18 January 2012 - 16:55
خبر کا کوڈ: 3686
فونت
ايراني عدليہ کے سربراہ :
رسا نيوزايجنسي - ايراني عدليہ کے سربراہ نے اسلامي جمھوريہ ايران کے دشمنوں کے ہاتھوں ايران کے جوھري سائنسدانوں کا قتل غير انساني فعل بتاتے ہوئے اسے ادعي حقوق بشر کے خلاف جانا اور مغربي دنيا کي طرف سے بچھائي گئي اس جال ميں خود ان کے پھنس جانے سے انہيں متنبہ کيا ?
آيت‌ الله آملي لاريجاني

رسا نيوزايجنسي کي عدليہ کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، عدليہ کے سربراہ آيت ‌الله صادق آملي لاريجاني نے اج عدليہ کے اھلکاروں کے ساتھ منعقدہ نشست ميں جوھري سائنس داں کي شھادت پر حضرت بقيه‌ الله (عج)، رهبرمعظم انقلاب اسلامي، ملت شريف ايران اورشهيد احمدي ‌روشن کے گھرانے کو تسليت پيش کرتے ہوئے مغربي دنيا کے حکمرانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا : مغربي حکام جان ليں کہ اگر دھشت گردي کا راستہ کھلا رہا تو لازم نہي کہ ايران ہي اپنے جوھري سائنسدانوں کا بدلہ لے بلکہ اس صورت ميں پوري دنيا کے مسلمان موقع نہي ديں گے مغربي ممالک مسلمان جوانوں اور جوھري سائنسداوں پر دباو ڈاليں اور وہ خود اس دھشت گردي سے مقابلے کا راستہ ڈھونڈ نکاليں گے ?

عدليہ کے سربراہ نے مزيد کہا : اگر مسلمان پر دباو بڑھے گا اوران کے جوانوں کو قتل کيا جائے گا تو اس صورت ميں ايک ايسا دلدل وجود ميں ائے گا جس ميں خود مغربي حکام پھنس کر رہ جائيں گے ?

آيت‌ الله آملي لاريجاني نے اس دھشت گردي کے حادثے کو " افساد في‌ الارض " کا کھلا مصداق جانتے ہوئے کہا : عدليہ اس حادثہ کے ملزمين کا پتہ لگا کر انہيں ان کے اعمال کي سزا دے کر رہے گي اور تمام وہ لوگ جو اس سلسلے ميں شريک رہے ہوں سب مفسد في ‌الارض ہيں ، ميں حقوق بشر کے دعويداروں کا دھوکھ کھانے والوں کو متوجہ کررہا ہوں کہ اس طرح کے اقدامات کے اخروي ودنيوي نتائج سے ہوشيار ہيں ?

عدليہ کے سربراہ نے انتظاميہ سے کہا کہ اس حادثہ کے مسببين کو جلد از جلد گرفتار کرکے عدليہ کے حوالے کريں ?

عدليہ کے سربراہ نے ايران کے خلاف پابنديوں کو پرانا ميٹر بتاتے ہوئے کہا : تعجب کي بات يہ ہے کہ مغربي ممالک تيس سال کے بعد اب بھي نہي سمجھے کہ ايران پر ان کي لگائي ہوئي پابنديوں کا کوئي اثر نہي ہے اور اس سے ميري قوم کے قدم پيچھے نہي ہٹ سکتے بلکہ نظام اسلامي کي بنياديں دن بہ دن مستحکم ہوتي جارہي ہيں ?

عدليہ کے سربراہ نے اس نشست کے اغاز ميں ماہ صفر کي اخري تاريخوں ميں رحلت حضرت رسول اکرم (ص) ، شهادت حضرت امام حسن (ع) اور علي‌ بن موسي‌الرضا (ع) کي منابست سے تمام مسلمانوں کو تسليت پيش کيا ?

آيت‌ الله آملي لاريجاني مزيد کہا : پيغمبر اسلام صلي اللہ وعليہ والہ وسلم کمالات کي بلنديوں پر تھے اوراپ " انک لعلي خلق عظيم " کا مصداق تھے جس سے بالاتر کوئي مقام قابل تصور نہي ہے کيوں کہ تمام مکارم اخلاق اورانسان اس " خلق عظيم " ميں پوشيدہ ہے ?

اپ نے ائمہ عليھم السلام کو شيعوں کي پناہ گاہ بتاتے ہوئے حضرت امام حسن مجتبي (ع) اور امام رضا (ع) کے مقام کي جانب اشارہ کيا اور کہا : قسمت يہي تھي کہ امام رضا عليہ السلام غربت ميں جان ديں اور اپ کي قبر کي زيارت کا ثواب حج سے بھي کہيں زيادہ ہے جو ائمہ عليھم السلام کي منزلت کا بيان گر ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬