03 January 2012 - 16:25
خبر کا کوڈ: 3616
فونت
آيت الله مکارم شيرازي نے ابن شهر آشوب کانفرنس کے اراکين سے ملاقات ميں ؛
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت‌الله مکارم شيرازي بيان کيا : انقلاب اسلامي کي برکتوں ميں سے ايک بزرگان دين کے اثار کا احياء کيا جانا ہے ، الحمد للہ انقلاب اسلامي ايران کي پيروزي کے بعد بزرگان دين کے بہت سارے اثار کا احياء کيا گيا اور ان کے سلسلے ميں بہت ساري کانفرنسيں اورعلمي نشستيں منعقد کي گئيں ?
حضرت آيت‌الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت ‌الله ناصر مکارم شيرازي نے کل شام ابن شهر آشوب کانفرنس کے اراکين سے ملاقات ميں کہا : ابن شھر اشوب قرن ششم کے نامور علماء ميں سے تھے ?

انہوں نے مزيد کہا : جيسا کہ ھم سھبي جانتے ہيں قرن ششم تاريخ اسلام کا طولاني قرن تھا اور ابن شهر آشوب نے اس قرن ميں چراغ شيعت کو جلائے رکھا ?

حضرت آيت‌الله مکارم شيرازي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ بعض بزرگان فخر الشريعه و محي الشريعه جيسے الفاظ ابن شهر آشوب مازنداراني کے لئے استعمال کئے ہيں کہا : ان کے حق ميں اس طرح کے القاب سچ ہيں کيوں کہ اپ کي شخصيت ، شيعت کي مايہ ناز شخصيت ہے اور شيعت کے اثار اپ ہي کے ذريعہ زندہ ہوئے اوراپ موجيں مارتے ہوئے دريا کے مانند تھے ?

انہوں نے مزيد کہا : علماء شيعہ کے علاوہ سني علماء بھي اپ کي عظمت کا قصيدہ پڑھتے ہيں اور ابن شهر آشوب کے اثار کو ان کي علمي توانائيوں کي نشاني سجھتے ہيں لھذا ھميں اور پہلے اس طرح کي کانفرنسوں کا انعقاد کرنا چاھئے تھا ?

اس مرجع تقليد نے تاکيد کي : انقلاب اسلامي کي برکتوں ميں سے ايک بزرگان دين کے اثار کا احياء ہونا ہے ، الحمد للہ انقلاب اسلامي ايران کي پيروزي کے بعد بزرگان دين کے بہت سارے اثار کا احياء کيا گيا اور ان کے سلسلے ميں بہت ساري کانفرنسيں اورعلمي نشستيں منعقد کي گئيں ?

انہوں نے بزرگوں کے سلسلے ميں کانفرنسوں کے انعقاد کے فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : سب سے پہلا فائدہ يہ ہے کہ ان بزرگان دين کا حق ادا ہوسکے گا جو ايت «من لم يشکر المخلوق ... » مصداق ہے اور ھماري ذمہ داري ہے کہ ھم اس طرح کي کانفرنسوں کے ذريعہ ان کي شخصيت اور ان کے علمي اثار کا احياء کريں ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ کے اس استاد نے فرمايا : اس طرح کي کانفرنسوں کا دوسرا فائدہ يہ ہے کہ ھم اس کے ذريعہ يہ ثابت کرسکيں گے کہ ھمارا تاريخ سے ديرنہ رابطہ رہا ہے کيوں کہ مختلف قرن ميں ھمارے دامن ميں اس طرح کے علمي افتاب رہے ہيں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہيں اور لاتعداد ان کے ماننے والے رہے ہے ?

انہوں نے ياد دہاني کي : ايک زمانے ميں شيعہ پر الزام لگايا جاتا تھا کہ ان کا دامن علماء سے خالي ہے کہ اسي زمانے ميں علماء نے اس اعتراض کے جواب ميں کتاب لکھي اور شيعہ علماء کي معرفي کي اور ايک دوسرے زمانے ميں شيعہ کے پاس کتابوں کے نہ ہونے کا الزام ديا گيا کہ اس کے جواب ميں بھي علماء نے کتاب لکھکر شيعہ علماء کي کتابوں کي معرفي کي ، اس طرح کي کانفرنسوں اور اجتماعات کا انعقاد بھي ايک طرح شريعت ومکتب کا احياء ہے ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے کہا : اس طرح کانفرنسوں نے بزرگوں کے بہت سارے اثار کا احياء کيا ہے جيسا کہ ھم شيخ مفيد اور شيخ انصاري کانفرنس ميں شاھد تھے ?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬