23 January 2012 - 19:51
خبر کا کوڈ: 3704
فونت
حوزہ علميہ کے محقق و استاد :
رسا نيوز ايجنسي ـ حوزہ عليہ قم کے استاد و محقق نے اس بيان کے ساتھ کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اپني زندگي ميں حق و باطل کے ميزان تھے? حضرت کے حکم کو نظر انداز کرنا کئي فرقوں کے پيدا ہونے کي سبب بني ہے?
حجت‌الاسلام والمسلمين علي نظري منفرد

حوزہ علميہ قم ايران کے استاد، مبلغ اور محقق حجت‌الاسلام والمسلمين علي نظري منفرد سے رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر سے گفت و گو ميں رحلت پيامبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم ‌‌اور امام حسن مجتبي عليہ السلام کي ايام شہادت کي مناسبت سے تعزيت پيش کرنے کے بعد صدر اسلام کے حالات اور عصر حاضر ميں اسلامي جمہوريہ ايران پر دشمنوں کي طرف سے پابندي اور دھمکيوں کا موازنہ کيا گيا?

انہوں نے اس بيان کے ساتھ کہ مکہ کے قريش نے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کو خدا پرستي و توحيد کي دعوت دينے کي وجہ سے ان پر پريشانياں اور اذيتوں کي بوچھاڑ کر دي تھي، وضاحت کي : اسلام کے دشمن پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم پر اقتصادي پابندي لگا دي تھي اور لوگوں پر اعلان کر ديا تھا کہ مسلمانوں کو نہ کچھ فروخت کرو اور ان سے نہ کچھ خريدو?

حوزہ علميہ قم کے اس استاد نے اظہار کيا : حضرت ابوطالب‌‌ عليہ السلام نے اس لئے کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم خود اپني حفاظت کريں ان کو اور ان کے اصحاب کو شعب ابي‌طالب نام کے ايک مقام پر ٹھہرايا کيونکہ پيغبر کے جان کو خطرہ تھا اور اس کے با وجود پيغمبر کرام صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم نے قريش کا مقابلہ کيا اور تمام پريشانياں و مشقتوں کو برداشت کيا?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬