
رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بينکاک کے کچھ مسلمانوں نے ايک بوديسٹ کے پرائيمري اسکول ميں نوجوان طالب علم کے حجاب پر پابندي کے خلاف مظاھرہ کيا اور اس عمل کو اسلام کے خلاف تعصب جانا ہے?
قابل ذکر ہے کچھ روز قبل واٹ نانگجوک پرائيمري اسکول ميں ايک محجبہ طالب علم کو کلاس ميں شرکت سے دور رکھا گيا?
تھائي لينڈ کي وزارت تعليم نے ايک خط کے ذريعہ اسکول کے اس قدم کو غلط استعمال اور بدسلوکي اعلان کيا ہے?
تھائي لينڈ کے تعليمي وزير نے اس مسلمان گروپ سے ملاقات کي اور کہا : طالب علم اپنے ديني عقيدہ کے مطابق اپنے طرز کا لباس انتخاب کر سکتي ہيں اور يہ وزارت خانہ اس موضوع کو واٹ نانگجوک اسکول کے سربراہوں سے گفت و گو ميں بيان کرے گا تا کہ ايسے طالب علم اس اسکول ميں بغير پابندي کے حاضر ہو سکيں?
ذکر ضروري ہے کہ اس مدرسہ کا يہ قدم تھائي لينڈ کے تعليمي وزارت کے قانون کے خلاف ہے جو طالب علموں کو حق ديتا ہے کہ اپنے لباس کا انتخاب خود کر سکتے ہيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے