حجت الاسلام ساجد نقوي:

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے کہا ہے : شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر خان پور ميں پيش آنے والا سانحہ انتہائي سنگين نوعيت کا حامل ہے جو کہ کوئٹہ’ کراچي اور ملک کے ديگر حصوں ميں ہونے والي دہشت گردي کي ايک کڑي ہے ?
ساجد نقوي نے بيان کيا: سانحہ خان پور شيعہ سني مسئلہ نہيں بلکہ ايسے چند شرپسند عناصر کي بھيانک کارستاني ہے جو مذہبي لبادہ اوڑھ کر دہشت گردي کررہے ہيں? ان حالات ميں ملت جعفريہ اپنا دفاع خود کرنے پر غور کررہي ہے ليکن ابھي حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ دہشت گردوں کو اپنے انجام تک پہنچائے اور اس سانحہ کو ٹيسٹ کيس بناکر اصل مجرموں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کري?
انہوں نے کہا : سانحہ خانپور ميں درجنوں عزاداروں کي شہادت پر پوري پاکستاني قوم سوگوار ہے اور 20 جنوري جمع? المبارک کو پورے ملک ميں يوم احتجاج منايا جائے گا?
ملتان ميں پرہجوم پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام ساجد نقوي نے مزيد کہا : خانپور کے جلوس ميں جب راستے کو کليئر کرديا گيا تو پھر بم کيسے نصب ہوا؟ علم مبارک کے برقي تاروں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کے بيانات دہشت گردي سے رخ موڑنے کے لئے ديئے گئي?
قائد ملت جعفريہ نے وضاحت کي : ہم نے وزير اعلي پنجاب’ ہوم سيکريٹري اور آئي جي پوليس پنجاب پر واضح کيا ہے کہ وہ اس واقعہ کو ٹيسٹ کيس بناکر اصل مجرموں پر ہاتھ ڈاليں اور انکے سرپرستوں کو بھي بے نقاب کيا جائے کہ دہشت گرد کس کے سہارے پر کام کررہے ہيں کيونکہ گذشتہ کئي عشروں سے کسي ايک قاتل کو بھي سزا نہيں ملي روزانہ گرفتاريوں کے ڈرامے رچائے جاتے ہيں? 86 قاتلوں کي سپريم کورٹ اپيليں مسترد کرچکي ہے مگر ان کي سزائوں پر دستخط نہيں کئے جارہي? آخر انہيں سزائوں سے کيوں بچايا جارہا ہي
حجت الاسلام ساجد نقوي نے مزيد کہا : ملک ميں تمام اسلامي مکاتب فکر کے مابين اتحاد و وحدت کي فضا موجود ہي?مٹھي بھر شرپسند دہشت گردوں کا کسي مکتب و مسلک سے کوئي تعلق نہيں?موجودہ صورت حال اور دگرگوں حالات ميں عوام يہ جاننا چاہتے ہيں کہ ان دہشتگردوں کے پشت پناہ کون ہيں’ ان کے نيٹ ورک کو کيوں نہيں توڑا جاسکا اور دہشت گردي کے خطرے کے نام پر عوام کے آئيني‘مذہبي اور شہري حقوق کيوں چھينے جارہے ہيں
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے