آيت الله سبحاني نے بيان کيا ؛

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جعفر سبحاني مرجع تقليد نے گذشتہ شب مدرسہ عالي تفسير قم ايران ميں تعليمي سال کے ا?غاز کي مناسبت سے تقريب ميں ?? ھجري ميں تفسير کي کارکردگي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کيا : مغول کے حملہ کے بعد تفسير بے توجہي کا شکار ہو گئي ليکن ?? صدي ميں اسلامي بيداري نے بے توجہي کي اس کمي کو پوري کي ?
انہوں نے بيان کيا : سيد جمال الدين اسد آبادي کے زمانہ سے الازھر اور شيعوں کے درميان قرا?ن کي طرف توجہ زيادہ ہونے لگي اور ا?ہستہ ا?ہستہ ايران، عراق، شام و مصر ملکوں ميں تفسير نگاري شروع ہوئي جو مناسب و خاص زمان و مکان تھا ?
حضرت آيت الله سبحاني نے اس بيان کے ساتھ کہ قرا?ن مجيد کسي ايک خاص زمان سے مخصوص کتاب نہي ہے کہا : قرا?ن کا تعلق تمام صديوں سے ہے اور مسلمانوں کو چاہيئے اس کتاب کے ذريعہ اپنے روز کي مشکلات و درد کو اس کے حکم کے مطابق عمل کر کے علاج کريں ?
انہوں نے اس بيان کے ساتھ کہ قرا?ن کي زبان عربي ہے کہا : تفسير قرا?ن کريم کے مفسر و مربي سب سے پہلے صرف و نحو و عربي پر مھارت رکھتے ہوں کيونکہ قرا?ن کو سمجھنے کے لئے يہ دو چابھي اور تفسير کي بنياد ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے