حجت الاسلام ناصر عباس جعفري :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي جنرل سکريٹري حجت الاسلام ناصر عباس جعفري نے مجلس وحدت مسلمين کراچي ڈويژن کي کابينہ کے ہنگامي اجلاس سے خطاب کے دوران جسٹس زوار حسين جعفري پر قاتلانہ کي مذمت کرتا ہوئے تاکيد کي : حکومت ملت جعفريہ کو تحفظ دينے ميں ناکام ہو چکي ہے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ کراچي کالعدم دہشت گرد تنظيموں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوي اور پنجابي طالبان کے نرغے ميں ہے تاکيد کي : اسلام و پاکستان کے دشمن طالبان ملت جعفريہ کے نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ملک کي معاشي شہہ رگ حيات کو کمزور کرنا چاہتے ہيں ?
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے گذشتہ دن جسٹس زوار حسين جعفري کو دہشتگردي کا نشانہ بنائے جانے اوراس قبل ملت جعفريہ کے عمائدين اور جوانوں کو ٹارگٹ کلنگ ميں شہيد کئے جانے پہ شديد تنقيد کرتے ہوئے کہا : حيرت انگيز بات تو يہ ہے کہ حکومت سندھ تا بحال ان تکفيري دہشت گردوں کو گرفتار کرنے ميں ناکام رہي ہے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ سانحہ عاشور ، سانحہ اربعين سميت اب تک سينکڑوں بے گناہ شيعہ افراد کے قتل کي ذمہ داري صرف اور صرف حکومت سندھ پر عائد ہوتي ہے کہا : سندھ کے وزير اعلي? اور گورنر ملت جعفريہ کو جواب ديں کہ شيعہ عمائدين کا قتل و غارت گري کا سلسلہ کب ختم ہو گا ?
انہوں نے مزيد کہا : اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کيا گيا تو مجلس وحدت مسلمين گورنر ہاوس اور وزيراعل?ي ہاوس کا گھيراوں کر کے سراپا احتجاج بن جائے گي ?
قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس ميں مجلس وحدت مسلمين کراچي کے راہنماؤں ميں محمد مہدي ، مولانا علي انوار ، مولاناصادق تقوي ، فاضل عباس ، آصف رضوي ،ميثم عابدي ،اصغر زيدي ،آفتاب عالم ،عباس رضوي ،عقيل عباس ، مبشير زيدي ،حيدر يزدي کے علاوہ ديگر بھي موجود تھے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے