بحريني شيعہ ليڈر :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، بحريني شيعہ ليڈر آيت الله شيخ عيسي قاسم نے گذشتہ روز مسجد امام صادق (ع) شهر دراز بحرين ميں نماز جمعہ کے خطبے ميں سن 2012 کے انے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : سن 2011 عيسوي ظلم واستبداد وامريت خلاف قيام اور صبر واستقامت وعزت وانساني کرامت وفداکاري وثبات قدمي کا سال تھا ، بحريني عوام نے بھي انہيں تحريکوں کي پيروي کرتے ہوئے اپنے قيام کا اغاز کيا ?
انہوں نے مزيد کہا : گذشتہ سال ايک سو بے رحمي ، تجاوز ، ديني اقدار کي بے حيثيتي اور دوسري جانب اخلاق و ملت کي توھين اور بين الاقوامي معاھدے بحرين ميں ديکھنے کو ائے اور دعا ہے کہ يہ باتيں ديگر ممالک ميں ديکھنے کو نہ مليں ، بحريني نظام عوام کي مانگ پوري نہ کرسکا بلکہ سخت تدبيروں ، دھشت گردي اور دين و فطرت پر تجاوز کے ذريعہ عوام کے مقابلے ميں ايا ?
آيت الله عيسي قاسم نے پچھلے برس کو بحرينيوں کے قتل عام کا سال بتاتے ہوئے کہا : پچھلے برس بحريني نے عوام نے مختلف قسم کي مصيبتيں جھيليں ، جيلوں ميں سختياں برداشت کيں ، لوگوں کي روزي روٹي کا وسيلہ ختم کرديا گيا ، لوگ مارے گئے ، لوگوں کي ناموس کے ساتھ بد سلوکي کي گئي ، مسجديں ويرانے ميں تبديل کردي گئيں ، قران کي بے احترامي ہوئي ، ديني عقائد و نشانياں پائمال کردي گئيں اور اس کے علاوہ دين وانسانيت کے خلاف انجام شدہ تمام زيادتيوں سے پچھلے برس بحريني روبرو رہے ?
بحريني شيعہ ليڈر نے حکمرانوں کے کئے وعدوں کے پورا نہ کئے جانے کا گلہ کرتے ہوئے کہا : حکومت نے بہت سارا وعدہ کيا مگر افسوس کسي کو بھي عملي جامہ نہ پہنايا ، قاتلوں کو سزا نہي دي گئي ، مظلوموں کو انصاف نہي ملا ، ملازمين ، ڈاکٹرس اور اسٹوڈنٹس کو نوکرياں وکلاسوں ميں جانے کي اجازت نہي دي گئي ، قتل عام کا خاتمہ نہي کيا گيا ، شھريوں کي اھانت کے سلسلہ ميں کمي اور انہيں غيروں سے وابستہ ہونے کا الزام نہي ختم ہوا ، مکانوں پر زھريلي گيس سے حملہ بند نہي کيا گيا ، مسجدوں کي تعمير کے سلسلے ميں مصمم ارادہ ديکھنے ميں نہي ايا ، محاکمے بند نہي ہوئے اور تبديلياں ديکھنے کو نہي مليں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے