
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے شہدائے خان پور کي اجتماعي نماز جنازہ ميں شريک مومنين اور شھيدوں کے گھرانوں کو اس عظيم حادثہ پر صبرو تحمل کي دعوت دي ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ عزاداروں کے شہادت کے واقعات پر صبر و تحمل کا مقصد ہرگز يہ نہيں ہم اپنے اصولوں پر سودا بازي يا عقائد کے اظہار سے دستبرداري اختيار کرليں گي تاکيد کي : ہم عرصہ دراز سے پاکستان کي رياست اور قانون کي طرف ديکھ رہے کہ وہ کب اپني ذمہ دارياں ادا کرتے ہيں؟ ورنہ اس فتنے کو روکنے کے ليے ہمارے پاس تمام آپشنز کھلے ہيں اور ہم اپنے حقوق کے تحفظ اور عوام کي سلامتي کے ليے دفاعي حکمت عملي تيار کرنے کے ليے قوم کو متحد کرنے کے راستے پر عمل پيرا ہورہے ہيں?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے يہ کہتے ہوئے کہ ہم نے نچلي سطح کے ايک عام سرکاري ذمہ دار سے لے کر صدر اور وزيراعظم تک دہشت گردي کے اسباب و وجوہات اور عوامل کي تفصيلات پہنچائي ہيں اور ساتھ مجرموں اور قاتلوں کي بھي نشاندہي کي ہے اسي طرح عدليہ کو بھي ہزاربار متوجہ کيا ہے ليکن اس کے باوجود رياستي ادارے ، عدليہ اور حکومتيں دہشت گردي اور دہشت گردوں کے خاتمے کے ليے دليرانہ اقدامات سے گريزاں نظر آتے ہيں کہا : حقيقت يہ ہے کہ وہ دہشت گردوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہيں اس قسم کے رويے اور صورت حال رياست پر سواليہ نشان بھي ہے اور بدنما داغ بھي?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے مزيد کہا : اگر سانحہ خان پور کي غير جانبدارانہ اور شفاف تحقيقات نہ کي گئيں اور مجرموں وقاتلوں کو کيفرکردار تک نہ پہنچايا گيا تو ہم اپنے احتجاجي لائحہ عمل کا اعلان کريں گے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ خان پور جيسے تمام واقعات پاکستان کو دنيا بھر ميں رسوا کررہے ہيں ليکن رياستي اداروں اور حکمرانوں کو اپني ذمہ داريوں کا احساس نہيں ہورہا کہا : کل ايک بار پھر خان پور ميں پاکستان کي سرزمين نہتے اور بے گناہ عزاداروں کے خون سے رنگين ہوئي ہے ?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے شہداء اربعين کي اجتماعي نماز جنازہ ميں شريک ہزاروں شيعہ و سني عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس قسم کے واقعات کسي مسلکي يا مکتبي يا فقہي اختلافات کا نتيجہ نہيں بلکہ فرقہ پرست جنوني گروہوں کي کاروائياں ہيں جو صرف اور صرف اسي مقصد کے ليے تيار کئے گئے ہيں تاکيد کي : يہي گروہ جنوبي پنجاب ميں بالعموم اور خان پور ميں بالخصوص متحرک و فعال ہيں? جب تک ان کے خلاف سنجيدہ اور ٹھوس کاروائي نہيں کي جاتي تب تک پاکستاني شہري وقتا فوقتا خون ميں نہلائے جاتے رہيں گي?
قابل ذکر ہے کہ اس اجتماع ميں شيعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنمائوں چوہدري فدا حسين گھلوي ، ايم ايچ بخاري، شيخ منظور حسين ، سيد ارشاد حسين نقوي ، مولانانجم الحسنين خان ، مولانا سيد ضمير حسين بخاري ، سيد مجيد حسين زيدي اور ديگر متعدد علمائے کرام و ذاکرين عظام نے بھي خطاب کيا?
اس موقع پر خان پور کي فضائيں ’’ لبيک يا حسين ‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھي ? اور انہوں نے عزم کيا کہ وہ آخري سانس تک دہشت گردوں کے خلاف صدائے حق بلند کرتے رہيں گے اور اس رستے ميں سابقين کي طرح اپنے آپ کو بھي شہيد ہونے کے ليے پيش کرنے سے گريز نہيں کريں گي?
واضح رہے کہ حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے چودہ شہداء کي نماز جنازہ پڑھائي جس کے بعد تمام شہداء کو ان کے آبائي قبرستانوں ميں تدفين کے لئے لے جايا گيا?