14 August 2011 - 14:02
خبر کا کوڈ: 3131
فونت
آيت الله مصباح يزدي :
رسا نيوز ايجنسي ـ امام خميني (ره) تعليم و تربيت ادارہ کے صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جوانوں کا اپنے باپ پر افراط کے حد تک انحصار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : دوسروں کے مال کي لالچ يہاں تک کہ اپنے باپ کے مال پر ہي کيوں نہ ہو انسان کو ذلت کي طرف لے جاتي ہے اور يہ اسلامي اعزت کے مطابق نہي ہے ?
آيت الله مصباح يزدي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق آيت الله محمد تقي مصباح يزدي نے گذشتہ شب حسينيه امام خميني (ره) قم ايران ميں اپنے اخلاقي بيان کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے امام باقر عليه اسلام نے حرص کے بعد لالچ کے بحث کو بيان کيا ہے اس کي دليل بيان کرتے ہوئے کہا : حرص اور لالچ کے درميان رابطہ زيادہ پائے جاتے ہيں اور حرص کا زيادہ ہونا ممکن ہے لالچ پر ختم ہو ?

انہوں نے حرص کے معني کو ھر چيز ميں زيادہ طلبي جانا ہے اور کہا : اس کے باوجود کہ ھر جگہ زيادہ طلبي قابل مذمت نہي ہے ليکن ھمارے اخلاقي ثقافت ميں حرص دنيا اور مادي امور ميں جانا جاتا ہے ?

حوزہ علميہ ميں اخلاق کے اس استاد نے وضاحت کي : حرص انسان کو اس جگہ لے جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے مال پر قانع نہي ہوتا ہے اور اس فکر ميں رہتا ہے کہ بغير زحمت کے دوسروں کے مال سے استفادہ کرے اور مکاري و سازش کے ذريعہ دوسرے کے مال کو ھڑپ لے ?

امام خميني (ره) تعليم و تربيت ادارہ کے صدر نے روحي و نفساني ضرورتوں ميں سے ايک کو انساني استقلال جانا ہے اور اظہار کيا : يہان تک کہ دو سال کا چھوٹا بچہ جو صحيح سے راستہ نہي چل سکتا وہ بھي اپنے باپ کا ہاتھ چھوڑ ديتا ہے يہ اس بات کي علامت ہے کہ سب استقلال کے ضرورت مند ہيں اور لالچ اس کے مقابل کي چيز ہے کوشش کرو کہ دو سالہ چھوٹے بچہ سے کم نہ رہو ?

آيت الله مصباح يزدي نے امام محمد باقر عليہ السلام کي ايک رويت کو اس طرح بيان کيا : حضرت فرماتے ہيں تم ذاتا عزت و بے نيازي کا طالب ہو اور اگر چاہتے ہو کہ تمہارے اندر يہ عزت باقي رہے تو لالچ کے احساس کو اپنے اندر سے مار دو ورنہ شيطان کے ذريعہ ذليل ہو جاؤ گے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬