخط ہوا ہے کہ غاصب امريکي فوج پر لازم کيا گيا ہے کہ سال جاري ???? کے تمام ہونے تک وہ عراق کو پوري طور سے خالي کر ديں ، ليکن امريکيوں نے سوچا بھي نہي تھا کہ عراق کي حکومت اور پارليہ مينٹ اس کام کے لئے سخت دباؤ ڈالے گي ، اس وقت عراقي حکومت اور سياسي پارٹيوں پر سخت دباؤ ڈالي جا رہي ہے کہ اس ملک ميں امريکي فوج کي موجودگي کي مدت ميں اضافہ کيا جائے ?

سيد مقتدي صدر نے ھميشہ کي طرح ابھي بھي غاصبوں کو عراق سے چلے جانے پر زور ديتے ہوئے کچھ لمحہ قبل عراق پر قبضہ کي ا?ٹھويں سال کي مناسبت سے يہ پيغام بيان کيا اور غاصبوں کي مدت ميں اضافہ کرنے کي بات پر شديد تنقيد کرتے ہوئے غاصبوں کي موجودگي پر امريکيوں کے ساتھ مسلحانہ مقابلہ کي تاکيد کي ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬