10 January 2012 - 13:37
خبر کا کوڈ: 3642
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : اگر جناب حرّ کو جنت ميں ياد رہے کہ انہوں نے کيا بے احترامي کي ہے تو شرمندہ ہو جائے نگے ليکن ان کو يہ کبھي بھي ياد نہي ا?ئے گا، کيونکہ جنت ميں افسوس کا وجود ہي نہي ہے? يہاں تک کہ اگر حضرت نوح (ع) کو جنت ميں ياد رہے کہ ان کا ايک بيٹا تھا جو جہنم ميں عذاب جھيل رہا ہے تو وہ فکر مند و پريشان ہونگے ليکن جنت ميں اس طرح کي پريشاني کا وجود نہي ہے ?
آيت الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ايران ميں ا?ج اپنے تفسير کے درس ميں سورہ مبارکہ فرقان کي تفسير کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے کہا : جس طرح کہ خداوند عالم انسان اور اس کے درميان اطاعت کے بدلہ ميں جو عوض و معوض ايک ساتھ انسان کو عطا کرتا ہے اس بنا پر پروردگار کے ساتھ تجارت کا منفعت بہت ہے?

حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے اس استاد نے اس بيان کے ساتھ کہ اھل بھشت خدا کے وعدہ کے مطابق بھشت ميں جائے نگے نہ اپنے کارنامہ کي وجہ سے، وضاحت کي : اعمال کے حساب و کتاب اور انسان کے واقعات و ياد داشت کے محاسبہ سے اندازہ لگتا ہے کہ اس نے جو بھي نيک عمل انجام ديئے ہيں وہ خدا کي نعمت کي وجہ سے تھا اور وہ جنت کا مستحق نہي ہوتا ہے اور اگر قرا?ن مجيد ميں «اجر» يا «جزاء» کي تشريح کي گئي ہے وہ حوصلہ افزائي کے لئے ہے نہ يہ کہ وہ حقيقي طور پر اعمال کي اجرت ميں جنت کا حق دار ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے بيان کيا : جس طرح کہ خداوند عالم انسان اور اس کے درميان اطاعت کے بدلہ ميں جو عوض و معوض ايک ساتھ انسان کو عطا کرتا ہے اس بنا پر پروردگار کے ساتھ تجارت کا منفعت بہت ہے?

انہوں نے اس اشارہ کے ساتھ کہ جنت ميں کسي بھي طرح کي کمي يا زيادتي نہي ہوگي اسي طرح کہ ملائکہ مختلف مقام کے مالک ہيں ليکن ان کے درميان زياده خواهي نہي پائي جاتي ہے اظہار کيا : اگر مجرمين توبہ کے ذريعہ معاف کر دئے جاتے ہيں اور توبہ کے ذريعہ جنت ميں جاتے ہيں تو ان کو ياد رہنا چاہئے کہ دنيا ميں کيا کام انجام ديا ہے، اپنے کئے پر شرمندہ ہونگے? ليکن ان کو کبھي ياد نہي ا?ئے گا کيونکہ جنت ميں ان کي عيش و ا?رام ميں کمي ہو جائے گي?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے وضاحت کي : اگر جناب حرّ کو جنت ميں ياد رہے کہ انہوں نے کيا بے احترامي کي ہے تو شرمندہ ہو جائے نگے ليکن ان کو يہ کبھي بھي ياد نہي ا?ئے گا، کيونکہ جنت ميں افسوس کا وجود ہي نہي ہے? يہاں تک کہ اگر حضرت نوح (ع) کو جنت ميں ياد رہے کہ ان کا ايک بيٹا تھا جو جہنم ميں عذاب جھيل رہا ہے تو وہ فکر مند و پريشان ہونگے ليکن جنت ميں اس طرح کي پريشاني کا وجود نہي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬