سعوديہ کے ايک سني عالم :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، سعوديہ کے ايک سني عالم دين اور مسجد المغيره بن شعبه الافلاج کے امام جماعت نے الشرق نيوزپيپر سے گفتگو کرتے ہويے پيغمبر اسلام صلي اللہ وعليہ والہ وسلم سے دعا کرنے اور انہيں وسيلہ قرار ديے جانے پہ تاکيد کي ?
انہوں نے اس سلسلے ميں تاکيد کي : قبر پيغمبر اسلام صلي اللہ وعليہ والہ وسلم سے توسل کے جواز کے سلسلے ميں دليليں فراوان ہيں اور اسے برترين عبادت شمار کيا جاتا ہے جس کي فراوان برکتيں بھي ہيں ?
شيخ الحبشان نے مسلمانوں کو سيرت مرسل اعظم سے دور ہوتے جانے پر تنقيد کرتے ہويے کہا : افسوس اس وقت بہت سارے مسلمان حضرت محمد مصطفي (ص) کي سيرت خصوصا اپ کے تبرکات سے دور ہوتے جارہے ہيں جبکہ صحابہ کرام مرسل اعظم صلي اللہ وعليہ الہ وسلم کي وفات کے بعد اپ کے اثار کو متبرک سمجھتے رہے ہيں ?
اس سني عالم دين نے جواز تبرکات پيغمبر اسلام صلي اللہ وعليہ الہ وسلم کے سلسلے ميں موجود روايتوں کا تذکرہ کرتے ہويے کہا : صحيح بخاري اور صحيح مسلم ميں ايا ہے کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ وعليہ والہ وسلم نے حجة الوداع ميں اپنے بالوں کو منڈانے کے بعد حکم ديا کہ اپ کے بالوں کو صحابہ کے درميان تقسيم کرديا جايے ، يہ روايت اس بات کو بيان کرتي ہے کہ اثار پيغمبر اسلام کو متبرک سمجھنا جايز ہے ، اور اسي طرح کتاب الشفاء مولفہ قاضي عياض ميں موجود ايک دوسري روايت ميں ايا ہے کہ خليفہ دوم عمر پيغمبر اسلام (ص) کے ممبر پر اپنے ہاتھوں کو پھير کر تبرکا اسے اپنے چہرے پر مل ليتے ?
انہوں نے مزيد کہا : اگر کويي ٹرکي کے دارالحکومت استانبول جاکر بچے ہويے اثار رسول اسلام (ص) کي زيارت کرے تو يقينا اسے اجر وثواب ملے گا ?
شيخ حبشان الحبشان نے سيرت بني اکرم (ص) کي ياد دہاني اور اپ کے راستے پر چلنے کي تاکيد کرتے ہويے کہا : تمام مسلمان سيرت مرسل اعظم (ص) کا تذکرہ اور ان کي پيروي کريں اور جس راستے کو رسول اسلام (ص) نے ھميں بتايا تھا ھميں اس پر چلنے کي کوشش کرني چاھيے اور سبھي اپ کے اثار کو متبرک سمجھيں ?
انہوں نے ياد دہاني کي : حضرت ختمي مرتبت رسول اسلام (ص) کي چھوڑي ہويي اشياء ھماري جان ومال کے ليے متبرک ہيں ، يہ ھميں صحت وسلامتي عطا کرتي ہيں اور ايمان خدا ميں زيادتي کا سبب ہيں اور مرسل اعظم (ص) کي محبت ميں کيي گنا اضافہ کا سبب ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے