آيت الله مصباح يزدي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق آيت الله محمد تقي مصباح يزدي نے گذشتہ شب حسينيہ امام خميني (ره) قم ايران ميں رمضان المبارک کے اپنے اخلاقي بيان کے سلسلہ کے ا?خري جلسہ ميں کہا : امير المومنين عليہ السلام اپنے روايت کے ا?خر ميں شک کي بھي چار قسم کي ہے اور فرمايا ہے کہ اس ميں سے ھر ايک انسان کے ايمان کو متزلزل کرتا ہے ?
انہوں نے ان ميں سے ايک خصوصيت انسان کے روح کو کسي بھي عمل کے مسلسل انجام دہي سے مانوس ہو جانا جانا ہے اور وضاحت کي : انسان کا روح اس طرح ہے کہ جو عمل بھي بار بار انجام ديا جائے اس کا عادي ہو جاتا ہے ، جب انسان برے عمل کا عادي ہو جائے گا تو وہ دھيرے دھيرے صحيح راستہ سے منحرف ہو کر گمراہ ہو جائے گا ?
حوزہ علميہ ميں اخلاق کے اس استاد نے شکاکيت کو جدل کا ايک نتيجہ جانا ہے اور اظہار کيا : شک کي پہلي شاخ يہ ہے کہ انسان دوسروں کي بات کو رد کرنے کي تمرين کي بنا پر سفسطہ کا شکار ہوتا ہے اس کے نتيجہ ميں وہ شک ميں مبتلي ہو جاتا ہے ، اميد نہي ہے کہ يہ لوگ ايمان حاصل کر پائے نگے ? حضرت نے فرمايا جو شخص اس کام کا عادي ہو جاتا ہے اس کي رات صبح ميں تبديل نہي ہوتي يعني اس تاريکي سے روشني تک نہي پہوچتا ?
آيت الله مصباح يزدي نے شک کے دوسري قسم کے سلسلہ ميں کہا : وہ لوگ ہيں جو کسي بھي مسائل کو فورا قبول کر ليتے ہيں اور خود کو اس کي تفتيش و تحقيق اور حقيقت کے حصول کي زحمت نہي ديتے اور اپنے ذھن کے سوال کو خالي چھوڑ ديتے ہيں اور دھيرے دھيرے شک ميں مبتلي ہو جاتے ہين اور کسي مقصد تک نہي پيوچ پاتے ?
انہوں نے اس ا?يہ « إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُکَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ » کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : جو لوگ پيغمبر (ص) سے جہاد ميں نہ جانے کے لئے اجازت چاہتے تھے خداوند عالم نے فرمايا « يہ لوگ خدا اور قيامت پر ايمان نہي رکھتے اور ان کے دل ميں شک پايا جاتا ہے اور يہ خود ميں پھسے ہوئے ہيں » ? يعني ايک ذھني وسوسہ کے شکار ہيں اور وہ فيصلہ کي صلاحيت نہي رکھتے اور خود کو مطمئن نہي کر سکتے ?
حوزہ علميہ کے اس استاد نے وضاحت کي امام علي عليہ السلام فرماتے ہيں جو شک کے تيسرے قسم ميں مبتلي ہوتا ہے وہ دو چيزوں کے درميان فيصلہ ميں شک کرتا ہے ، اپنے ذہن کے استحکام کو کھو ديتا ہے اور اس ا?مد و رفت ميں شيطان اس پر حملہ کرتا ہے اور اس کو اپنے پيروں سے کچل ديتا ہے يہ فکري وسوسہ پر ملکہ کا نتيجہ ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے