اقوم متحدہ کے جنرل سيکريٹري نے اپيل کي :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق اقوم متحدہ کے جنرل سيکريٹري بان کي مون نے سوئٹزرلينڈ ميں کہا : فلسطين و صہيوني حکومت کے درميان قيديوں کے رد و بدل جس ميں ???? اسير فلسطين کے بدلہ ايک صہيوني فوج ا?زاد ہوگا کو سبب جانا ہے کہ يہ خاورميانہ ميں صلح کے حالت پيدا ہونے کے لئے مثبت او اچھا قدم ہے ?
انہوں نے وضاحت کي : غزہ کي عوام کي حالت اچھي نہي ہے اور اميد کرتا ہوں کہ غاصب قدس صہيوني حکومت غزہ سے محاصرہ کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھاے گا ?
انہوں نے بيان کيا : فلسطني قيدي انساني حقوق کي خلاف ورزي کا سامنا کر رہے ہيں اور ان کو حراساں ، تشدد و اذيت کي سختي سے گزرنا پر رہا ہے ?
قابل ذکر ہے کہ غزہ کا محاصرہ سن ???? سے شروع ہوا ہے اور بين الاقوامي تنظيموں، امداد اور غير ملکي صحافيوں کے لئے بھي ان کي سرحدوں کو بند کر ديا گيا ہے ?
صہيوني حکومت مختلف بہانہ سے اکثر اس علاقہ پر بمباري کرتا ہے اور اس علاقہ کے باشندوں کي حالت بہتر نہي ہے ان کي زندگي کي بنيادي ضرورت بھي پوري نہي ہو رہي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے