01 December 2011 - 18:27
خبر کا کوڈ: 3505
فونت
عدليہ کے سربراہ :
رسا نيوزايجنسي - عدليہ کے سربراہ نے ايران کے خلاف بعض مغربي ممالک کي جانب سے پابندي کو ان کي غنڈہ گردي کا لازمہ بتاتے ہوئے کہا : ايران نے ھرگز غنڈہ گردي کے اگے سرتسليم خم نہي کيا اور سامراجيت کے اگے نہي جھک سکتا ?
آيت الله صادق آملي لاريجاني

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، عدليہ کے سربراہ آيت الله صادق آملي لاريجاني نے عدليہ کے اھلکاروں کي نشست ميں جو اج ماه محرم اور ايام عزاداري اباعبدالله الحسين (ع) کي منابست سے منعقد کي گئي يوروپ يونين کے اقدامات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : يوروپ يونين ، مغربي ممالک خصوصا برطانيہ نے ايران کے خلاف جن اقدامات کو انجام ديا جس کي بنياد پر ايران کي اقتصادي پابنديوں ميں سختي اوربغيربين الاقوامي اتحاد کے بينکوں کي يکطرفہ تحريم ان ميں سے ايک ہے ?

آيت الله آملي لاريجاني بيان کيا : گذشتہ 30 سالوں ميں ايران نے يہ ثابت کرديکھايا کہ ھم نے جس راستے کو اپنايا ہے وہ مستحکم ہے اور ھرگز مغربي دنيا کے غير قانوني مطالبات کي تکميل نہي کرسکتے ?

عدليہ کے سربراہ نے ايران پر بڑھتے دباو کو معمولا مغرب کے منافع کي بنياد پر نہ انساني حقوق يا دو طرفہ معقول روابط کي بنياد پربتاتے ہوئے کہا : ان انساني حقوق کے دعووں کے پيچھے موجود منافع ھر دن سے کہيں زيادہ اج روشن واشکار ہيں کيوں کہ خود اج امريکا ، يوروپ اور مغربي ممالک ميں اس طرح عوام کو کچلا جا رہا ہے کہ ان کي فرياد دنيا کے کانوں تک پہونچ چکي ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : ھماري قوم نے ترقي کے رستے ڈھونڈ نکالے ہيں اور بے خوف وخطر ترقيوں کي طرف گامزن ہے ، اس نے کبھي بھي پابنديوں کي پرواہ نہي کي تھي جسے مغربي ممالک بھي بخوبي جانتے ہيں کہ اج کي دنيا اس طرح نہي کہ مغرب سے وابستہ رہے اسي بنياد پر اب پابنديوں کا اسلحہ ناکارہ ہوچکا ہے ?

آيت الله آملي لاريجاني نے برطانيہ سے روابط کي کمي نہايت معقول بتاتے ہوئے کہا : پارليمنٹ کا يہ فيصلہ نہايت بجا ہے ايک ايسا فيصلہ ہے جو ملت ايران کي خواھش کے مطابق بھي ہے اور جو ملک بھي ايران کے ساتھ اہانت اميز برتاو کرے گا يقينا انہيں يہي جواب ملے گا ?

عدليہ کے سربراہ نے سوريہ کے حاليہ واقعات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : سوريہ صھيونيت سے مقابلے ميں ھميشہ اگے اگے رہا اور اس نے مظلوم فلسطينيوں ، حماس اور حزب اللہ کي مدد کي ہے مگر امريکن اور يورپين نے دنيا کي نگاہوں کو مشرق وسطي ميں رونما ہونے والے حوادث سے ہٹا نے کے لئے سوريہ کے ميٹر کو اٹھايا ہے اور انہوں نے وہاں کے حالات خراب کرنے کي غرض سے افراد بھيجے ہيں ?

آيت الله آملي لاريجاني نے عوام کي سوريہ حکومت سے حمايت کو امريکا کي پريشاني کا سبب بتاتے ہوئے تاکيد کي : امريکن بخوبي جانتے ہيں کہ استقامت کا اھم رکن سوريہ ہے اسي بنياد پر کہ استقامت کا ايک رکن توڑ سکيں اور دوسري جانب دنيا کي توجہ مشرق وسطي اور شمالي آفريقہ سے ہٹا سکيں مختلف طريقے سے سوريہ کي داخلي حالات کو خراب کرنے ميں کوشاں ہيں ،افسوس بعض پڑوسي ممالک بھي سوريہ پر بڑھتے دباو کے نتيجے سے غافل سوريہ کے خلاف اقدامات انجام دے رہے ہيں اورعرب ليگ کا فيصلہ بھي انہيں کے فائدے ميں ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مسلمان ملتوں کا مسئلہ مسلم حکومتوں سے الگ ہے کہا : سوريہ کے خلاف اقدامات اسرائيل کے لئے نيا راستہ کھولنے کے مساوي ہے ، افسوس کہ کل جو ممالک صھيونيت سے مخفيانہ دست دوستي دراز کئے تھے اج وہي سوريہ کے خلاف ہيں?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬