05 November 2012 - 18:00
خبر کا کوڈ: 3390
فونت
سيد اشھد حسين نقوي:
علامہ مجلسي تحريرفرماتے ہيں کہ جب آپ بطن مادرميں ائے تو آباؤ و اجداد کي طرح آپ کے گھرميں آوازغيب آنے لگي اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کي آوازيں آنے لگيں اورشب ولادت ايک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد اپ نے قبلہ رخ ہو کرآسمان کي طرف رخ اٹھا کرکچھ فرمايا : اورحضرت آدم عليہ السلام کے مانند تين بار چھينکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے، ايک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ، ناف بريدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے? 2
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام


اپ کا اسم گرامي ، کنيت اور القاب ؛

آپ کا اسم گرامي ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کي تعيين کے موافق ”محمد“ رکھا گيا ? آپ کي کنيت ”ابوجعفر“ اورآپ کے القاب کثير ہيں ، جن ميں باقر،شاکر،ہادي زيادہ مشہورہيں ? 3

باقر کي وجہ تسميہ ؛

باقر، عربي کے زبان کلمہ بقرہ سے مشتق ہے اوراسي کا اسم فاعل ہے اس کے معني شق کرنے اور وسعت دينے کے ہيں? 4 ?حضرت امام محمد باقرعليہ السلام کواس لقب سے اس لئے ملقب کيا گيا تھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونماياں فرمايا اورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرما دئيے جو لوگوں پرظاہر و ہويدا نہ تھے? 5

جوہري نے اپني صحاح ميں لکھا ہے کہ ”توسع في العلم“ کو بقرہ کہتے ہيں، اسي لئے امام محمد بن علي کوباقرسے ملقب کيا جاتا ہے ،علامہ سبط ابن جوزي کا کہنا ہے کہ کثرت سجود کي وجہ سے چونکہ آپ کي پيشاني وسيع تھي اس ليے آپ کو باقرکہا جاتا ہے اورايک وجہ يہ بھي ہے کہ جامعيت علميہ کي وجہ سے آپ کو يہ لقب ديا گيا ہے ،شہيد ثالث علامہ نوراللہ شوشتري کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمايا ہے کہ امام محمد باقرعلوم ومعارف کو اس طرح شگافتہ کر ديں گے جس طرح زراعت کے ليے زمين شگافتہ کي جاتي ہے? 6

بادشاہان وقت ؛

آپ 57 ھ ميں معاويہ بن ابي سفيان کے عہد ميں پيدا ہوئے ? 60 ھ ميں يزيد بن معاويہ بادشاہ وقت رہا، 64 ھ ميں معاويہ بن يزيداورمروان بن حکم بادشاہ رہے 65 ھ تک عبدالملک بن مروان خليفہ وقت رہا ? پھر 86 ھ سے 96 ھ تک وليد بن عبدالملک نے حکمراني کي، اسي نے 95 ھ ميں آپ کے والد ماجد کو درجہ شہادت پرفائز کر ديا، اسي 95 ھ سے آپ کي امامت کا آغاز ہوا، اور 114 ھ تک آپ فرائض امامت ادا فرماتے رہے، اسي دور ميں وليد بن عبدالملک کے بعد سليمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزيز، يزيد بن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک بادشاہ وقت رہے ? 7

واقعہ کربلا ميں امام محمد باقر عليہ السلام کي شرکت ؛

آپ کي عمرابھي ڈھائي سال کي تھي، کہ آپ کوحضرت امام حسين عليہ السلام کے ہمراہ وطن عزيزمدينہ منورہ چھوڑنا پڑا،پھرمدينہ سے مکہ اور وہاں سے کربلا تک کي صعوبتيں سفر برداشت کرنا پڑي اس کے بعد واقعہ کربلا کے مصائب ديکھے، کوفہ وشام کے بازاروں اوردرباروں کا حال ديکھا ايک سال شام ميں قيد رہے، پھروہاں سے چھوٹ کرايک روايت کے مطابق 8 ربيع الاول 62 ھ کو مدينہ منورہ واپس ائے?

جب آپ جب چارسال کے ہوئے تو ايک دن کنويں ميں گرگئے ، ليکن خدا باعجاز خداوند متعال جب آپ کو پاني سے نکالا گيا تو آپ کے کپڑے تک نہ بھيگے تھے ? 8

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام اور جابربن عبداللہ انصاري کي باہمي ملاقات

يہ مسلمہ حقيقت ہے کہ حضرت امام محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپني ظاہري زندگي کے اختتام پرامام محمد باقرکي ولادت سے تقريبا 46 سال قبل جابر بن عبداللہ انصاري کے ذريعہ سے امام محمد باقرعليہ السلام کو سلام کہلايا تھا، امام عليہ السلام کا يہ شرف اس درجہ ممتاز ہے کہ آل محمد ميں سے کوئي بھي اس کي ہمسري نہيں کرسکتا . 9

مورخين کا بيان ہے کہ سرورکائنات ايک دن اپني آغوش مبارک ميں حضرت امام حسين عليہ السلام کو لئے ہوئے پيارکر رہے تھے? ناگاہ آپ کے صحابي خاص جابربن عبداللہ انصاري حاضرہوئے حضرت نے جابرکو ديکھ کر فرمايا ،اے جابر!ميرے اس فرزند کي نسل سے ايک بچہ پيدا ہو گا جوعلم وحکمت سے بھرپور ہو گا،اے جابرتم اس کا زمانہ پاؤ گے،اوراس وقت تک زندہ رہو گے جب تک وہ سطح ارض پرنہ آ جائے ?

اے جابر! ديکھو، جب تم اس سے ملنا تو اسے ميرا سلام کہہ دينا، جابر نے اس خبراوراس پيشين گوئي کو کمال مسرت کے ساتھ سنا،اور اسي وقت سے اس بہجت آفرين ساعت کا انتظار کرنا شروع کرديا،يہاں تک کہ چشم انتظار پتھرا گئيں اورآنکھوں کا نورجاتا رہا?

جب تک آپ بينا تھے ہرمجلس ومحفل ميں تلاش کرتے رہے اورجب نورنظرجاتا رہا توزبان سے پکارنا شروع کرديا،آپ کي زبان پرجب ہر وقت امام محمد باقرکا نام رہنے لگا تولوگ يہ کہنے لگے کہ جابرکا دماغ ضعف پيري کي وجہ سے ناکارہ ہو گيا ہے ليکن بہرحال وہ وقت آ ہي گيا کہ آپ پيغام احمدي اورسلام محمدي پہنچانے ميں کامياب ہوگئے? راوي کا بيان ہے کہ ہم جناب جابرکے پاس بيٹھے ہوئے تھے کہ اتنے ميں امام زين العابدين عليہ السلام تشريف لائے، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند امام محمد باقرعليہ السلام بھي تھے، امام عليہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند سے فرمايا کہ چچا جابربن عبداللہ انصاري کے سر کا بوسہ دو ،انہوں نے فورا تعميل ارشاد کيا،جابر نے ان کو اپنے سينے سے لگا ليا اور کہا کہ ابن رسول اللہ آپ کو آپ کے جد نامدارحضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے سلام فرمايا ہے?

حضرت نے کہا! اے جابر ان پراورتم پرميري طرف سے بھي سلام ہو،اس کے بعد جابربن عبداللہ انصاري نے آپ سے شفاعت کے ليے ضمانت کي درخواست کي، آپ نے اسے منظورفرمايا اورکہا کہ ميں تمہارے جنت ميں جانے کا ضامن ہوں ? 10

علامہ محمد بن طلحہ شافعي کا بيان ہے کہ آنحضرت نے يہ بھي فرمايا تھا کہ ”ان بقائک بعد رويتہ يسير“ کہ اے جابر! ميرا پيغام پہنچانے کے بعد بہت تھوڑا زندہ رہو گے چنانچہ ايسا ہي ہوا ? 11

سات سال کي عمرميں امام محمد باقر کا خانہ کعبہ کو حج کيلئے جانا ؛

علامہ جامي تحريرفرماتے ہيں کہ راوي بيان کرتا ہے کہ ميں حج کے ليے جا رہا تھا،راستہ پرخطر اور انتہائي تاريک تھا جب ميں لق ودق صحرا ميں پہنچا تو ايک طرف سے کچھ روشني کي کرن نظرآئي ? ميں اس کي طرف ديکھ ہي رہا تھا کہ ناگاہ ايک سات سال کا لڑکا ميرے قريب آ پہنچا،ميں نے سلام کا جواب دينے کے بعد اس سے پوچھا کہ آپ کون ہيں؟ کہاں سے آ رہے ہيں اورکہاں کا ارادہ ہے، اورآپ کے پاس زاد راہ کيا ہے؟ اس نے جواب ديا، سنو ميں خدا کي طرف سے آرہا ہوں اورخدا کي طرف جا رہا ہوں، ميرا زاد راہ ”تقوي“ ہے ? ميں عربي النسل ،قريشي خاندان کا علوي نزاد ہوں،ميرا نام محمد بن علي بن الحسين بن علي بن ابي طالب ہے، يہ کہہ کر وہ دونوں سے غائب ہو گئے اورمجھے پتہ نہ چل سکا کہ آسمان کي طرف پرواز کر گئے يا زمين ميں سما گئے ? 12

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام اور اسلام ميں سکے کي ابتدا

مورخ شہيرذاکرحسين تاريخ اسلام جلد 1 ص 42 ميں لکھتے ہيں کہ عبدالملک بن مروان نے 75 ھ ميں امام محمد باقرعليہ السلام کے مشورے سے اسلامي سکہ جاري کيا? اس سے پہلے روم و ايران کا سکہ اسلامي ممالک ميں بھي جاري تھا?

اس واقعہ کي تفصيل علامہ دميري کے حوالہ سے يہ ہے کہ ايک دن علامہ کسائي سے خليفہ ہارون رشيد عباسي نے پوچھا کہ اسلام ميں درہم و دينار کے سکے، کب اورکيونکر رائج ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجرا خليفہ عبدالملک بن مروان نے کيا ہے ليکن اس کي تفصيل سے ناواقف ہوں اورمجھے نہيں معلوم کہ ان کے اجراء اور ايجاد کي ضرورت کيوں محسوس ہوئي، ہارون الرشيد نے کہا کہ بات يہ ہے کہ سابقہ دور ميں جو کاغذ وغيرہ ممالک اسلاميہ ميں مستعمل ہوتے تھے وہ مصرميں تيار ہوا کرتے تھے جہاں اس وقت نصرانيوں کي حکومت تھي ، اور وہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب بر تھے وہاں کے کاغذ پرجو ضرب يعني (ٹريڈ مارک) ہوتا تھا، اس پر رومي زبان ميں (اب،ابن،روح القدس لکھا ہوا تھا ،فلم يزل ذلک کذالک في صدرالاسلام کلہ بمعني علوما کان عليہ ،الخ)?

اوريہي چيز اسلام ميں جتنے دور گزرے تھے سب ميں رائج تھي يہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کا زمانہ آيا، توچونکہ وہ بڑا ذہين اور ہوشيار تھا،لہذا اس نے ترجمہ کرا کے گورنر مصرکو لکھا کہ تم رومي ٹريڈ مارک کو موقوف و متروک کر دو،يعني کاغذ ،کپڑے وغيرہ جو اب تيارہوں ان ميں يہ نشانات نہ لگنے دو بلکہ ان پريہ لکھوا دو ”اشہد ان لا اللہ الا ہو“ چنانچہ اس حکم پرعمل درآمد کيا گيا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کا جن پر کلمہ توحيد ثبت تھا، رواج پايا تو قيصر روم کو بے انتہا ناگوار گزرا ? اس نے تحفہ تحائف بھيج کرعبدالملک بن مروان خليفہ وقت کولکھا کہ کاغذ وغيرہ پرجو”مارک“ پہلے تھا وہي بدستورجاري کرو،عبدالملک نے ہدايا لينے سے انکارکرديا اورسفيرکو تحائف و ہدايا سميت واپس بھيج ديا اوراس کے خط کا جواب تک نہ ديا? قيصر روم نے تحائف کو دوگنا کرکے پھربھيجا اورلکھا کہ تم نے ميرے تحائف کو کم سمجھ کر واپس کرديا،اس ليے اب اضافہ کرکے بھيج رہا ہوں، اسے قبول کرلو اورکاغذ سے نيا”مارک“ ہٹا دو? عبدالملک نے پھر ہدايا واپس کرديا اور پہلے کي طرح کوئي جواب نہيں ديا ? اس کے بعد قيصرروم نے تيسري مرتبہ خط لکھا اورتحائف و ہدايا بھيجے اورخط ميں لکھا کہ تم نے ميرے خطوط کے جوابات نہيں دئيے ،اورنہ ميري بات قبول کي، اب ميں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرتم نے اب بھي رومي ٹريڈ مارک کو ازسرنو رواج نہ ديا اورتوحيد کے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے توميں تمہارے رسول کو گالياں،سکہ درہم ودينار پرنقش کراکے تمام ممالک اسلاميہ ميں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکوگے ? ديکھو اب جو ميں نے تم کولکھا ہے اسے پڑھ کرارفص جبينک عرقا،اپني پيشاني کا پسينہ پوچھ ڈالو اورجو ميں کہتا ہوں اس پرعمل کرو تاکہ ہمارے اورتمہارے درميان جو رشتہ محبت قائم ہے بدستورباقي رہے?

عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کو پڑھااس کے پاؤں تلے سے زمين نکل گئي ،ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں ميں دنيا تاريک ہوگئي? اس نے کمال اضطراب ميں علماء فضلاء اہل الرائے اورسياست دانوں کو فورا جمع کرکے ان سے مشورہ طلب کيا اورکہا کہ کوئي ايسي بات سوچو کہ سانپ بھي مرجائے اورلاٹھي بھي نہ ٹوٹے يا سراسر اسلام کامياب ہوجائے، سب نے سرجوڑ کربہت ديرتک غورکيا ليکن کوئي ايسي رائے نہ دے سکے جس پرعمل کيا جا سکتا”فلم يجد عنداحدمنہم رايايعمل بہ“ جب بادشاہ ان کي کسي رائے سے مطمئن نہ ہوسکا تو اور زيادہ پريشان ہوا اوردل ميں کہنے لگا ميرے پالنے والے اب کيا کروں ابھي وہ اسي تردد ميں بيٹھا تھا کہ اس کا وزيراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا،بادشاہ تو يقينا جانتا ہے کہ اس اہم موقع پراسلام کي مشکل کشائي کون کرسکتا ہے ،ليکن عمدا اس کي طرف رخ نہيں کرتا،بادشاہ نے کہا”ويحک من“ خدا تجھے سمجھے،تو بتا تو سہي وہ کون ہے؟ وزيراعظم نے عرض کي ”عليک بالباقرمن اہل بيت النبي“ ميں فرزند رسول امام محمد باقرعليہ السلام کي طرف اشارہ کر رہا ہوں اوروہي اس آڑے وقت ميں تيرے کام آ سکتے ہيں ،عبدالملک بن مروان نے جونہي آپ کانام سنا قال صدقت کہے لگا? خدا کي قسم ! تم نے سچ کہا اورصحيح رہبري کي ہے?

اس کے بعد اسي وقت فورا اپنے عامل مدينہ کو لکھا کہ اس وقت اسلام پرايک سخت مصيبت آ گئي ہے اوراس کا دفع ہونا امام محمد باقرکے بغيرناممکن ہے،لہذا جس طرح ہو سکے انھيں راضي کرکے ميرے پاس بھيج دو،ديکھو اس سلسلہ ميں جو مصارف ہوں گے،وہ بذمہ حکومت ہوں گے?

عبدالملک نے دوخواست طلبي، مدينہ ارسال کرنے کے بعد شاہ روم کے سفيرکو نظر بند کرديا،اورحکم ديا کہ جب تک ميں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پايہ تخت سے جانے نہ ديا جائے?


حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي خدمت ميں عبدالملک بن مروان کا پيغام پہنچا اورآپ فوراعازم سفرہوگئے اور اہل مدينہ سے فرمايا کہ چونکہ اسلام کا کام ہے لہذا ميں تمام اپنے کاموں پراس سفرکوترجيح ديتا ہوں ? الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جا پہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پريشان تھا،اس ليے اسے نے آپ کے استقبال کے فورا بعدعرض مدعا کرديا،امام عليہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمايا”لايعظم ہذاعليک فانہ ليس بشئي“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادر و توانا قيصرروم کواس فعل قبيح پرقدرت ہي نہ دے گا اورپھرايسي صورت ميں جب کہ اس نے تيرے ہاتھوں ميں اس سے عہدہ برآ ہونے کي طاقت دے رکھي ہے? بادشاہ نے عرض کي يا ابن رسول اللہ وہ کونسي طاقت ہے جومجھے نصيب ہے اورجس کے ذريعہ سے ميں کاميابي حاصل کرسکتا ہوں?

حضرت امام محمد باقرعليہ السلام نے فرمايا کہ تم اسي وقت حکاک اور کاريگروں کوبلاؤ اوران سے درہم ودينارکے سکے ڈھلواؤ اورممالک اسلاميہ ميں رائج کردو، اس نے پوچھا کہ ان کي کيا شکل وصورت ہوگي اوروہ کس طرح ڈھليں گے؟ امام عليہ السلام نے فرمايا کہ سکہ کے ايک طرف کلمہ توحيد ، دوسري طرف پيغمراسلام کا نام نامي اورضرب سکہ کا سن لکھا جائے? اس کے بعد اس کے اوزان بتائے? آپ نے کہا کہ درہم کے تين سکے اس وقت جاري ہيں ايک بغلي جو دس مثقال کے دس ہوتے ہيں ،دوسرے سمري خفاف جو چھ مثقال کے دس ہوتے ہيں، تيسرے پانچ مثقال کے دس ،يہ کل 21 مثقال ہوئے اس کو تين پرتقسيم کرنے پرحاصل تقسيم 7 مثقال ہوئے،اسي سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسي سات مثقال کي قيمت سونے کے دينار تيار کر جس کا خوردہ دس درہم ہو،سکہ کا نقش چونکہ فارسي ميں ہے اس ليے اسي فارسي ميں رہنے ديا جائے ،اوردينارکا سکہ رومي حرفوں ميں ہے لہذا اسے رومي حرفوں ميں ہي کندہ کرايا جائے اور ڈھالنے کي مشين (سانچہ) شيشے کا بنوايا جائے تاکہ سب ہم وزن تيار ہو سکيں?

عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلوا ليے اورسب کچھ تيار کرليا اس کے بعد حضرت کي خدمت ميں حاضرہو کردريافت کيا کہ اب کيا کروں؟ ”امرہ محمد بن علي“ آپ نے حکم ديا کہ ان سکوں کو تمام ممالک اسلاميہ ميں رائج کردے، اورساتھ ہي ايک سخت حکم نافذ کردے جس ميں يہ ہو کہ اسي سکہ کو استعمال کياجائے اور رومي سکے خلاف قانون قرارديئے گئے? اب جو خلاف ورزي کرے گا اسے سخت سزا دي جائے گي ،اوربوقت ضرورت اسے قتل بھي کيا جا سکے گا?

عبدالملک بن مروان نے تعميل ارشاد کے بعد سفير روم کو رہا کرکے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ ہم نے اپنے سکے ڈھلوا کر رائج کر ديے اور تمہارے سکہ کوغير قانوني قرار دے ديا اب تم سے جو ہو سکے کرلو?

سفيرروم يہاں سے رہا ہو کرجب اپنے قيصرکے پاس پہنچا اوراس سے ساري داستان بتائي تو وہ حيران رہ گيا،اورسرجوڑ کرديرتک خاموش بيٹھا سوچتا رہا، لوگوں نے کہا! بادشاہ تو نے جو يہ کہا تھا کہ ميں مسلمانوں کے پيغمبرکو سکوں پرگالياں کندا کرا دوں گا اب اس پرعمل کيوں نہيں کرتے؟ اس نے کہا کہ اب گالياں کندا کرکے کيا کروں گا اب تو ان کے ممالک ميں ميراسکہ ہي نہيں چل رہا اورلين دين ہي نہيں ہو رہا ? 13

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام کي علمي حيثيت

کسي معصوم کي علمي حيثيت پر روشني ڈالنا بہت دشوار ہے، کيونکہ معصوم اور امام زمانہ کوعلم لدني ہوتا ہے، وہ خدا کي بارگاہ سے علمي صلاحيتوں سے بھرپورمتولد ہوتا ہے، حضرت امام محمد باقر عليہ السلام چونکہ امام زمانہ اورمعصوم ازلي تھے اس ليے آپ کے علمي کمالات، علمي کارنامے اورآپ کي علمي حيثيت کي وضاحت ناممکن ہے? تاہم ميں ان واقعات ميں سے مستثني ازخروارے، لکھتا ہوں جن پرعلماء عبورحاصل کرسکے ہيں?
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہيں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطير و اوتينا من کل شئي “ ہميں طائروں تک کي زبان سکھا گئي ہے اور ہميں ہرچيز کا علم عطا کيا گيا ہے ? 14

روضة الصفاء ميں ہے کہ بخدا سوگند کہ ماخازنان خدائيم درآسمان زمين الخ ? خداکي قسم! ہم زمين اورآسمان ميں خداوند عالم کے خازن علم ہيں اورہم يہ شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہيں ،وحي ہمارے يہاں آتي رہي اور فرشتے ہمارے يہاں آتے رہتے ہيں? يہي وجہ ہے کہ دنيا کے ظاہري ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہيں، لسان الواعظين ميں ہے کہ ابومريم عبدالغفار کا کہنا ہے کہ ميں ايک دن حضرت امام محمد باقرعليہ السلام کي خدمت ميں حاضرہو کرعرض پرداز ہوا کہ :

? ? مولا کونسا اسلام بہترہے جس سے اپنے برادرمومن کوتکليف نہ پہنچے ؟

?? کونسا خلق بہترہے؟ فرمايا ! صبراورمعاف کردينا

? ? کون سا مومن کامل ہے؟ فرمايا! جس کے اخلاق بہترہوں

? ? کون سا جہاد بہترہے ؟ فرمايا ! جس ميں اپنا خون بہہ جائے

? ? کونسي نماز بہترہے ؟ فرمايا! جس کا قنوت طويل ہو،

? ? کون سا صدقہ بہترہے؟ فرمايا! جس سے نافرماني سے نجات ملے،

? ? بادشاہان دنيا کے پاس جانے ميں آپ کي کيا رائے ہے؟ فرمايا! ميں اچھا نہيں سمجھتا، پوچھا کيوں؟

فرمايا کہ اس ليے کہ بادشاہوں کے پاس کي آمدورفت سے تين باتيں پيدا ہوتي ہيں :

? ? محبت دنيا ? ? فراموشي مرگ ? ? قلت رضائے خدا?

پوچھا پھرميں نہ جاؤں ،فرمايا ميں طلب دنيا سے منع نہيں کرتا، البتہ طلب معاصي سے روکتا ہوں ?

علامہ طبرسي لکھتے ہيں کہ يہ مسلمہ حقيقت ہے اوراس کي شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف ميں ساري دنيا سے فوقيت لے گئے ہيں? آپ سے علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغيرہ کے مظاہرہ ميں کوئي نہيں ہوا،بڑے بڑے صحابہ اورنماياں تابعين،اورعظيم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے? آپ کو آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جابر بن عبداللہ انصاري کے ذريعہ سے سلام کہلايا تھا اوراس کي پيشين گوئي فرمائي تھي کہ يہ ميرا فرزند”باقرالعلوم“ ہوگا ،علم کي گتھيوں کو سلجھائے گا کہ دنيا حيران رہ جائے گي ? 15

علامہ شبلنجي فرماتے ہيں کہ علم دين، علم احاديث،علم سنن اورتفسير قرآن وعلم السيرت وعلوم وفنون ،ادب وغيرہ کے ذخيرے جس قدرامام محمد باقرعليہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسين اور امام حسين کي اولاد ميں سے کسي سے ظاہرنہيں ہوئے ? 16

علامہ ابن حجرمکي لکھتے ہيں کہ حضرت امام محمد باقرعليہ السلام کے علمي فيوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کي بصيرت زائل ہوگئي ہو، جس کا دماغ خراب ہو گيا ہواورجس کي طينت وطبيعت فاسد ہوگئي ہو،کوئي شخص انکارنہيں کرسکتا،اسي وجہ سے آپ کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ آپ ”باقرالعلوم“ علم کے پھيلانے والے اورجامع العلوم ہيں، آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ نفس پاک اورخلقت شريف تھي، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندي ميں بسر ہوتے تھے?

عارفوں کے قلوب ميں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نماياں ہو گئے تھے، جن کے بيان کرنے سے وصف کرنے والوں کي زبانيں گونگي اورعاجز و ماندہ ہيں ? آپ کے ہدايات وکلمات اس کثرت سے ہيں کہ ان کا احصاء اس کتاب ميں ناممکن ہے? 17


علامہ ابن خلکان لکھتے ہيں کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبيرالشان تھے آپ علوم ميں بڑے تبحراور وسيع الاطلاق تھے (وفيات الاعيان جلد ? ص ???) علامہ ذہبي لکھتے ہيں کہ آپ بني ہاشم کے سرداراورمتبحر علمي کي وجہ سے باقرمشہورتھے ? آپ علم کي تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھي طرح سمجھ ليا تھا ? 18


علامہ شبراوي لکھتے ہيں کہ امام محمد باقرکے علمي تذکرے دنيا ميں مشہور ہوئے اورآپ کي مدح وثناء ميں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہني نے يہ تين شعر لکھے ہيں:

ترجمہ : جب لوگ قرآن مجيد کا علم حاصل کرنا چاہيں تو پورا قبيلہ قريش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا،کيونکہ وہ خود محتاج ہے اوراگرفرزند رسول امام محمد باقر کے منہ سے کوئي بات نکل جائے تو بے حد وحساب مسائل وتحقيقات کے ذخيرے مہيا کرديں گے? يہ حضرات وہ ستارے ہيں جو ہرقسم کي تاريکيوں ميں چلنے والوں کے ليے چمکتے ہيں اوران کے انوارسے لوگ راستے پاتے ہيں ? 19

علامہ ابن شہرآشوب کا بيان ہے کہ صرف ايک راوي محمد بن مسلم نے آپ سے تيس ہزارحديثيں روايت کي ہيں? 20

آپ کي بعض علمي ہدايات وارشادات ؛

علامہ محمد بن طلحہ شافعي لکھتے ہيں کہ جابرجعفي کا بيان ہے کہ ميں ايک دن حضرت امام محمد باقرعليہ السلام سے ملا توآپ نے فرمايا? اے جابر! ميں دنيا سے بالکل بے فکر ہوں کيونکہ جس کے دل ميں دين خالص ہو وہ دنيا کو کچھ نہيں سمجھتا،اور تمہيں معلوم ہونا چاہئے کہ دنيا چھوڑي ہوئي سواري، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کي ہوئي عورت ہے? مومن دنيا کي بقا سے مطمئن نہيں ہوتا اوراس کي ديکھي ہوئي چيزوں کي وجہ سے نورخدا اس سے پوشيدہ نہيں ہوتا ? مومن کو تقوي اختيارکرنا چاہئے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بيدار رکھتا ہے? سنو دنيا ايک سرائے فاني ہے نزلت بہ وارتحلت منہ “ اس ميں آنا جانا لگا رہتا ہے ، آج آئے اورکل گئے اوردنيا ايک خواب ہے جو کمال کي مانند ديکھا جاتا ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہيں … آپ نے فرمايا تکبربہت بري چيزہے ،يہ جس قدر انسان ميں پيدا ہو گا اسي قدر اس کي عقل گھٹے گي کمينے شخص کا حربہ گالياں بکنا ہے ?


ايک عالم کي موت کو ابليس نوے عابدوں کے مرنے سے بہترسمجھتا ہے? ايک ہزارعابد سے وہ ايک عالم بہترہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو?

ميرے ماننے والے وہ ہيں جو اللہ کي اطاعت کريں? آنسوؤں کي بڑي قيمت ہے، رونے والا بخشا جاتا ہے اورجس رخسارپر آنسو جاري ہوں وہ ذليل نہيں ہوتا? سستي اور زيادہ تيزي برائيوں کي کنجي ہے ?


خدا کے نزديک بہترين عبادت پاک دامني ہے انسان کوچاہئے کہ اپنے پيٹ اور اپني شرمگاہوں کومحفوظ رکھيں? دعا سے قضا بھي ٹل جاتي ہے ? نيکي بہترين خيرات ہے ?


بدترين عيب يہ ہے کہ انسان کو اپني آنکھ کا شہتيردکھائي نہ دے،اور دوسرے کي آنکھ کا تنکا نظر آئے ،يعني اپنے بڑے گناہ کي پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عيب اسے بڑے نظرآئيں اورخود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعليم دے?

جو خوشحالي ميں ساتھ دے اورتنگ دستي ميں دور رہے ،وہ تمہارا بھائي اوردوست نہيں ہے ? 21


علامہ شبلنجي لکھتے ہيں کہ حضرت امام محمد باقرعليہ السلام نے فرمايا کہ جب کوئي نعمت ملے توکہو الحمدللہ اورجب کوئي تکليف پہنچے تو کہو”لاحول ولاقوة الاباللہ“ اورجب روزي تنگ ہوتو کہو استغفراللہ ?


دل کو دل سے راہ ہوتي ہے،جتني محبت تمہارے دل ميں ہوگي ،اتني ہي تمہارے بھائي اوردوست کے دل ميں بھي ہوگي ?

تين چيزيں خدا نے تين چيزوں ميں پوشيدہ رکھي ہيں :

1 ? اپني رضا اپني اطاعت ميں ،کسي فرمانبرداري کوحقيرنہ سمجھو شايد اسي ميں خدا کي رضا ہو?

2 ? اپني ناراضي اپني معصيت ميں کسي گناہ کو معمولي نہ جانو شايد خدا اسي سے ناراض ہو جائے?

3 ? اپني دوستي يا اپنے ولي، مخلوقات ميں کسي شخص کوحقيرنہ سمجھو، شايد وہي ولي اللہ ہو ? 22


احاديث آئمہ ميں ہے امام محمد باقرعليہ السلام فرماتے ہيں انسان کوجتني عقل دي گئي ہے اسي کے مطابق اس سے قيامت ميں حساب و کتاب ہوگا?


ايک نفع پہنچانے والاعالم سترہزارعابدوں سے بہترہے ،عالم کي صحبت ميں تھوڑي ديربيٹھنا ايک سال کي عبادت سے بہتر ہے خدا ان علماء پررحم وکرم فرمائے جواحياء علم کرتے اورتقوي کو فروغ ديتے ہيں ?


علم کي زکواة يہ ہے کہ مخلوق خدا کوتعليم دي جائے ? قرآن مجيد کے بارے ميں تم جتنا جانتے ہو اتنا ہي بيان کرو?


بندوں پرخدا کاحق يہ ہے کہ جوجانتا ہو اسے بتائے اورجو نہ جانتا ہو اس کے جواب ميں خاموش ہوجائے ? علم حاصل کرنے کے بعداسے پھيلاو،اس ليے کہ علم کو بند رکھنے سے شيطان کاغلبہ ہوتا ہے ?


معلم اورمتعلم کا ثواب برابر ہے ? جس کي تعليم کي غرض يہ ہو کہ وہ … علماء سے بحث کرے ،جہلا پررعب جمائے اورلوگوں کواپني طرف مائل کرے وہ جہنمي ہے ، ديني راستہ دکھلانے والا اور راستہ پانے والا دونوں ثواب کي ميزان کے لحاظ سے برابر ہيں?


جو دينيات ميں غلط کہتا ہو اسے صحيح بنا دو، ذات الہي وہ ہے، جوعقل انساني ميں نہ سما سکے اورحدود ميں محدود نہ ہو سکے ?


اس کي ذات فہم و ادراک سے بالاتر ہے ? خدا ہميشہ سے ہے اورہميشہ رہے گا، خدا کي ذات کے بارے ميں بحث نہ کرو،ورنہ حيران ہو جاؤ گے ? اجل کي دو قسميں ہيں ايک اجل محتوم،دوسري اجل موقوف، دوسري سے خدا کے سوا کوئي واقف نہيں، زمين حجت خدا کے سوا کوئي واقف نہيں ،زمين حجت خدا کے بغيرباقي نہيں رہ سکتي?


امت بے امام کي مثال بھيڑ کے اس گلے کي ہے،جس کا کوئي بھي نگراں نہ ہو?


امام محمد باقرعليہ السلام سے روح کي حقيقت اورماہيت کے بارے ميں پوچھا گيا تو فرمايا : روح ہوا کي مانند متحرک ہے اور يہ ريح سے مشتق ہے ، ہم جنس ہونے کي وجہ سے اسے روح کہا جاتا ہے ? يہ روح جو جانداروں کي ذات کے ساتھ مخصوص ہے ،وہ تمام روحوں سے پاکيزہ ترہے ، روح مخلوق اورمصنوع ہے اورحادث اور ايک جگہ سے دوسري جگہ منتقل ہونے والي ہے ? وہ ايسي لطيف شئے ہے جس ميں نہ کسي قسم کي گراني اورسنگيني ہے نہ سبکي، وہ ايک باريک اور رقيق شئے ہے جو قالب کثيف ميں پوشيدہ ہے،اس کي مثال اس مشک جيسي ہے جس ميں ہوا بھردو،ہوا بھرنے سے وہ پھول جائے گي ليکن اس کے وزن ميں ا ضافہ نہ ہوگا?? روح باقي ہے اور بدن سے نکلنے کے بعد فنا نہيں ہوتي، يہ نفخ صورکے وقت ہي فنا ہو گي?

آپ سے خداوندعالم کے صفات بارے ميں پوچھا گيا تو آپ نے فرمايا،کہ وہ سميع وبصيرہے اورآلہ سمع وبصرکے بغيرسنتا اورديکھتا ہے،رئيس معتزلہ عمربن عبيد نے آپ سے دريافت کيا کہ”من يحال عليہ غضبي“ ابوخالد کابلي نے آپ سے پوچھا کہ قول خدا”فامنواباللہ ورسولہ والنورالذي انزلنا“ ميں،نورسے کيا مراد ہے؟آپ نے فرمايا”واللہ النورالائمة من آل محمد“ خداکي قسم نورسے ہم آل محمد مراد ہيں?

آپ سے دريافت کيا گيا کہ يوم ندعواکل اناس بامامہم سے کون لوگ مراد ہيں آپ نے فرمايا ! وہ رسول اللہ ہيں اوران کے بعد ان کي اولاد سے آئمہ ہوں گے، انہيں کي طرف آيت ميں اشارہ فرمايا گيا ہے جوانہيں دوست رکھے گا اوران کي تصديق کرے گا وہي نجات پائے گا اورجو ان کي مخالفت کرے گاجہنم ميں جائے گا، ايک مرتبہ طاؤس يماني نے حضرت کي خدمت مين حاضرہوکريہ سوال کيا کہ وہ کونسي چيزہے جس کا تھوڑا استعمال حلال تھا اور زيادہ استعمال حرام،آپ نے فرمايا کہ وہ نہر طالوت کا پاني تھا جس کا صرف ايک چلو پيناحلال تھا اوراس سے زيادہ حرام ? پوچھا وہ کون سا روزہ تھا جس ميں کھانا پينا جائزتھا،فرمايا! وہ جناب مريم کا روزہ صمت تھا جس ميں صرف نہ بولنے کا روزہ تھا ،کھانا پينا حلال تھا، پوچھا وہ کون سي شئے ہے جوصرف کرنے سے کم ہوتي ہے بڑھتي نہيں، فرمايا کہ وہ عمر ہے ? پوچھا وہ کون سي شئے ہے جو بڑھتي ہے گھٹتي نہيں ،فرمايا ! وہ سمندرکا پاني ہے ،پوچھا وہ کونسي چيزہے جوصرف ايک بار اڑي پھر نہ اڑي ،فرمايا وہ کوہ طور ہے جو ايک بارحکم خدا سے اڑکربني اسرائيل کے سروں پرآ گيا تھا? پوچھا وہ کون لوگ ہيں جن کي سچي گواہي خدا نے جھوٹي قراردي،فرماياوہ منافقوں کي تصديق رسالت ہے جودل سے نہ تھي?


پوچھابني آدم کا 1/3 حصہ کب ہلاک ہوا،فرماياايساکبھي نہيں ہوا،تم يہ پوچھوکہ انسان کا 1/4 حصہ کب ہلاک ہواتوميں بتاؤں کہ يہ اس وقت ہواجب قابيل نے ہابيل کوقتل کيا،کيونکہ اس وقت چارآدمي تھے آدم،حوا،ہابيل اورقابيل ،پوچھاپھرنسل انساني کس طرح بڑھي فرماياجناب شيش سے جوقتل ہابيل کے بعدبطن حواسے پيداہوئے?


آپ کي عبادت گذاري اور آپ کے عام حالات

آپ آباؤاجدادکي طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ساري رات نمازپڑھني اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کي عادت تھي آپ کي زندگي زاہدانہ تھي، بورئيے پربيٹھتے تھے ہداياجوآتے تھے اسے فقراء ومساکين پرتقسيم کرديتے تھے غريبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اورفروتني ،صبروشکرغلام نوازي صلہ رحم وغيرہ ميں اپني آپ نظيرتھے آپ کي تمام آمدني فقراء پرصرف ہوتي تھي آپ فقيروں کي بڑي عزت کرتے تھے اورانہيں اچھے نام سے يادکرتے تھے? 23


آپ کے ايک غلام افلح کابيان ہے کہ ايک دن آپ کعبہ کے قريب تشريف لے گئے، آپ کي جيسے ہي کعبہ پرنظرپڑي آپ چيخ مارکررونے لگے ميں نے کہا کہ حضورسب لوگ ديکھ رہے ہيں آپ آہستہ سے گريہ فرمائيں ارشادکيا،اے افلح شايد خدابھي انہيں لوگوں کي طرح ميري طرف ديکھ لے اورميري بخشش کاسہاراہوجائے، اس کے بعدآپ سجدہ ميں تشريف لے گئے اورجب سراٹھاياتوساري زمين آنسوؤں سے ترتھي ? 24


حضرت امام محمدباقر عليہ السلام اور ہشام بن عبدالملک


تواريخ ميں ہے 96 ھ ميں وليدبن عبدالملک فوت ہوا(ابوالفداء) اوراس کابھائي سليمان بن عبدالملک خليفہ مقررکياگيا(ابن الوردي ) 99 ھ ميں عمربن عبدالعزيزخليفہ ہواابن الوردي اس نے خليفہ ہوتے ہي اس بدعت کوجو 41 ھ سے بن اميہ نے حضرت علي پرسب وشتم کي صورت ميں جاري کررکھي تھي حکما روک ديا (ابوالفداء) اوررقوم خمس بني ہاشم کوديناشروع کيا(کتاب الخرائج ابويوسف) ?


يہ وہ زمانہ تھاجس ميں علي کے نام پراگرکسي بچے کانام ہوتاتھا تووہ قتل کردياجاتاتھا اورکسي کوبھي زندہ نہ چھوڑاجاتاتھا (تدريب الراوي سيوطي) اس کے بعد 101 ھ ميں يزيدبن عبدالملک خليفہ بناياگيا(ابن الوردي) 105 ھ ميں ہشام بن عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت مقررہوا(ابن الوردي)?


ہشام بن عبدالملک،چست،چالاک،کنجوس ومتعصب،چال باز،سخت مزاج، کجرو،خودسر،حريص،کانوں کاکچاتھا اورحددرجہ کاشکي تھا کبھي کسي کااعتبارنہ کرتاتھا اکثرصرف شبہ برسلطنت کے لائق لائق ملازموں کوقتل کراديتاتھا يہ عہدوں پرانہيں کوفائزکرتاتھا جوخوشامدي ہوں، اس نے خالدبن عبداللہ قسري کو 105 ھ سے 120 ھ تک عراق کاگورنرتھا قسري کاحال يہ تھاکہ ہشام کورسول اللہ سے افضل بتاتااوراسي کاپروپيگنڈہ کياکرتاتھا? 25


ہشام آل محمدکادشمن تھااسي نے زيدشہيدکونہايت بري طرح قتل کياتھا اوراسي نے اپنے زمانہ وليعہدي ميں فرزدق شاعرکوامام زين العابدين کي مدح کے جرم ميں بمقام عسقلان قيدکياتھا? 26

ہشام کاسوال اوراس کاجواب

تخت سلطنت پربيٹھنے کے بعدہشام بن عبدالملک حج کے ليے گياوہاں اس نے امام محمدباقرعليہ السلام کوديکھاکہ مسجدالحرام ميں بيٹھے ہوئے لوگوں کوپند ونصائح سے بہرہ ورکررہے ہيں يہ ديکھ کر ہشام کي دشمني نے کروٹ لي اوراس نے دل ميں سوچاکہ انہيں ذليل کرناچاہئے اوراسي ارادہ سے اس نے ايک شخص سے کہاکہ جاکران سے کہوکہ خليفہ پوچھ رہے ہيں کہ حشرکے دن آخري فيصلہ سے قبل لوگ کياکھائيں اورپئيں گے اس نے جاکرامام عليہ السلام کے سامنے خليفہ کاسوال پيش کياآپ نے فرماياجہاں حشرونشرہوگاوہاں ميوے داردرخت ہوں گے،وہ لوگ انہيں چيزوں کواستعمال کريں گے بادشاہ نے جواب سن کرکہايہ بالکل غلط ہے کيونکہ حشرميں لوگ مصيبتوں اوراپني پريشانيوں ميں مبتلاہوں گے ان کوکھانے پينے کاہوش کہاں ہوگا؟ قاصدنے بادشاہ کاگفتہ نقل کرديا،حضرت نے قاصدسے فرماياکہ جاؤاور بادشاہ سے کہوکہ تم نے قران بھي پڑھاہے يانہيں،قرآن ميں يہ نہيں ہے کہ ”جہنم“ کے لوگ جنت والوں سے کہيں گے کہ ہميں پاني اورکچھ نعمتيں ديدوکہ پي اورکھاليں اس وقت وہ جواب ديں گے کہ کافروں پرجنت کي نعمتيں حرام ہيں (پ 8 ،رکوع 13) توجب جہنم ميں بھي لوگ کھاناپينانہيں بھوليں گے توحشرونشرميں کيسے بھول جائيں گے جس ميں جہنم سے کم سختياں ہوں گي اوروہ اميدوبيم اورجنت ودوزخ کے درميان ہوں گے يہ سن کرہشام شرمندہ ہوگيا? 27


حضرت امام محمدباقرعليہ السلام کي دمشق ميں طلبي

علامہ مجلسي اورسيدابن طاؤس رمقطرازہيں کہ ہشام بن عبدالملک اپنے عہدحکومت کے آخري ايام ميں حج بيت اللہ کے ليے مکہ معظمہ ميں پہنچاوہاں حضرت امام محمدباقرعليہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق عليہ السلام بھي موجودتھے ايک دن حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام نے مجمع عام ميں ايک خطبہ ارشادفرماياجس ميں اورباتوں کے علاوہ يہ بھي کہاکہ ہميں روئے زمين پرخداکے خليفہ اورا سکي حجت ہيں ،ہمارادشمن جہنم ميں جائے گا،اورہمارادوست نعمات جنت سے متنعم ہوگا?


اس خطبہ کي اطلاع ہشام کودي گئي ،وہ وہاں توخاموش رہا،ليکن دمشق پہنچنے کے بعدوالي مدينہ کوفرمان بھيجاکہ محمدبن علي اورجعفربن محمدکوميرے پاس بھيجدے ، چنانچہ آپ حضرات دمشق پہنچے وہاں ہشام نے آپ کوتين روزتک اذن حضورنہيں دياچوتھے روزجب اچھي طرح دربارکوسجاليا،توآپ کوبلوابھيجاآپ حضرات جب داخل دربارہوئے توآپ کوذليل کرنے کے ليے آپ سے کہاکہ ہمارے تيراندازوں کي طرح آپ بھي تيراندازي کريں حضرت امام محمدباقر نے فرمايا کہ ميں ضعيف ہوگياہوں مجھے اس سے معاف رکھ، اس نے بہ قسم کہاکہ يہ ناممکن ہے پھرايک کمان آپ کودلواياآپ نے ٹھيک نشانہ پرتيرلگائے ، يہ ديکھ کروہ حيران رہ گيا اس کے بعدامام نے فرمايا، بادشاہ ہم معدن رسالت ہيں،ہمارامقابلہ کسي امرميں کوئي نہيں کرسکتا،يہ سن کرہشام کوغصہ آگيا،وہ بولاکہ آب لوگ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہيں آپ کے دادعلي بن ابي طالب نے غيب کادعوي کياہے آپ نے فرمايابادشاہ قرآن مجيدميں سب کچھ موجود ہے اورحضرت علي امام مبين تھے انہيں کيانہيں معلوم تھا(جلاء العيون)?


ثقة الاسلام علامہ کليني تحريرفرماتے ہيں کہ ہشام نے اہل دربارکوحکم دياتھاکہ ميں محمدبن علي(امام محمدباقرعليہ السلام) کوسردربارذليل کروں گا تم لوگ يہ کرناکہ جب ميں خاموش ہوجاؤں توانہيں کلمات ناسزاکہنا،چنانچہ ايساہي کياگياآخرميں حضرت نے فرمايا،بادشاہ يادرکھ ہم ذليل کرنے ذليل نہيں ہوسکتے ،خداوندعالم نے ہميں عزت دي ہے،اس ميں ہم منفردہيں يادرکھ عاقبت کي شاہي متقين کے ليے ہے يہ سن کرہشام نے فامربہ الي الحبس آپ کوقيدکرنے کاحکم ديديا،چنانچہ آپ قيدکرديئے گئے?


قيدخانہ ميں داخل ہونے کے بعدآپ نے قيديوں کے سامنے ايک معجزنماتقرير کي جس کے نتيجہ ميں قيدخانہ کے اندرکہرام عظيم برپاہوگيا،بالآخرقيدخانہ کے داروغہ نے ہشام سے کہاکہ اگرمحمدبن علي زيادہ دنوں قيدرہے توتيري مملکت کانظام منقلب ہوجائے گاان کي تقريرقيدخانہ سے باہربھي اثرڈال رہي ہے اورعوام ميں ان کے قيدہونے سے بڑاجوش ہے يہ سن کرہشام ڈرگيااوراس نے آپ کي رہائي کاحکم ديااورساتھ يہ بھي اعلان کرادياکہ نہ آپ کوکوئي مدينہ پہنچانے جائے اورنہ راستے ميں آپ کوکوئي کھاناپاني دے، چنانچہ آپ تين روزکے بھوکے پياسے داخل مدينہ ہوئے?


وہاں پہنچ کرآپ نے کھانے پينے کي سعي،ليکن کسي نے کچھ نہ ديا، بازارہشام کے حکم سے بندتھے يہ حال ديکھ کرآپ ايک پہاڑي پرگئے اورآپ نے اس پرکھڑے ہوکرعذاب الہي کاحوالہ ديايہ سن کرايک پيرمردبازارميں کھڑاہوکرکہنے لگا بھائيو!سنو،يہي وہ جگہ ہے جس جگہ حضرت شعيب نبي نے کھڑے ہوکرعذاب الہي کي خبردي تھي اورعظيم ترين عذاب نازل ہواتھا ميري بات مانواوراپنے کوعذاب ميں مبتلانہ کرويہ سن کرسب لوگ حضرت کي خدمت ميں حاضرہوگئے اورآپ کے ليے ہوٹلوں کے دروازے کھول ديئے ? 28


علامہ مجلسي لکھتے ہيں کہ اس واقعہ کے بعدہشام نے والي مدينہ ابراہيم بن عبدالملک کولکھاکہ امام محمدباقرکوزہرسے شہيدکردے ? 29

کتاب الخرائج والبحرائح ميں علامہ راوندي لکھتے ہيں کہ اس واقعہ کے بعدہشام بن عبدالملک نے زيدبن حسن کے ساتھ باہمي سازش کے ذريعہ امام عليہ السلام کودوبارہ دمشق ميںطلب کرناچاہاليکن والي مدينہ کي ہمنوائي حاصل نہ ہونے کي وجہ سے اپنے ارادہ سے بازآيا اس نے تبرکات رسالت جبرا طلب کئے اورامام عليہ السلام نے بروايتے ارسال فرماديئے?


دمشق سے روانگي اورايک راہب کامسلمان ہونا


علامہ مجلسي تحريرفرماتے ہيں کہ حضرت امام محمدباقرعليہ السلام قيدخانہ دمشق سے رہاہوکرمدينہ کوتشريف لئے جارہے تھے کہ ناگاہ راستے ميں ايک مقام پرمجمع کثيرنظرآيا،آپ نے تفحص حال کياتومعلوم ہواکہ نصاري کاايک راہب ہے جوسال ميں صرف ايک باراپنے معبدسے نکلتاہے آج اس کے نکلنے کادن ہے حضرت امام محمدباقرعليہ السلام اس مجمع ميں عوام کے ساتھ جاکربيٹھ گئے ،راہب جوانتہائي ضعيف تھا،مقررہ وقت پربرامدہوا،اوراس نے چاروں طرف نظردوڑانے کے بعدامام عليہ السلام کي طرف مخاطب ہوکربولا:

1 ? کياآپ ہم ميں سے ہيں فرماياميں امت محمديہ سے ہوں?

2 ?آپ علماء سے ہيں ياجہلاسے فرماياميں جاہل نہيں ہوں?

3 ? آپ مجھ سے کچھ دريافت کرنے کے ليے آئے ہيں فرمايانہيں?

4 ? جب کہ آپ عالموں ميں سے ہيں کيا؟ميں آپ سے کچھ پوچھ سکتاہوں، فرماياضرورپوچھيے?


يہ سن کرراہب نے سوال کيا

1 ? شب وروزميں وہ کونساوقت ہے،جس کاشمار نہ دن ميں ہے اورنہ رات ميں ، فرماياوہ سورج کے طلوع سے پہلے کاوقت ہے جس کاشماردن اوررات دونوں ميں نہيں ،وہ وقت جنت کے اوقات ميں سے ہے اورايسا مبترک ہے کہ اس ميں بيماروں کوہوش آجاتاہے دردکوسکون ہوتاہے جورات بھرنہ سوسکے اسے نيندآتي ہے يہ وقت آخرت کي طرف رغبت رکھنے والوں کے ليے خاص الخاص ہے?

2 ? آپ کاعقيدہ ہے کہ جنت ميں پيشاب وپاخانہ کي ضرروت نہ ہوگي؟کيا دنيا ميں اس کي مثال ہے ؟ فرمايابطن مادرميں جوبچے پرورش پاتے ہيں ان کافضلہ خارج نہيں ہوتا?

3 ? مسلمانوں کاعقيدہ ہے کہ کھانے سے بہشت کاميوہ کم نہ ہوگااس کي يہاں کوئي مثال ہے، فرماياہاں ايک چراغ سے لاکھوں چراغ جلائے جاتے ہيں تب بھي پہلے چراغ کي روشني ميں کمي نہ ہوگي?

4 ? وہ کون سے دوبھائي ہيں جوايک ساتھ پيداہوئے اورايک ساتھ مرے ليکن ايک کي عمرپچاس سال کي ہوئي اوردوسرے کي ڈيڑھ سوسال کي، فرمايا”عزيز اورعزيرپيغمبرہيں يہ دونوں دنياميں ايک ہي روزپيداہوئے اورايک ہي روزمرے پيدائش کے بعدتيس برس تک ساتھ رہے پھرخدانے عزيرنبي کومارڈالا(جس کاذکرقرآن مجيدميں موجودہے) اورسوبرس کے بعدپھرزندہ فرمايا اس کے بعدوہ اپنے بھائي کے ساتھ اورزندہ رہے اورپھرايک ہي روزدونوں نے انتقال کيا?


يہ سن کرراہب اپنے ماننے والوں کي طرف متوجہ ہوکرکہنے لگاکہ جب تک يہ شخص شام کے حدودميں موجودہے ميں کسي کے سوال کاجواب نہ دوں گاسب کو چاہئے کہ اسي عالم زمانہ سے سوال کرے اس کے بعدوہ مسلمان ہوگيا ? 30


امام محمدباقر عليہ السلام کي شہادت

آپ اگرچہ اپنے علمي فيوض وبرکات کي وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے ليکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذريعہ سے شہيدکراديا اورآپ بتاريخ 7 ذي الحجہ 114 ھ يوم دوشنبہ مدينہ منورہ ميں انتقال فرماگئے اس وقت آپ کي عمر 57 سال کي تھي آپ جنت البقيع ميںدفن ہوئے ? 31


علامہ شبلنجي اورعلامہ ابن حجرمکي فرماتے ہيں ”مات مسموماکابيہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زين العابدين عليہ السلام کي طرح زہرسے شہيدکرديئے گئے ? 32


آپ کي شہادت ہشام کے حکم سے ابراہيم بن وليدوالي مدينہ کي زہرخوراني کے ذريعہ واقع ہوئي ہے ايک روايت ميں ہے کہ خليفہ وقت ہشام بن عبدالملک کي مرسلہ زہرآلودزين کے ذريعہ سے واقع ہوئي تھي ? 33


شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام سے بہت سي چيزوں کے متعلق وصيت فرمائي اورکہا کہ بيٹاميرے کانوں ميں ميرے والدماجدکي آوازيں آرہي ہيں وہ مجھے جلدبلارہے ہيں ? آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طورسے ہدايت کي کيونکہ امام راجزامام نشويد امام کوامام ہي غسل دے سکتاہے ? 34


علامہ مجلسي فرماتے ہيں کہ آپ نے اپني وصيتوں ميں يہ بھي کہاکہ 800 درہم ميري عزاداري اورميرے ماتم پرصرف کرنااورايساانتظام کرناکہ دس سال تک مني ميں بزمانہ حج ميرے مظلموميت کاماتم کياجائے ?35


علماء کابيان ہے کہ وصيتوں ميں يہ بھي تھا کہ ميرے بندہائے کفن قبرميں کھول دينا اورميري قبر چارانگل سے زيادہ اونچي نہ کرنا ? 36?


اپ کي بيوي اور بچے ؛

آپ کي چاربيوياں تھيں اوراولادوں ميں حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام ،عبداللہ افطح ، ابراہيم ،عبداللہ اور علي اور ام فروہ، ام حکيم، ليلي، زينب اور ام سلمي کا نام ذکر ہے ? 38


علامہ محمدباقربہبھاني ،علامہ محمدرضاآل کاشف الغطاء اورعلامہ حسين واعظ کاشفي لکھتے ہيں کہ حضرت امام باقرعليہ السلام کي نسل صرف امام جعفر صادق عليہ السلام سے بڑھي ہے ان کے علاوہ کسي کي اولاد زندہ اورباقي نہيں رہي ? 39

--------------------------------------------------------------------------------
حوالے :

1: اعلام الوري ص 155 ،جلاء العيون ص 260 ،جنات الخلود ص 25 ?
2: جلاء العيون ص 259 ?

3: مطالب السؤل ص 369 ،شواہدالنبوت ص 181
4: المنجد ص 41

5 : صواعق محرقہ،ص 120 ،مطالب السؤل ص 669 ،شواہدالنبوت صذ 181 ?
6: مجالس المومنين ص 117 ?
7: اعلام الوري ص 156?
8: مناقب جلد 4 ص 109
9 : مطالب السؤل ص 272 ?
10 : صواعق محرقہ ص 120، وسيلہ النجات ص 338 ،مطالب السؤل ، 373 ،شواہدالنبوت ص 181 ، نورالابصارص143 ،رجال کشي ص 27 ،تاريخ طبري جلد 3 ،ص 96 ،مجالس المومنين ص 117?
11: مطالب السؤل ص 273 ?
12: شواہدالنبوت ص 183 ?
13: حيواة الحيوان دميري المتوفي 908ھ جلد 1 طبع مصر 1356 ھ ?
14: مناقب شہرآشوب جلد 5 ص 11 ?
15: اعلام الوري ص 157 ،علامہ شيخ مفيد?
16 : ملاحظہ ہوکتاب الارشاد ص 286 ،نورالابصار ص 131 ، ارجح المطالب ص 447 ?
17: صواعق محرقہ ص 120 ?
18: تذکرةالحفاظ جلد 1 ص 111 ?
19 : الاتحاف ص 52 ، و تاريخ الائمہ ص 413
20: مناقب جلد 5 ص 11 ?
21: مطالب السؤل ص 272 ?
22: نورالابصار ص 131 ،اتحاف ص 93 ?
23: کشف الغمہ ص 95?
24: مطالب السؤل ص 271 ?
25: تاريخ کامل جلد 5 ص 103 ?
26: تاريخ اسلام جلد 1 ص 49 ، صواعق محرقہ ص 120 ?
27:ارشادمفيد ص 403 ، تاريخ آئمہ ص 414 ?
28: اصول کافي?
29: جلاء العيون ص 262 ?
30: جلاء العيون ص 261 طبع ايران 1301 ھ? ?
31: کشف الغمہ ص 93 ،جلاء العيون ص 264 ،جنات الخلودص 26 ، دمعہ ساکبہ ص 449 ،انوارالحسينہ ص 48 ، شواہدالنبوت ص 181 ، روضة الشہداء ص 434 ?
32: نورالابصار ص 31،صواعق محرقہ ص 120 ?
33: جنات الخلودص 26 ،دمعہ ساکبہ جلد 2 ص 478 ?
34: نورالابصار ص 131، شواہدالنبوت ص 181?
35: جلاء العيون ص 264 ?
36: جنات الخلود ص27?
38: ارشادمفيد ص 294 ، مناقب جلد 5 ص 19 ، نورالابصارص 132 ?
39: دمعہ ساکبہ جلد 2 ص 479 ،انوارالحسينيہ جلد 2 ص 48 ، روضة الشہداء ص 434 طبع لکھنؤ 1285 ء ?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬