آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ مطابق ، حضرت آيت الله عبدالله جوادي نے اج حوزہ علميہ قم کے علماء وافاضل کے درميان مسجد اعظم قم ميں درس تفسير قران کريم ميں سوره مبارکه نورکي 55 ايت کي تفسير فرمائي ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مدينہ فاضلہ کے تحقق ميں ايمان وعمل صالِح شرط ہے کہا : ايت ميں «عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» سے مراد اعمال صالح ہيں جو ايمان کے ساتھ ہوں اور مومن جب ايمان کے ساتھ عمل انجام دے گا تو صالح اور ثواب کا حامل ہوگا اور دوسرے يہ کہ مومن تمام اعمال صالح کو انجام دے ?
حوزہ علميہ قم ميں درس تفسير کے اس استاد نے سوره مبارکه نورکي 55 ايت ؛ «وَ لَيُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ» کي تفسير ميں کہا : دين قدرتمند اس وقت ہوتا ہے جب اس کے قانونين پہچانے جائيں ، اس پر اعتقاد رکھا جائے ، اس پر عمل کيا جائے اور مرضي خدا کے مطابق چلا جائے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے اپنے بيان کے دوسرے حصے ميں مدينہ فاضلہ ميں اندروني خوف کے نہ ہونے اور ظاھري خوف کے ہونے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اسلام دوسروں کے لئے مشکلات ايجاد نہي کرتا مگر قران کريم کے فرمان کے مطابق «وَ لْيَجِدُوا فِيکُمْ غِلْظَةً» لازمي ہے کہ جنگوں ميں قوي رہيں اور معمولي طور سے بھي اس طرح زندگي بسر کريں کہ دشمن اپ پر قابض ہونے کي ھمت نہ کرے ، ضروري ہے کہ اپ پہاڑوں کے مانند ہوں تاکہ تيزہوائيں بھي اپ کو اپني جگہ سے نہ ہلا سکيں ?
حوزعلميہ قم ميں درس خارج کے اس استاد نے مزيد کہا : فقط اس صورت ہي ميں ايت «يَعْبُدُونَنِي لاَ يُشْرِکُونَ بِي شَيْئاً»؛ يعني ھماري عبادت اس طرح کرتے ہيں کہ زرہ برابر بھي ھمارے لئے شرک کے قائل نہي ہيں ، کا مصداق ہوں گے اور يہ عنوان ابھي تک محقق نہي ہوا ہے اور اس کا مکمل مصداق حکومت حضرت حجت عليه السلام ميں محقق ہوگا ?
بے پردہ اوربے پردہ گي کي بہ نبست بے توجہي کا اظھار کرنے والے دونوں گنہگار ہيں
انہوں نے امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے مراتب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : اجبار وجرمانہ حکومت سے متعلق ہے مگر گناہ گار سے نفرت کا اظھار ، حقارت اميز نگاہ اور ياد دہاني پوري عوام اورحکومت دونوں ہي کي ذمہ داري ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے اس استاد نے فرمايا : اگر بے پردہ عورت کو نفرت و نيچي نگاہ سے دوسرے عورتيں ديکھيں تو وہ خود کو صحيح کرنے کوشش کرے گي اور يہ نگاہ واجب ہے ، ياد دہاني دوسرے مرحلے ميں ہے اگر کوئي چپے چوري يا کھلے عام رشوت لينے کا عادي ہو ، اگر کوئي تبہکار ہو ، اگر کوئي بد کردار ہو تو بسا اوقات تنفر اميز نگاہ سے اور کبھي روک ٹوک کے ذريعہ خود کو ٹھيک کرليتا ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : ايسا نہي ہے کہ بے پردہ گي کي بہ نبست بے توجہ افراد کے اعمال نامہ ميں گناہيں نہي لکھي جائيں گي بلکہ دونوں کے نامہ اعمال ميں گناہ لکھي ہوں گي ?
حوزہ علميہ قم کے نامور استاد نے مزيد کہا : حضرت حجت عليه السلام، اصالةً بقية الله ہيں اور علماء دين جو اپ کے شاگرد ہيں وہ بھي بقية الله اور يہ بات روايات سے بھي ثابت ہے کہ امير المؤمنين علي عليه السلام نے فرمايا : «العلماء باقون ما بقي الدهر»؛ علماء باقي ہيں جب تک دنيا باقي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے