آيت الله سبحاني :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جعفر سبحاني مدرسہ علميہ حجتيہ ميں ظہر کي نماز کے بعد اپنے سلسلہ وار سوره صف کي تفسير کے درس ميں طلاب کے درميان بيان کيا : حضرت عيسي عليہ السلام اس ا?يہ ميں خود کو خدا کا رسول اور توريت کي تصديق کرنے والا اور حضرت محمد صل الله عليہ وآلہ و سلم کي بشارت دينے والا بتايا ہے ?
انہوں نے اس بيان کے ساتھ کہ توريت حضرت موسي عليہ السلام کے زمانہ کا ہے جو حضرت عيسي عليہ السلام کے زمانہ ميں تحريف ہوا تھا اظہار کيا : حضرت عيسي (ع) فرماتے ہيں کہ توريت جو ميرے پاس ہے اس کي تصديق کرتا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پاس جو توريت تھا وہ تحريف سے محفوظ تھا ?
مرجع تقليد نے اس اشارہ کے ساتھ کہ بعض لوگ کہتے ہيں کہ يہ اجمالي تصديق ہے ، کہا : شايد ان کا مقصد يہ ہے کہ اجمالي طور پر اس کي تصديق کي ہے نہ ايک ايک ا?يت کي اسي طرح کے ھمارے پيغمبر (ص) نے بھي توريت و انجيل کي تصديق کي ہے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے جس کے ا?نے کي بشارت حضرت عيسي (ع) ديں ان کا مقام بلند اعلي جانا ہے اور وضاحت کي : جس شخص کے ا?مد کي بشارت خدا کا پيغمبر دے حتما اس کي شخصيت و منزلت بلند ہے اور وہ خاتم النبين ہے ?
انہوں نے اس اشارہ کے ساتھ کہ انبياء کو کبھي اوصاف کے ساتھ يا کبھي نام کے ساتھ لوگوں کے درميان پہچنوايا گيا ہے کہا : اس ا?يہ ميں پيغبر کو ان کے نام کے ساتھ پہچنوايا گيا ہے اور سورہ اعراف کے ??? ا?يہ ميں رسول اکرم کو ان کے صفات کے ذريعہ پہچنوايا گيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے