10 September 2011 - 11:52
خبر کا کوڈ: 3195
فونت
بحرين ميں شيعوں کے رہنما :
رسا نيوز ايجنسي ـ بحرين ميں شہر دراز کے خطيب جمعہ عربي ممالک ميں لوگوں کے اعترض کو حکام عرب کا پاگل ہونے کا سبب جانا ہے ?
آيت الله شيخ عيسي قاسم

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے خطيب جمعہ آيت الله شيخ عيسي قاسم نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ ميں جو شہر دراز کے مسجد امام صادق (ع) ميں منعقد ہوئي عربي ممالک ميں کشيدگي و افراتفري کو اس ملک کي سياسي پاليسيوں کي بنا پر قدرتي جانا ہے اور کہا : جو معاشرہ ظالم و مظلوم ، چور و ڈاکو اور مال کھوئے ہوئے لوگ ، کامياب اور ناکام ، مطمئن و پريشان ، امير اور محروم ميں تقسيم ہوتا ہے اس ميں تنازعہ اور جھگرا کا ہونا لازمي ہے اور اس وقت دنيا کے بہت سارے ممالک اس تقسيم کي بنا پر اور دين و اخلاقي اقدار کے نہ ہونے کي وجہ سے تنازعہ و مشکلات کا سامنا کر رہي ہيں ?

انہوں نے وضاحت کي : عربي معاشرہ بہت ہي المناک حالت ميں اس تقسيم کا سامنا کر رہي ہے اور بہت ہي جلد اس وقت دنيا کے تمام ممالک ميں منتقل ہو رہي ہے اور استبدادي حکومت جو ذرہ برابر بھي عوام کي اھميت کي طرف توجہ نہي ديتي اور زمين و مال اور لوگوں کے جان کو اپني جائيداد سمجھتے ہيں اور شہريوں کے حق کي کوئي اھميت نہي ديتے ہيں وہ اس تقسيم کا بہت استقبال کرتے ہيں اور جو لوگ بھي اس حالت کي مخالف کرتے ہيں ان کو سزا کا حق دار جانتے ہيں ?

آيت الله عيسي قاسم نے وضاحت کي : يہ رجحان ابھي قائم نہي ہوا ہے بلکہ پہلے سے پايا جاتا تھا اور عربي ممالک ميں بھي قائم رہا ہے ? ماضي ميں اسلامي امت ظلم و لوٹ مار، عصمت دري، بے عزتي، وقار کي توھين اور حکومت کي طرف سے کنارہ گيري کي عادت کر چکي ہے اور مسلم مخالف پاليسيوں کي وجہ سے حکام کے فکر ميں تنزلي، ذھني ناکامي و اعتماد بہ نفس کا ختم ہونا اور دين ميں تحريف اور حکاموں نے خود کو ظالم کے سامنے جھکا ديا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬