
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، علماء کويت اور پارليمنٹ کے ممبروں نے مسجد مبارک الصباحيه شنار کويت کے امام جمعہ کي شيعوں اور اباعبدالله الحسين (ع) کي شان ميں گستاخي پر شديد مذمت کي ?
ثوابت الشيعه اجتماعات کے جنرل سکريٹري فرج الخضري نے اس اھانت کو محکوم کرتے ہويے کہا : بعض ايمہ جمعہ وجماعت کي جانب سے شيعہ مقدسات اور عقايد پر زيادتيوں کا تسلسل بہت خطرناک ہے يہ اقدامات قومي اتحاد کے ليے خطرہ ہيں مگر افسوس ملک ميں ان غلطيوں کي بہ نسبت کسي قسم کا ايکشن نہي ليا جاتا ?
انہوں نے مزيد کہا : مسجد مبارک الصباحيه شنار کويت کے امام جمعہ نے شيعہ مذھب کي اھانت اور ان کے عقايد کي بہ نبست شک وشبہ ظاھر کيا ہے اور يہ زيادتياں کي جا رہي ہيں جبکہ وزارت اوقاف نے بارہا وبارہا خطباء مساجد کو قوانين پر عمل کرنے پر زور ديا ?
ثوابت الشيعه اجتماعات کے جنرل سکريٹري نے پچھلے مہينوں ميں دو خطيبوں کي شيعوں کي توھين کي جانب اشارہ کرتے ہويے کہا : پتہ نہي بعض ايمہ مساجد کي طرف سے شيعوں کي تکفير کا سلسلہ کب تک لگا رہے گا اب يہ بات خطرے کے نشان تک پہونچ چکي ہے اور اس سے معاشرے کو بھي خطرہ لاحق ہے ?
کويت کے شيعہ سياست داں عدنان المطوع نے اس توھين کي بہ نسبت ناراضگي کا اظھار کرتے ہويے کہا : اس واقعہ سے يہ پتہ چلتا ہے کہ مذ ھب تشيع کے حق ميں بعض مذھبي مراکز کي طرف سے زيادتياں ناامني کي ترويج اور جمھوريت کا چہرہ خراب کرنے و پرسکون عوامي زندگي کو دشورايوں سے روبرو کرنے کي غرض سے کيا جارہا ، اس طرح کے اقدامات بيروني ممالک ميں غلط طريقے سے بيان کيے جارہے ہيں ، ايسے کہ کويت ميں انساني حقوق کي پايمالي ہورہي ہے اور وہاں عقيدے ميں ازادي نہي رہي ہے اور يہ ملک انساني حقوق کي رعايت ميں کمترين مرتبے ميں ہے ?
انہوں نے شيعوں کي اھانت کے حوالے سے ادارہ اوقاف کي کوتاہيوں کي جانب اشارہ کرتے ہويے کہا : وزارت اوقاف ايمہ مساجد پر نگاہ رکھنے پر موظف ہے ، لھذا وہ اديان ومذاھب کي توھين کرنے والوں کے منھ ميں لگام دے ، وزارت داخلہ اور سماجي مراکز کے ذمہ داران بھي اس طرح کي باتوں سے مقابلہ کريں ?
کويت کورٹ کے ملازم خالد الشطي نے مسجد مبارک الصباحيه شنار کويت کے امام جمعہ کي باتوں کو تکفيري افکار کا نتيجہ بتاتے ہويے کہا : مسجد مبارک الصباحيه شنار کويت کے امام جمعہ تکفير مدرسہ سے وابستہ ہيں اور کويت کي نابودي کے درپہ ہيں اور اس ملک کو مذاھب کے تعدد اور جمھوريت مخالف ظاھر کرنا چاھتے ہيں ?
انہوں نے موجودہ حالات کي بہ نبست متنبہ کرتے ہويے کہا : ان مدارس کي لہجہ اعراب جاہليت ، طالبان اور القاعدہ کا لہجہ ہے تعليمي مراکز کے طرز تعليم کا نتيجہ ، ادارہ اوقاف کي کوتاہيوں کا ثمرہ پارليمنٹ کي بے توجہي اور مواصلاتي طرز عمل ميں کوتاہياں مسجد مبارک شنار ميں ديا گيا يہ شرم آور خطبہ ہے اگر کويتيوں نے اس مسلکي ومذھبي فتنے کي اگ کو نہي روکا تو سبھي بلا تفريق مذھب وملت اس فتنے کي اگ ميں خاک ہوجاييں گے ?
الشطي نے گورمنٹ سے اس جنايت کے مرتکب ہونے والوں کے ساتھ سختي کے ساتھ پيش انے کا مطالبہ کيا ?
کويت کے نامور وکيل جليل الطباخ نے مغربي دنيا کي مسلمانوں کے درميان مسلکي فتنے کي اگ بڑھکانے کي کوششوں کي جانب اشارہ کرتے ہويے کہا : مسجد مبارک شنار کے امام جمعہ کا شيعہ مسلمانوں کے خلاف بيان اور فتنہ کي بڑھکايي ہويي اگ عالمي صھيونيت کے بنايے ہويے پروگرام کے تحت ہے ، يہ اقدامات اسلامي اخلاقيات اور کويتي معاشرے کے خلاف ہے نيز کويت ايين کي خلاف ورزي بھي شمار کيا جاتا ہے ?
قابل ذکر ہے کہ مسجد مبارک شنار کويت کے امام جمعہ نے پچھلے ھفتے نماز جمعہ ميں شيعہ عقايد کي بہت زيادہ برايي کي تھي اور اھلبيت اطھار عليھم السلام کے ماننے والوں کو مشرک کہتے ہويے تاکيد کي تھي کہ شيعہ غير اسلامي فعاليتں انجام ديتے ہيں ?
انہوں نے شيعت کي بنيادوں کو مکمل شرک وظلم پر بتاتے ہويے کہا : شيعہ يھوديوں سے بھي کہيں بدتر ہيں ?
اس امام جماعت نے ياحسين اور يا اباعبد اللہ کہنے کي بہ نبست اعتراض کرتے ہويے کہا : شيعہ فقط شرک الھي کے مرتکب ہوتے ہيں اس لحاظ سے ان کے اعمال باطل ہيں اور وہ شيطان کو مسرور کرتے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے