
ايراني پارليمنٹ ميں شھر ورامين کے عوامي ممبر سيد حسين نقوي حسيني نے رسا نيوزايجنسي سے گفتگو کرتے ہوئے ايران کي جوھري سرگرميوں کے سلسلے سے عالمي ايٹمي توانائي ايجنسي کے سربراہ کي رپورٹ کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : افسوس جيسا کہ بعض امريکن کي امانوسے ملاقات کے بعد ھميں توقع بھي تھي کہ ايجنسي اپني قانوني ذمہ داريوں کو پوري طور سے انجام نہي دے پائے گي ، امانو نے ان ملاقتوں کے نتيجے ميں امريکا کے جھوٹھے دعوے کو اس ايجنسي کي رپورٹ ميں جگہ دے دي ?
انہوں نے مزيد کہا : عالمي ايٹمي توانائي ايجنسي ايران کي جوھري سرگرميوں کے سلسلے ميں ان باتوں کو اس وقت کررہي ہے کہ خود موظف ہے کہ اس ايران کے ايٹميک پلانٹ کي بہتري اور مصالحت اميز جوھري سرگرميوں کے لئے وسائ?ل کي فراھمي کرے ?
انہوں نے اسي طرح يہ بيان کرتے ہوئے کہ عالمي ايٹمي توانا?ئي ايجنسي نے اس رپورٹ کے ذريعہ يہ ثابت کرديکھايا کہ يہ عالمي ايجنسي کس قدر کمزور ہے تاکيد کي : يہ بہت گھنونا کام ہے کہ اس مرکز کي رپورٹيں منتشر ہونے سے پہلے امريکا ، صھيونيت اور انگلينڈ کے اختيار ميں قرار دي جائيں جو خود امانو کو غير مستقل ہونے پر مستحکم دليل ہے ?
انہوں نے اسلامي جمھوريہ ايران کے مفاد کے خلاف غاصب صھيونيت کي دھمکيوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : يہ غاصب اتنا قداور نہي ہے کہ ايران کو فوجي حملے کي دھمکي دے سکے اور ہاں اگر اس طرح کي بے وقوفي کربيٹھے تو وہ دن اس کي عمر کا اخري دن ہوگا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے