آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله جوادي آملي نے اج صبح علماء وافاضل حوزہ علميہ قم کے مجمع ميں مسجد اعظم قم ميں سوره مبارکه فرقان کي 21 سے 24 ايت تک کي تفسير کرتے ہوئے کہا : خداوند متعال نے اس سورہ ميں ايات توحيد ووحي و نبوت کي کچھ گفتگو کرتے ہوئے قيامت کا تذکرہ کيا ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير قران کريم کے اس نامور استاد نے رويت خدا وملائکہ کے سلسلے سے مجرموں کي درخواست کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : خداوند متعال کو ظاھري اور مثالي انکھوں سے دنيا واخرت ميں نہي ديکھا جاسکتا بلکہ فقط دلوں کي گہرايوں سے ہي اسے پہچانا جا سکتا ہے اور وہ بھي خاصان خدا کے لئے ہي ممکن ہے کيوں کہ عدم امکان رؤيت خداوند ثابت شدہ بات ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : رويت ملائکہ کے سلسلے ميں ؛ جب گناہگار مرنے کے بعد عالم مثال ميں پہونچے گا اور دنيا کي انکھوں کي بينائي ختم ہوچکي ہوگي تو اس وقت وہ فرشتوں کو قهر و غضب کي حالت ميں ديکھے گا ?
حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے مزيد کہا : مرنے کے بعد سب کي خدا سے ملاقات ہوگي ليکن ظالم ، مشرک اور کافر اوران کے مانند افراد خدا کے غضب کو ديکھيں گے يعني خدا کو اس کے اسماء جلاليہ ميں ملاحظہ کريں گے «انا من المجرمين منتقمون» مگر مومنين اسے رحم و عنايت و لطف ميں ديکھيں گے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے رحمت الھي کو اس کے غضب پر مقدم بيان کرتے ہوئے کہا : پہلے يہ کہ خدا کي رحمت اس کے غضب سے کہيں زيادہ ہے ، دوسرے يہ کہ خدا کي رحمت اس کے غضب پر مقدم ہے جو پہلے سے بھي اھم ہے? اسي لئے اسم اعظم قھار موجود نہي ہے مگر اسم اعظم رحمان موجود ہے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے صحيفه سجاديه ميں موجود دعاء امام سيد سجاد عليه السلام (تسعي رحمته أمام غضبه) کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : رحمت ، غضب الھي کے اگے اگے ہے اور رحمت پروردگار غضب کي رھبري کرتا ہے ، خدا کے لئے مطلق غضب نہي ہے اسي لئے کہيں بھي نہي ملتا کہ فرمايا ہو ؛ «غضبه وسعت کل شيء» مگر رحمت الھي کے سلسلے ميں (تسعي رحمته أمام غضبه) جيسي باتيں ملتي ہيں ?
حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے فرمايا : شرعي رقميں صاحب مال کي طھارت کا سبب ہے نہ مال کي طھارت کا اور اسے نہ دينے کي صورت ميں فرد الودہ ہوجاتا ہے ? مال خدا کي نعمت ہے اورمال خود نفع يا نقصان کي صلاحيت نہي رکھتا بلکہ يہ انسان پر منحصر ہے کہ اگر اسے صحيح راستے ميں استعمال کرے تو اس کي طھارت کا سبب ہوگا اور اگر صحيح راستے ميں استعمال نہ کرے تو اس کي الودگي کا ضامن ہوگا ?
حوزہ علميہ قم ميں درس تفسير کے اس نامور استاد نے فرمايا : اگر کوئي خمس نہ نکالے ہوئے مال کو مہر قرار دے تو اس شادي سے پيدا ہونے والے بچہ ميں شيطان شريک ہوگا ، اور اگر نامحرم کو خيال ميں رکھتے ہوئے اپني زوجہ کے ساتھ مقاربت کرے اور بچہ پيدا ہو تو بھي شيطان اس کے ساتھ شريک ہوگا ، بچوں کا ناصالح ہونا بے وجہ نہي ہے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے اپنے بيان کے اخر ميں اميرالمؤمنين علي ابن ابي طالب عليھما السلام سے منقول روايت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : (اذا أملقتم فتاجروا الله بالصدقة) اگر فقر و تنگدستي اور پريشاني ميں اپ گرفتار ہوں اور اپ کو خوف ہو کہ شايد چاپلوسي اور منت کشي ميں مبتلي ہوں گے تو صدقہ دے کر خدا سے معاملہ کريں ? يعني تنگدستي کے وقت صدقہ دے کر خدا سے معاملہ کريں تاکہ خدا اپ کي مشکل کے لئے کوئي راستہ نکالے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے