قائد ملت جعفريہ پاکستان :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے مرکزي محرم الحرام کميٹي کے اراکين ، بانيان مجالس ، لائسنسداران ، عزاداران ، خطباء و ذاکرين سے اپني صفوں ميں اتحاد ويکجہتي برقرار رکھتے ہوئے بلاخوف و خطر عزاداري سيد الشہداء کرنے کي تاکيد کي ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ عزاداري سيد الشھداء نہ صرف عوام کي مذہبي و قانوني حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ يہ انکي شہري آزاديوں کا بھي مسئلہ ہے کہا : عزاداري پر کسي قسم کي قدغن يا امن و امان کے قيام کي آڑ ميں رکاوٹ يا پابندي قابل قبول نہيں لہذا وفاقي اور صوبائي حکومتوں بالخصوص پنجاب حکومت کي يہ ذمہ داري بنتي ہے کہ مجالس و جلوس ہائے عزاء کے انعقاد ميں رکاوٹوں کو دور کرے ?
انہوں نے پوليس اور انتظاميہ کو انکي ذمہ داريوں سے راہ فرار اختيار کرنے پر شديد تنقيد کرتے ہوئے کہا : مجالس اور جلوسوں ميں رکاوٹيں اور خلل ڈالنے کي کوشش ھرگز قابل قبول نہيں?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مصنوعي خوف و ہراس ، محاصرے کا عالم اور سنگينوں کے سائے ميں عزاداري پاکستاني عوام کے بنيادي ، قانوني اور شہري حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کي کوشش ہے تاکيد کي : ھم اس کا بھرپور دفاع کريں گے اورعزاداري سے ھرگز ہات نہي اٹھا سکتے کہ جو عالمي سامراجيت اور ناصبي وھابيت کا بنيادي ايجنڈہ ہے ?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے موجودہ دور ميں عزاداري کے خلاف قانون سازي ، جلوس کے روٹ اور مجالس کے اجازت نامے منسوخ کرنے کے اقدامات اور ان اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو دہشت گردي اور فورتھ شيڈول جيسے ظالمانہ قوانين کا شکار بنانادر اصل عزاداري کو ختم کرنے اور تشيع کو محدود و مقيد کرنے کي گھنوني سازش بتاتے ہوئے کہا : دہشت گردي اور ظالمانہ قوانين کے خلاف احتجاج کرنا اور عزاداري کي حفاظت کرنا ہمارے بنيادي آئيني اور شہري حقوق کا مسئلہ ہے اور حقوق سے دستبرداري کا ہم نے آج تک تصور ہي نہيں کيا لہذا حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ ہمارے حقوق اور آزاديوں کا خيال رکھيں اور عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق اور آزاديوں کي حفاظت کے لئے متحد ہوکر منظم اور طاقتور آواز بلند کريں اور جدوجہد کے لئے آمادہ و تيار رہيں ?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے يہ کہتے ہوئے کہ ايام محرم الحرام کے دوران تمام مسالک کے علماء ، خطباء ، مقررين ، ذاکرين ، رہنمائوں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اتحاد بين المسلمين ، وحدت امت اور امن و امان کي طرف متوجہ کريں اور ايک دوسرے کے عقائد و نظريات کا احترام کرنے کو ملحوظ خاطر رکھيں بيان کيا : تحمل ، برداشت اور تعاون کے ماحول کے ذريعہ دہشت گردي کے خاتمے اور دہشت گردوں سے لاتعلقي کا اعلان کريں ، دہشت گردوں ، فرقہ پرستوں ، مذہبي جنون رکھنے والوں اور شرپسندوں کے عزائم خاک ميں ملانے کے لئے وحدت کو فروغ ديں تاکہ محرم الحرام بخير و خوبي اور امن کے ساتھ گزرجائے اور مستقبل ميں بھي فرقہ وارانہ ہم آہنگي کي صورت حال بہتر ہو ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے