بيروت کے امام جمعہ :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، بيروت کے امام جمعہ حجت الاسلام سيد علي فضل الله نے گذشتہ روز نماز جمعہ کے خطبے ميں جو مسجد امامين الحسنين (ع) حاره حريک لبنان ميں منعقد ہوا ايران کے خلاف مغرب کي پابنديوں کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا : دنيا اور عالم اسلام پر ان پابنديوں کے برے اثرات مرتب ہوں گے ?
انہوں نے اس عظيم حادثہ کو لگام ديئے جانے کے سلسلے ميں سنجيدگي سے اقدام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا : يہ پابندياں ايرانيوں پر دباو بڑھانے اور انہيں مشکلات سے روبرو کرنے کي غرض سے لگائي جارہي ہيں ?
بيروت کے امام جمعہ نے ايران کي جوھري سرگرميوں کو مصالحت اميز بتاتے ہوئے کہا : مغرب مذاکرہ کا زمينہ فراھم کرکے ايران کي مصالحت اميز جواھري فعاليتوں ميں ترقي کے اسباب فراھم کرے ?
انہوں نے علاقے کے حالات کي خرابي ميں عرب اور اسلامي ممالک کا ہاتھ بتاتے ہوئے کہا : عرب اور اسلامي ممالک پر پابنديوں کے تجربات نے سامراجيت کو اپنے مقاصد کي تکميل ميں اسے بار بار استعمال کرنے کا موقع فراھم کيا ?
حجت الاسلام فضل الله نے مذاکرات کے سلسلے ميں خود مختار حکومت فلسطين کے موقف پر تنقيد اور غاصب صھيونيت سے مذاکرات ختم کرنے کو کہتے ہوئے کہا : تجربات گواہ ہيں کہ يہ مذاکرات کبھي بھي فلسطينيوں کے حق ميں مفيد نہي رہے بلکہ فقط تضييع اوقات کا سبب ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : تمام اسلامي پارٹياں اور تحريکيں ، قومي ، عربي اور انساني حقوق کے طرفدار افراد فلسطين اور قدس شريف کے سلسلے ميں اپنے وظائف کو احسن طريقے سے انجام ديں اور علاقے کے حاليہ حالات انہيں ھرگز دنياے اسلام کے بنيادي مسائل اور فلسطين سے غافل کرے ?
سيد علي فضل الله نے سوريہ کے حق ميں عرب ليگ کے موقف پر تعجب کا اظھار کرتے ہوئے اورانہيں خود اپنے ناظرين کي رپورٹس کو ناديدہ قرار دئے جانے پر تنقيد کرتے ہوئے کہا : اس موقف نے عرب ليگ کو سوريہ کے سلسلے ميں تعطل کا شکار کرديا ہے جو سوريہ کے مسائل کو عالمي کرنے اور سلامتي کونسل تک اس کے مسائل کو بھيجنے کا مقدمہ ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے