حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مرکزي محرم الحرام کميٹي کے اراکين سے ٹيلي فون پر گفتگو کرتے ہوئے حجت الاسلام ساجد نقوي نے کہا کہ يہ حقيقت روز روشن کي طرح سب پر عياں ہے کہ واقعہ کربلا کے پس منظر ميں اسلام کے آفاقي اصول اور پختہ نظريات کارفرما تھے اور سيد الشہداء کے قيام کا ہدف و مقصد فقط اور فقط امت مسلمہ کي اصلاح تھي لہذا کربلا کے پيغام کو مشعل راہ بناکر اپني دنيوي و اخروي نجات کا سامان فراہم کيا جاسکتا ہے ?
انہوں نے کہتے ہويے کہ نواسہ رسول ، امام عالي مقام کسي ايک مکتب يا مسلک کے نہيں بلکہ پوري امت کے پيشوا اور امام ہيں تاکيد کي : کربلا ايک تحريک اور نظام کا نام ہے جو ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائي کا باعث ہے لہذا آمدہ محرم الحرام ميں بھي پوري دنيا سميت اسلاميان پاکستان بھي بلاتفريق مذہب و مسلک انتہائي عقيدت و احترام سے نواسہ رسول اکرم کا غم اپنے اپنے انداز سے مناکر محسن انسانيت کو خراج عقيدت پيش کريں گے ?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے يہ بيان کرتے ہويے کہ عزاداري سيد الشہداء آئيني اور قانوني حق اور شہري آزاديوں کا مسئلہ ہے کہا : مجالس و جلوس عزاء کو چارديواري ميں محدود کرنے کي باتيں احمقانہ ہيں ، اسي طرح سنگينوں کے سائے کرفيو اور مصنوعي خوف وہراس اور محاصرے کے عالم ميں عزاداري سيد الشہداء قبول نہيں ?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے اس بات پرزور ديتے ہويے کہ عزاداري سيد الشہداء کسي مکتب اور مسلک کے خلاف نہيں اس لئے وحدت اور اخوت کو مدنظر رکھا جائے اور نفرت انگيز اور توہين آميز گفتگو اور اقدام سے گريز کيا جائے کہا : خطباء ، ذاکرين اور عزاداران مظلوم کربلا کو چاہيے کہ وہ اپني صفوں ميں اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے الفت و محبت کا پيغام عام کريں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے