
رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق تين ھزار سے بھي زيادہ بنغازي شہر کے لوگوں نے حاليہ مہينوں ميں کئي مرتبہ شريعت اور اسلامي احکام کو ليبيا کي بنيادي قانون کے طور پر منظوري کے مطالبہ ميں مطاھرہ کيا?
قابل ذکر ہے مظاھرہ کرنے والے اپنے ہاتھوں ميں قرا?ن اور قيام ميں شہيد ہوئے شہدا کي تصرير اٹھائے ہوئے نعرہ لگا رہے تھے کہ ھم لوگ اسلامي ا?ئين چاہتے ہيں قانون فقط شريعت اسلام ہے?
مظاھرے کے اختمام ميں حکومت سے مطالبہ کيا گيا کہ اسلامي شريعت اصل قانون کے عنوان سے ہو جو غير قابل تبديل ہو اور اس کے علاوہ دوسرے اساسي قانون بغير ووٹ کے منظوري دے دي جائے?
ياد دہاني ضروري ہے کہ اس کے پہلے بھي ليبيا کے عبوري قومي کونسل کے صدر مصطفي عبدالجليل نے اعلان کيا تھا کہ قذافي کے بعد اس ملک ميں بنيادي قانون اسلامي شريعت کے مطابق ہوگا?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے