حجت السلام راجہ ناصر عباس جعفري :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، سرزمين گلگت پرمنعقدہ جشن آزادي کنونشن ايم ڈبليو ايم کے مرکزي جنرل سکريٹري حجت السلام راجہ ناصر عباس جعفري نے تاريخ ساز تقريرکي ?
انہوں نے اپنے بيان کے اغاز ميں اس دھرتي کے ان شہيدوں ، شيروں اور غيرتمندوں کو سلام ديا جنہوں نے اپنے ارادے، اپنے، اپني بصيرت، اپني شجاعت اور اپنے حوصلے کے سا تھ ڈوگرا راج سے اس سرزمين کو آزاد کيا ?
انہوں نے بيان کيا : يہ سرزمين ڈوگرا راج کے ناپاک وجود سے پاک کي گئي ، ان کو سلام جن کي رگوں ميں آزادي اور حريت کا خون دوڑتا تھا? جن کي رگوں ميں عزت اور شرافت کا خون دوڑتا تھا، جوايک لحظہ آرام وچين سے نہيں بيٹھے، جب تک اس خطے کو ڈوگر راج سے آزاد نہيں کرا ليا? آپ کو سلام جن کے حوصلے ان پہاڑوں کي طرح بلند ہيں، جن کے عزم و ارادے بہت مضبوط ہيں، ان کو سلام جو اسلام سے عشق کرنے والے ہيں، دين سے عشق کرنے والے ہيں، جو رسول خدا ? کے پيروکار ہيں، آل رسول? سے محبت اور عشق کرنے والے ہيں اور رسول خدا? کے سچے ساتھيوں کے نام پر اپني جان فدا کرنے والے ہيں?
کرنل مرزا حسن خان پر سلام، کيپٹن راجہ بابر علي خان پر سلام، ميجر راجہ احسان علي خان پر سلام، جناب شاہ رئيس خان پر سلام، پھر اس پر سلام جس نے اس ناقص آزادي کے خلاف بغاوت کا پرچم اٹھايا اور ظلم کے ايوانوں کو للکارا کہ اس خطے کے عوام پر ظلم مٹ جائے، ظلم ختم ہو، عدل ہو، انصاف ہو، يعني شہيد حجة الاسلام و المسلمين آغا ضياء الدين پر سلام، ان کي پاک روح پر سلام، ان کے پاکيزہ ارادوں پر سلام اور ان کے پاک راستے پر سلام، وہ آج ہم ميں نہيں ہيں، ان کا راستہ، ان کي منزل، ان کا عزم اور حوصلہ، وہ عظيم شجاعت کا مينار تھے? وہ عظيم انسان جس کے اپنے راستے کي سچائي کي گواہي اپنے خون سے دي ہے، وہ ہيرو ہے اس خطے کا?
دوستو! پورا پاکستان گلگت ہے، کہاں حقوق ديئے گئے ہيں اس پاکستان ميں بسنے والي ملت کو? آپ سندھ کے اندر دور دراز علاقوں ميں چلے جائيں، وہاں بھي غربت ٹپکتي ہے، چہروں پر محرومي ہے، چہرے زرد ہيں، بيٹياں گھروں ميں بيٹھي ہيں، تعليم نہيں ہے، شادي کے ليے پيسے نہيں ہيں، بلوچستان چلے جائيں، پنجاب کے دور دراز علاقوں ميں چلے جائيں، ہر جگہ استحصالي طبقے نے مظلوموں کا حق مارا ہے، ان کا خون چوسا ہے، ان کے چہرے پر جو سرخي نظر آتي ہے يہ ان مظلوموں کا چوسا ہوا خون ہے جو ان کے چہروں پر نظر آتا ہے، يہ پورا ملک ڈاکوئوں، چوروں اور راہزنوں کے رحم و کرم پر ہے?
اس پورے وطن کے اندر ظلم کي ہولي کھيلي جا رہي ہے، غريب غريب تر ہوتا جا رہا ہے، مظلوم مظلوم تر ہوتا جا رہا ہے، يہ ظالم اور دلير ہوتے جا رہے ہيں، دوستو! عجيب ہے يہ ملک جس کي بيوروکريسي طاقور ملک کمزور، جس کي فوج طاقتور ملک کمزور، جس کي ايجنسياں طاقتور ملک کمزور، جس کے سياستدان، سياست ميں آنے سے پہلے بھکاريوں کي طرح ہوتے تھے، آج وہ اربوں کے مالک، کوئي چار سو کنال کے گھر ميں رہتا ہے جو کئي سو ايکٹر کے گھر ميں رہتا ہے، ان کے بينک بيلنس پاکستان سے لے کر دنيا کے اس کونے تک موجود ہيں?
يہ تو مالدار بھي نہيں، اپني پارٹيوں ميں طاقتور بھي نہيں ليکن يہ وطن کمزور ہے، عوام کو کمزور رکھا گيا ہے، انہيں لڑايا گيا ہے آپس ميں تاکہ يہ چين سے حکومت کر سکيں? دوستو! حضرت موسي نے اپني قوم کو قرآن ميں خطاب کيا ہے، موسي نے اپني قوم سے کہا، بني اسرائيل سے، جو فرعونيت کے ظلم و استعداد کي چکي کے پاٹوں ميں پس رہي تھي، جس کے مردوں کو قتل کيا جا رہا تھا، بچوں کو مارا جا رہا تھا، عورتوں کو زندہ رکھا جاتا تھا، ظلم استبداد تھا، ان تحقير کي جاتي تھي، انہيں غلام بنايا گيا تھا? فرعون ان کا خدا بن بيٹھا تھا? انہيں پست کر ديا گيا تھا، اتنا پست کہ اللہ کي بجائے وہ اس کے آگے جھکيں، انہيں دھمکياں ديتا تھا کہ تمہيں سولي پر لٹکائوں گا، تمہيں قتل کر دوں گا اور قتل کرتا تھا?
موسي نے اپني قوم سے کہا اس سے مدد مانگو، اللہ سے متمسک ہو جائو، اس پر توکل کرو اور اسي سے مدد مانگو اور پھر ہمت نہ ہارنا، اس فرعون سے نہ ڈرنا، حوصلہ نہ ہارنا، نااميد نہ ہونا، ثابت قدم رہنا، فرعون کے مقابلے ميں ميدان خالي نہ چھوڑنا، يہ زمين اللہ کي ہے، کسي کي جاگيردار نہيں ہے، کسي فرعون کي نہيں ہے، کسي وڈيرے کي نہيں ہے، کسي سياسي پارٹي کي نہيں ہے، اس کا خالق بھي اللہ اور اس کا مالک بھي اللہ ہے، تم ثابت قدم رہو، اللہ تمہيں اپني زمين کا وارث بنا دے گا، عاقبت، متقين کے ليے ہے، پرہيزگاروں کے ليے ہے? شرابيوں کے ليے، راہزنوں کے ليے، چوروں کے ليے، قاتلوں کے ليے نہيں ہے بلکہ عاقبت متقين کے ليے ہے، بہترين انجام متقين کا ہے?
ايک اور مقام پر خدا ارشاد فرماتا ہے کہ ميري زمين کے وارث ميرے صالح بندے ہوں گے جو اللہ کے صالح بندے نہيں ہيں وہ زمين پر غاصب ہيں، غاصبوں کو حق حکومت اللہ نے نہيں ديا ہے بلکہ متقين کو ديا ہے? شرابيوں کو نہيں ديا، چوروں کو نہيں ديا ليکن دوستو ہوتا کيا ہے، ہم کہتے ہيں کہ سياست دين داروں کا کام نہيں ہے، وہ جائيں مسجد ميں بيٹھيں، محراب ميں بيٹھيں، تسبيح پڑھيں اور سياست بے دين کريں، حکومت بے تقوي? اور رشوت خور کريں جن کے پيٹ نہيں بھرتے، جو ڈاکو کريں? اس کا انجام يہي ہو گا کہ تفرقہ ہو گا، بھوک ہو گي اور افلاس ہو گا? اختلافات ہوں گے، پسماندگي ہو گي، ظلم و ستم ہو گا، جہالت ہو گي، جاہليت ہو گي بلکہ ساري بيمارياں ہوں گي?
ہميں فخر ہے کہ ہم مکتب تشيع سے تعلق رکھتے ہيں، ہم آئمہ اہل بيت اور عادلوں کو اپنا امام مانتے ہيں? کوئي کہہ سکتا ہے کہ امام علي سيکولر تھے، علي عرب نيشلسٹ نہيں تھے، علي کميونسٹ نہيں تھے، علي سوشلسٹ نہيں تھے، علي لبرل نہيں تھے، ان کي گفتگو خدا کے ليے تھے، ان کا سکوت خدا کے ليے، ان کي تلوار خدا کے ليے ہم سيکولر نہيں ہيں، ہمارے بارہ امام ہيں، ہم نيشلسٹ نہيں ہيں، کوئي نہيں کہہ سکتا? صراط مستقيم وہي ہے جو علي نے دکھايا جو قرآن سے بتلايا?
کميونزم شکست کھا چکا ہے، سيکولرازم شکست کھا چکا ہے، کيپٹل ازم شکست کھا چکا ہے اور نيشلزم بھي شکست کھا چکا ہے? عرب نيشنلزم کے نام پر اسرائيل سے عرب لڑے شکست کھائي? آج اسرائيل کو کس نے شکست دي، عرب نيشلسٹوں نے نہيں بلکہ حزب اللہ نے شکست دي ہے اور حماس نے? جہاد اسلامي نے جو عرب نيشلزم کا پرچم اٹھا کر نہيں چلے بلکہ اسلام کا پرچم لے کر چلے ہيں، آج سارے ازم شکست کھا چاکے ہيں? سب ازم شکست کھا چکے ہيں? مصر ميں اسلام کي بہار ہے، تيونس ميں اسلام کي بہار ہے، عراق ميں امريکہ شکست کھا گيا ہے، افغانستان ميں شکست کھا چکا ہے، خليج ميں شکست کھا گيا ہے، دنيا کي استکباري طاقتيں سمٹ رہي ہيں، وقت بدل رہا ہے، تبديل ہو رہا ہے، ہميں اس کے ليے اپنے آپ کو تيار کرنا ہو گا?
امريکہ سکڑ رہا ہے، اس کي طاقت کم ہو رہي ہے، اس کي فوجي طاقت کمزور ہو چکي ہے، اس کي سياسي و اقتصادي طاقت کمزور ہو رہي ہے? اقوام عالم ميں ہيبت امريکہ اور اس کے ساتھيوں کي ہے? کہاں ہے وہ حسني مبارک جو مجاہدوں کو پنجروں ميں بند کيا کرتا تھا، کہاں ہے وہ بن علي، کہاں ہے وہ قاتل قذافي؟ بے گناہوں کا قاتل کہاں ہے صدام؟ خدا ظالموں کو ظالموں سے لڑاتا ہے يہ ہمارے چوتھے امام کي دعا ہے، خدا کبھي اپنے دين کا کام فاسقوں اور فاجروں سے نہيں ليتا، عالمي استکبار کي عمارت کے اندر دراڑيں ہيں، وہ گر رہا ہے، اب باري ايشياء کي ہے، ايشياء نے دنيا کو ليڈ کرنا ہے?
ايشياء دنيا کا امير ترين خطہ ہے، ہر حوالے سے، ريسورسز کے حوالے سے، افراد کي قوت کے حوالے سے، سکلڈ مين پاور کے حوالے سے، ہر حوالے سے ايشيائ، چائنہ ايشياء ميں، جاپان ايشياء ميں، ملائيشياء ايشياء ميں، مشرق وسطي? ايشياء ميں، تيل کے ذخائر، گيس کے ذخائر، اناج کے ذخائر ميں، دنيا کي سب سے بڑي منڈي اور افراد کي قوت ايشياء ميں ہے? اس دنيا کو ليڈ کرنا ہے ايشياء نے اور ايشياء چائنہ کے پاس اقتصادي طاقت ہے، آئيڈيالوجي نہيں ہے، انڈيا کے پس ممکن ہے طاقت ہو ليکن آئيڈيالوجي کسي کے پاس نہيں، جاپان کے پاس اقتصادي طاقت ہے آئيڈيالوجي نہيں ہے، آئيڈيالوجي کس کے پاس ہے صرف اسلام کے پاس? اس ليے اسلام کي رہبري کا زمانہ آنے والا ہے، تمام ازم شکست کھا چکے ہيں، ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو آپس ميں لڑائيں اور مسلمان اس تاريخي فرصت سے فائدہ نہ اٹھا سکيں? ہمارے اندر سے گروہ تيار کرنا ہے?
اس عالمي استکبار کي عمارت کي زمين بوسي انقلاب اسلامي ايران سے شروع ہوئي تھي جو گرتي چلي جا رہي ہے، کہاں گيا اسرائيل کا وہ تيل اور افراد تک ، اب وہ اپنے اندر ديواريں کھڑي کر رہا ہے، اس کو کس نے شکست دي ہے، کرار کے ماننے والوں نے، خيبرفتح کرنے والے علي کے پيروکاروں نے? آج حماس کے پيچھے کون کھڑا ہے، کيا عرب نيشلسٹ، عرب شہنشاہ اس کے ساتھ ہيں، نہيں علي کے ماننے والے حماس کے ساتھ کھڑے ہيں? ابوالفضل عباس باوفا کے وفادار تيرو کا کھڑے ہيں، جہاد اسلامي کے ساتھ کون کھڑا ہے علي کے ماننے والے کھڑے ہيں، مصر کے تو راستے ہي بند کيے ہوئے تھے، عرب حکمران اور شہنشاہ پر امريکي پٹھو، يہ امريکي دسترخوان پر پلنے والے، خنزير اور بے غيرت حکمران، يہ تو ايمان بھي اور ملتوں کو بھي پہنچنے والے ہيں، ضميرفروش حکمران، نہ ان کے ساتھ نہيں، ان کے ساتھ کون ہيں، علي کے ماننے والے ہيں، ہم جہان اسلام سے کہتے ہيں کہ ہمارے اندر بڑا پوٹينشل ہے اسلام کي خدمت کا، ہم اہل سنت کي بھي خدمت کرنے والے ہيں، ہم ہر مظلوم کے حامي ہيں، ہمارے شہيد قائد علامہ سيد عارف حسين الحسيني نے کہا تھا کہ ہم ہر ظالم کے دشمن ہيں خواہ وہ شيعہ ہي کيوں نہ ہو اور ہر مظلوم کے حامي ہيں خواہ وہ کافر ہي کيوں نہ ہو?
عجيب نہيں ہے کہ جو علي کو امام مانے وہ کافر؟ جو امام ابوحنيفہ کو امام مانے وہ مسلمان، امام ابوحنيفہ کے استاد حضرت امام جعفر صادق عليہ السلا م ہيں? امام ابوحنيفہ وہ ہيں جنہوں نے امام جعفر صادق کے بيٹے زيد کا ساتھ ديا، جنہوں نے عباسي خلفاء کے ظلم و تشدد جھيلا، ان کي حمايت ميں مشکلات جھليں، جيل گئے، دوستو ہم علي کے ماننے والے ہيں، ہم مظلوموں کے بشريت کے، انسانيت کے خدمت گزار ہيں، جو علي کا ماننے والا کرپٹ ہو، وہ علي کا ماننے والا نہيں، شيطان کا ماننے والا ہے، ايسا شيعہ شيعيت کے نام پر دھبہ ہے، يہ علي کے شيعہ نہيں?
روايت ہے کہ جب انسان گناہ کرتا ہے وہ اللہ کي نہيں بلکہ شيطان کي اطاعت کرتا ہے? جو شيعہ کرپشن کرتا ہے، ظلم کرتا ہے، نا انصافي کرتا ہے، وہ علي کا پيروکار نہيں، وہ شيطان کا پيروکار ہے، شيطان کا چيلا ہے، کوئي ثابت نہيں کر سکتا کہ آج تک شيعہ مسلک کے کتنے فقيہ نے کسي اہل سنت کے کفر کا فتوي? ديا ہو? ہمارے فقہاء نے فتوي? ديا ہے کہ اہلسنت بھائيوں کے مقدسات کي توہين کرنا حرام ہے? ہمارے ليے علمائ، بزرگان با بصيرت ہيں، وہ خون کے دريا سے گزر کر يہاں تک پہنچے ہيں?
تاريخ ميں يزيديت کے مقابلے ميں ہے، جانتے ہيں کہ يزيديت کيا ہوتي ہے، اس کے اہداف کيا ہيں، اس کے منصوبے کيا ہوتے ہيں، اس کے ہتکھنڈے کيا ہوتے ہيں، اس کے طريقے کيا ہوتے ہيں، يزيديت کتنے ہي نقالوں ميں کيوں نہ چھپي ہوں ہم اسے پہچان ليتے ہيں، ہميں دير نہيں لگتي? دوستو! عالمي استکبار کا سورج ڈوب رہا ہے، غرق ہو رہا ہے اور امامت کا سورج ايشياء سے طلوع ہو رہا ہے اور اس کے اندر جہان اسلام کا بڑا رول ہے?
پاکستان ميں شيعہ سني لڑائي ہے، نہيں اگر شيعہ سني لڑائي ہوتي تو گلي گلي ميں جنگ ہوتي? يہاں ايک مزدور گروہ تھے، ايک يزيدي گروہ ہے جو اسرائيل امريکہ اور انڈيا کا ايجنٹ ہے جو ان کے منصوبوں پر عمل کر رہا ہے اور اس علاقہ کو آزاد کرانے والي عظيم ہستيوں کي نسل سے انتقام لے رہا ہے آزادي کا? ہمارے اندر کربلائي، ہم وارث ہيں ان شہداء کے، ہم کربلا کے وارث ہيں، آزادي ہماري ميراث ہے، حق ہماري ميراث ہے، سچ ہماري ميراث ہے، وفا ہماري ميراث ہے، پاکدامني ہماري ميراث ہے، عفت ہماري ميراث ہے، غرض يہ کہ تمام انساني فضيلتيں ہماري ميراث ہيں جنہيں ميدان کربلا ميں ہمارے آئمہ نے اپنے خون سے زندگي دي ہے، ہميں ان کي پاسداري کرني ہے? وحدت شيعہ اور سني کے درميان ايک نعرہ نہيں ہے ايک اصل ہے?
امام خميني کا فتوي? تھا کہ اگر شيعہ حج پر جائيں اور کمروں ميں نماز ادا کريں، نماز جماعت ميں شريک نہ ہوں جو حرم کے اندر ہو تو ان کي نماز باطل ہے? دوستو! يہ ہمارے دشمن کا منصوبہ ہے، عراق ميں بھي کوشش کر رہا ہے? ميں کچھ عرصہ قبل لبنان گيا تھا? سيد حسن نصراللہ بتا رہے تھے کہ ہمارے دشمنوں نے تقريباً چار ارب ڈالر خرچ کيا چھوٹے سے ملک لبنان ميں وہ گلگت بلتستان جتنا تقريباً 27 کلوميٹر رقبہ ہے، وہاں چار ارب ڈالر خرچ کيے کہ وہاں پر تفرقہ پھيلے، شيعہ سني لڑائي شروع ہو ليکن انہوں نے يہ منصوبہ ناکام کر ديا، کامياب نہيں ہونے ديا?
يہ کربلائي اور حيدري بصيرت ہے، يہ علي کي بصيرت کے امين اور وارث نہيں? انہوں نے کہا کہ اسرائيل ہميں لڑانا چاہتا ہے? عراق کے اندر ساڑھے تين ارب ڈالر خرچ کيے، وہاں پر ہمارے آئمہ کے مزاروں کو اڑايا گيا، کربلا ميں بم دھماکے کيے، اگر ہمارے علمائ، نعوذ باللہ من ذالک فتوي? ديتے کہ اٹھو سنيوں کے گھروں پر حملہ کرو تو وہاں کتني قتل و غارت ہوتي، ہمارے علماء نے برداشت کيا، ہمارے آئمہ کے مزار ہوائوں ميں اڑا ديئے گئے، ہمارے عزاداري کے جلوسوں پر حملے ہوئے، کربلا ميں بم بلاسٹ ہوئے، بغداد ميں، پورے عراق کے اندر ليکن ہمارے علماء نے کہا کہ يہ سني کا کام نہيں ہے، يہ شيعہ اور سني کا دشمن ہے جو يہ کر رہا ہے ?
ہماري طرف سے بصيرت ہے، يہاں پر بھي ايسا ہي ہے، دوستو جو آپ پر حملہ کرتا ہے وہ سني نہيں ہے، وہ انڈيا کا ايجنٹ ہے، امريکہ اور اسرائيل کا ايجنٹ ہے، وہ انسانيت کا دشمن ہے اور پاکستان دشمن قوتوں کا ايجنٹ ہے لہ?ذا ہم نے بصيرت کے ساتھ تياري کرني ہے، يہ يزيد ہيں، يہ وحشي اور درندے ہيں، يہ بے رحم ہيں، کمزوروں کو روندتے چلے جاتے ہيں، ہم نے ان کے سامنے وحدت کے عظيم پہاڑ کو کھڑا کرنا ہے، ان کے سامنے مضبوط ارادوں کي چٹانوں کو کھڑا کرنا ہے? اپنے آپ کو طاقتور بنانا ہے تاکہ اس ثٹان کے ساتھ جو بھي ٹکرائے وہ پاش پاش ہو کر رہ جائے، دوستو ہميں بہت سمجھ دار ہونے کي ضرورت ہے?
اس خطے کے لوگ پاکستان کے باقي علاقوں کي طرح محروم ہيں جبکہ يہاں محروميت زيادہ ہے، يہ کسي سے بھيک نہيں مانگتے، صرف اپنے حقوق مانگتے ہيں، يہ بھکاري نہيں ہيں، يہ کريم اور شريف لوگ ہيں، ان حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ اگر انہيں حقوق نہ ديئے گئے تو وہ وقت آئے گا جب يہ اپنے حقوق چھين ليں گے? محرم آرہا ہے، نواسہ رسول? کي ياد کے دن ہيں، سب مسلمان امام حسين سے عشق کرتے ہيں، فقط مسلمان نہيں ہر باضمير انسان حسين سے محبت کرتا ہے، حسن سب کا ہے، حسين انسانيت کا ہے، حسين بشريت کا ہے، جس کي مطہرت نے گوارہ نہيں کيا کہ بشريت پر يزيديت کا منحوس سايہ چھا جائے اور بشريف يزيديت کے جہنم ميں جلے? وہ اٹھا بشريت کو حسنيت کي جنت دينے کے ليے، حسينيت کي بہشت دينے کے ليے، حسينيت کا سايہ دينے کے ليے، بشريت کو حسيني آغوش ميں لينے کے ليے تاکہ يزيديت کي گود ميں انسانيت نہ پلے ورنہ يزيديت کي کوکھ ميں اگر انسانيت پلے گي تو اس سے شمر پيدا ہوں گے، خولي پيدا ہوں گے، حرملا پيدا ہوں گے، اگر حسينيت کي آغوش ميں پليں گے تو عباس پيدا ہوں گے، حبيب پيدا ہوں گے، مسلم پيدا ہوں گے، علي اکبر پيدا ہوں گے? يہ عظيم معرکہ ہے کہ حق و باطل کا اسے بھرپور طريقے سے ياد رکھتا ہے، يہ وہ سرخ لکير ہے جو حق اور باطل کے درميان ہے? سچ اور جھوٹ کے درميان ہے، نيکي اور بدي کے درميان ہے، شيطان اور خدا کے درميان ہے يا اسے زندہ رکھتا ہے، خون بھي دينا پڑے تو زندہ رکھنا ہے? اس سرخ لکير کو جو حسين کے کربلا ميں حيوانيت اور انسانيت کے درميان کھينچي تھي، جو حق اور باطل کے درميان کھينچي تھي، اسے زندہ رکھنا ہے ?
ليکن دوستو! ہميں کيپ آف کميونيکيشن ختم کرنا ہو گا? ہماري مجالس ايسي ہوں جن ميں ہر مکتبہ فکر کا آدمي آسکے? سب کو حسين کي ضرورت ہے، ہر ايک کو حسين کي ضرورت ہے، جسے عدالت چاہيے، اسے حسين چاہيے، جسے علم چاہيے اسے حسين چاہيے، جسے سچائي چاہيے اسے حسين چاہيے? جسے پاکيزگي اور طہارت چاہيے اسے حسين چاہيے، جسے بہادري چاہيے اسے حسين چاہيے، انسان جو بھي فضيلتيں چاہتا ہے وہ حسين کے دامن سے مليں گي? آئو حسين کے حرم اور بارگاہ کو ايسا بنائيں جہاں ہر انسان آئے? انہيں اپني گلي، محلوں ميں، اپنے اہل سنت بھائيوں سے مليں، ان کے ساتھ رابطہ برقرار کريں، غلط فہمياں دور کريں، يہ ہمارا تجربہ ہے?
لال مسجد کے امام جماعت امام جمعہ عامر صديق صاحب چند دن پہلے ملنے آئے تھے، ہم ان سے ملے تھے? امکان تھا کہ وہ ہمارے ساتھ بھي يہاں آئيں? وہ ہميں ملے اور ملنے کے بعد انہيں پتا چل گيا کہ علي کے ماننے والے موحد ہيں مشرک نہيں ہيں اور بہترين توحيد علي کي ہے جس نے فقط اللہ کے سامنے سر جھکايا، کسي بت کے سامنے سر نہيں جھکايا وہ مواحدہے ہمارا امام? دوستو! مل جائيں لوگوں کے ساتھ، فاصلے پيدا نہ کريں? يہاں پر علماء بھي ہيں، سياسي طبقہ بھي ہے، ميں ديني طالب علم ہوں ليکن سياسي خاندان سے بھي تعلق ہے?
مجھے علماء سے بھي کہنا پڑے گا کہ محرابوں سے اٹھيں اور اسمبلي کو بھي مسجد و محراب بنا ڈاليں تاکہ وہاں سے بھي ہم حرب کريں، جنگ کريں، لڑائي کريں، کرپشن سے، رشوت سے، جہالت سے، ظلم سے، استبداد سے، دہشت گردي سے تاکہ ميرا وطن امن کا گہوارہ بنے، چمن بنے اور گلستان بنے اور انشاء اللہ ضرور بنے گا چونکہ ہم نے لبيک يا حسين کا نعرہ لگايا ہے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے