13 December 2011 - 16:47
خبر کا کوڈ: 3543
فونت
منتشر کي گئي؛
رسا نيوزايجنسي - کتاب اصحاب امام حسين مدينه سے کربلا تک ، استاد سيد اصغر ناظم زاده قمي کے قلم کي کاوش ، بوستان کتاب قم کي نے منتشر کيا ?
کتاب اصحاب امام حسين مدينه سے کربلا تک

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، کتاب اصحاب امام حسين مدينه سے کربلا تک ، شيعوں کے تيسرے امام کے اصحاب کي تاريخ ہے ، جسے بني ھاشم اور غير بني ھاشم ، شيعہ وسني اصحاب کے حالات زندگي تاريخي و روائي معتبر ومستند منابع کے پيش نظر تحرير کيا گيا ہے ?

عاشوراء اور نہضت امام حسين عليہ السلام تاريخ کے وہ سنہرے باب ہيں جس ميں حق وباطل نابرابرکي جنگ ميں ايک دوسرے کے مقابل رہے اور حق کي باطل کے مقابل کاميابي تاريخ کے وہ سنہرے ورق جو ھميشہ حيرت پسند انسانوں کے لئے نمونہ عمل اور انسانيت کا ايڈيل ہيں ?

بلاشبہ يہ تاريخ ساز جنگ اصحاب امام حسين عليه السلام کي فداکاريوں کي مرھون منت ہے کہ انہوں نے اپنے امام کي طاعت کرتے ہوئے ظالم حکمراني کا جنازہ نکال ديا ، وہي اصحاب جن پر حضرت امام حسين عليه السلام ھميشہ فخر کيا کرتے تھے ?

ان دلير انسانوں کي شرح حال ايسا عنوان ہے جسے اس کتاب نے دست اول کے منابع سے استفادہ کرتے ہوئے تاريخي تحقيق کي بنيادوں پر اسان قلم و منظم ومرتب طريقے سے تحرير کيا ہے ?

اس کتاب ميں تين فصليں ہيں : امام اصحاب ابا عبد الله الحسين عليہ السلام ، بني ھاشم کے شھيدوں اور اصحاب امام حسين عليہ السلام کي حيات کا مختصر جائزہ ?

اس کتا ب ميں بني ھاشم وغير بني ھاشم مي سے 148 اصحاب کا تذکرہ کيا گيا ہے مگر ان تمام افراد کو سرزمين کربلا کے شھيدوں ميں شمار نہي کيا جاسکتا بلکہ وہ تمام اسماء جو اس کتاب ميں لائے گئے ہيں ان ميں سے کچھ عاشور سے پہلے شھيد ہوئے اور کچھ عاشور کے بعد شھيد ہوئے اور کچھ وہ ہيں جو امام کے ساتھ نہ تھے يا سند کے لحاظ سے کربلا ميں ان کي موجودگي پر شک وشبہ ہے يا کسي اور سبب کے تحت ان کا نام اس کتاب ميں لايا گيا ہے ?

اس کتاب کے ايک حصے ميں «اسلم بن عمرو ترکي» کے نام ميں پڑھيں گے : اسلم امام حسين عليه السلام کے غلام عمرو کے بيٹے ، ترک ، ديلم کے رہنے والے ہيں جنہيں بعض منابع ميں (واضح) بھي کہا گيا ہے ?

بعض تواريخ ميں ايا ہے : امام حسن مجتبي عليه السلام کي شھادت کے بعد امام حسين عليه السلام نے اسلم کو خريدا اوراسے اپنے فرزند علي بن الحسين عليه السلام کو بخش ديا ?

بعض مورخين کے مطابق وہ بہادر انسان ، قاري قران ، عربي زبان کے ماھر اور بسا اوقات امام حسين عليه السلام کے کاتب بھي تھے اور جب امام حسين عليہ السلام مدينے سے مکہ کي سمت روانہ ہوئے اور وہاں سے کربلا کا قصد کيا تو اسلم ان کے ساتھ تھے ?

عاشور کے دن امام عليه السلام سے اجازت لے کر ميدان ميں گئے ?

اس غلام نے بہادري کے ساتھ جنگ کي اور بہت سارے دشمنوں کو جھنم واصل کيا مگر زخموں کي تاب نہ لاکر زمين کربلا پر گر پڑے اور امام حسين عليہ السلام کو اواز دي ?

فجاء الحسين عليه السلام فبکي و وضع خده علي خده؛

حضرت امام حسين عليہ تيزي سے ان کي باليں پر پہونچے اور ان کے سر کو اٹھا کر اپنے زانو پر رکھا اور ان کے چہرے پر چہرہ رکھکر رو دئے ?

اس غلام نے اخري وقت اپني انکھيں کھوليں اور امام حسين عليہ السلام کو اپني باليں پر ديکھ کر مسکرايا اور دم توڑ ديا ?

640 صفحہ پر مشتمل کتاب اصحاب امام حسين مدينه سے کربلا تک ، استاد سيد اصغر ناظم زاده قمي کے قلم کا اثر سن 1433 ھجري قمري ميں 1200 تعداد ميں ، 11500 تومان ( تقريبا 400 روپيہ انڈين ) قميت پہ بوستان کتاب قم کي جانب سے منتشر کي گئي ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬