آيت الله مصباح يزدي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق آيت الله محمد تقي مصباح يزدي نے گذشتہ شب حسينيہ امام خميني (ره) قم ايران ميں اپنے اخلاقي بيان کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے ا?يہ شريفہ « لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي کَبَدٍ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنيا کي زندگي مشکلات اور مشقت کے ساتھ ہے ? مادي نکتہ نظر سے يہ مشکلات ضروري ہے اور اس کو قبول کرنا بھي ضروري ہے ?
انہوں نے وضاحت کي : توحيدي نگاہ ميں زندگي کي مشکلات عقلاني تفسير کے ساتھ ہے ? يہ زندگي ا?خرت کي بنياد ہے اور مختلف امتحانات کے ساتھ صلاحيتيں پرکھي جاتي ہيں ? پھر اس اھم امتحان ميں مبتلا ہونا مشکلات اور اچھائيوں کے ساتھ ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں اخلاق کے اس استاد نے دنيا کو حاملہ کے زمانہ سے تعبير کيا ہے اور بيان کيا : يہ دنيا بنياد ہے انسان کے نمو کا عالم ابدي و ا?خرت ميں پيدا ہونے کا مگر اس ولادت اور دنيا ميں ولادت کا فرق يہ ہے کہ دنيا ميں ولادت پانے ميں رشد و نمو ميں انسان کے اختيار ميں کچھ نہي ہے مگر اس دنيا سے ا?خرت ميں رشد و نمو پانے کے لئے انسان مختار ہے اس دنيا ميں اصل کردار خود انسان کا ہے وہ خود کو تيار کرے ا?خرت کے لئے ?
امام خميني (ره) تعليم و تربيت ادارہ کے صدر نے امام محمد باقر عليہ السلام کي روايت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : حضرت نفس کي راحت کو صحت تفويض ميں جانتے ہيں ? يعني شخص توحيد پر اعتقاد کے ساتھ اپني ذمہ داريوں پر عمل کرے اور اپنے کام کے ثمرہ کو خدا پر چھوڑ دے ، نہ يہ کہ سستي يا کاھلي کے بنا پر اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے