آيت الله سبحاني :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جعفر سبحاني مرجع تقليد نے رمضان کے مبارک مہينہ ميں قرا?ن کريم کے جلسہ تفسير ميں جو مجتمع آموزش عالي فقہ قم ايران ميں منعقد ہوئي کہا : قرا?ن کے اصطلاح ميں منافق وہ ہے کہ جو ظاھر ميں مسلمان ہے ليکن اپنے دل ميں کفر کي حفاظت کرتا رہتا ہے ?
انہوں نے مکہ ميں مسلمانوں کي اقليت اور کفار کي اکثريت کے پيش نظر پيغمبر سے نفاق کو بے معني جانا ہے اور وضاحت کي : ليکن مدينہ کے حالات بدل چکے تھے اور اوس و خزرج قبيلہ کے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے تھے يہاں تک کہ يھودي بھي مسلمان ہو گئے تھے اور کچھ لوگ اپنے دل سے بت کي محبت نہي نکال سکے تھے اور ايک طرف نہي چاہتے تھے کہ قبيلہ سے جدائي کا سامنا کرنا پرے اس بنا نفاق اختيار کرنے پر مجبور تھے ?
مرجع تقليد اس توجہ کے ساتھ کہ قرا?ن کريم ميں چودہ سورہ منافقين کے موضوع ميں بيان کيا گيا ہے کہا : يہ تمام سوريں مدينہ ميں نازل ہوئي ہيں اور ان سوروں ميں اس کا کئي مرتبہ تکرار بيان کر رہا ہے کہ اس زمانہ کے مدينہ ميں نفاقي کا چينل مضبوط تھا ?
حوزہ علميہ قم ميں خارج فقہ کے استاد نے نفاق کو لغت ميں زمين يا پہاڑ ميں جو سرنگ کھودا جاتا ہے اس معني ميں بيان کيا اور کہا : ايک جانوار پايا جاتا ہے جو اپنے گھروں ميں دو سوراخ بناتا ہے ايک دروازہ واضح ہوتا ہے اور دوسرے دروازہ کو فاصلہ کے ساتھ پوشيدہ بناتا ہے کہ خطرہ کے وقت فرار کر سکے ، قرا?ن اس لغت کو کنايہ کے طور پر منافق کے لئے استعمال کيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے