سيد عبدالجليل نقوي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، شيعہ علماء کونسل پنجاب کے صدرحجت الاسلام سيد عبدالجليل نقوي نے دس محرم الحرام کو اپنے پيغام ميں کہا کہ نواسہ رسول سيد الشہداء حضرت امام حسين عليہ السلام نے ريگزار کربلا ميں اپني اولاد ، خاندان ، آل واصحاب اور انصار کے ساتھ خداتعالي کي ذات کے سامنے قرباني کا نذرانہ پيش کرکے ايسي لازوال مثال قائم کي جس کي نظير کائنات ميں نہيں ملتي ?
انہوں نے مزيد کہا : چودہ سوسال سے زائد عرصہ گذر جانے کے با وجود کربلا کي ياد آج بھي تازہ ہے اور دنيا کا ہر مسلمان بلکہ ہر انسان فخر و مباہات کے ساتھ امام عالي مقام کے ساتھ قلبي لگاو رکھتا ہے?
حجت الاسلام سيد عبدالجليل نقوي نے امام عالي مقام کي ذات کو مسلمہ امت ميں وحدت و يکجہتي کي علامت بتاتے ہوئے کہا : کوئي بھي انصاف پسند اور حق شناس مسلمان امام حسين سے محبت کئے بغير زندہ نہيں رہ سکتا اس لئے ہميں نواسہ رسول کو اپنا رہبر و رہنما سمجھتے ہوئے باہمي اتحاد و وحدت کا مظاہرہ اور سچے حسيني ہونے کا عملي ثبوت فراہم کرنا چاہئے?
شيعہ علماء کونسل کے صدر نے يہ کہتے ہوئے کہ جو لوگ امام حسين اور شہدائے کربلا جيسے پاکيزہ نفوس کي ياد منانے اور عزاداري برپا کرنے ميں رکاوٹيں ڈالتے ہيں يا ياد حسين کو روکنے کي کوشش کرتے ہيں يا دہشت گردي ، خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ذريعے حسينيوں کا قتل عام کرتے ہيں ان کا حسين اور حسينيت سے کوئي سروکار نہيں تاکيد : ايسے لوگ يزيديت کي ترجماني کرتے ہوئے اسلام کا روشن چہرہ مسخ کرکے امت مسلمہ کوبدنام کرنے کا فعل قبيح انجام دے رہے ہيں ? ايسے عناصر کو مسلمہ امت کي صفوں سے نکال ديا جانا چاہئے?
پاکستان کے معروف ومشھور شيعہ عالم دين نے پاکستان کے شيعہ وسني عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا : محرم الحرام کے پہلے عشرے کے علاوہ ديگر ايام عزاء ميں بھي ايسے اسلام اور حسينيت دشمن عناصر کي سازشوں اور مکاريوں سے ہوشيار رہتے ہوئے ان کي تخريب کاريوں اور دہشت گرديوں کي طرف متوجہ رہيں?
انہوں نے باہمي اتحاد و اخوت اور رواداري کو قائم رکھتے ہوئے مراسم عزاء پورے جوش و خروش اور مذہبي عقيدت و ولولے کے ساتھ انجام دينے کي تاکيد کرتے ہوئے کہا : پاکستان سے فرقہ پرستي ، انتہا پسندي اور دہشت گردي کا ناسور ختم اور روز عاشور امام حسين کي طرف سے ديا جانا والا آفاقي پيغام اپني روح کے ساتھ نافذ و رائج ہونا چاھئے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے