آيت الله مصباح يزدي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق آيت الله محمد تقي مصباح يزدي نے گذشتہ شب حسينيہ امام خميني (ره) قم ايران ميں اپنے اخلاقي بيان کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے امام محمد باقر عليه اسلام کي روايت کي تفسير ميں کہا : وہ ا?فت جو انسان کو شيطان کے چنگل ميں گرفتار کرتا ہے وہ عجب و خود پسندي ہے ?
انہوں نے حب ذات کو تمام زندہ موجودات کے لئے طبيعي جانا اور وضاحت کي : بعض وقت انسان خود کو گنہگاروں کے ساتھ مقايسہ کرتا ہے اور ا?ہستہ ا?ہستہ خود کو بعض ان لوگوں سے جو اھل عبادت ہيں اور ان ميں لغزش بھي پائي جاتي ہے خود کو اعلي ديکھتا ہے اور شيطان اس کي اچھائي کو اس کے سامنے کرتا ہے اور وہ خود کو بڑا سمجھتا ہے اور عجب کا شکار ہو جاتا ہے ?
حوزہ علميہ ميں اخلاق کے اس استاد نے وضاحت کي : اگر شخص متوجہ ہو تو سمجھ جائے گا کہ تمام نعمتيں و عبادتيں و اچھائياں خداوند عالم کے کرم سے ہے اور نعمتيں جتني زيادہ ہوگي خدا کا حق زيادہ ہي ہوگا اس لئے خدا کا زيادہ شکر گزار ہونا چاہيئے ? افسوس کي بات ہے اس طرح کے لوگ کم پائے جاتے ہيں ?
امام خميني (ره) تعليم و تربيت ادارہ کے صدر نے عجب کو غرور کے ساتھ جانا ہے اور کہا : اگر کوئي شخص غرور ميں گرفتار ہو گيا ہے تو وہيں سے جہنم کي طرف چلا جائے گا کيونکہ غرور انسان کو کفر کي طرف لے جاتا ہے ?
آيت الله مصباح يزدي نے عجب سے رہائي کا علاج اپنے اندر کے نقائص اور شناخت کي طرف توجہ دينا جانا ہے اور اظہار کيا : انسان کے لئے ايک حد تک جائز ہے اپني امتيازات کو جانے تا کہ خدا کے نعمتوں کا شکر کر سکے اور اپنے بارے ميں فکر کرے کے کہاں سے ا?يا ہے ؟ اور اس کا انجام کيا ہو گا ؟ تو خود پسندي سے نجات پا سکتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے