18 April 2012 - 18:12
خبر کا کوڈ: 3745
فونت
شھادت امام حسن عسکري کے موقع پر : اشھد نقوي ؛
رسا نيوزايجنسي - اپ کي کنيت ابو محمد عليہ السّلام ، نام حسن عليہ السّلام اور سامرہ کے محلہ عسکر (فوجي چھاوني ) ميں قيام کي وجہ سے اپ کوعسکري عليہ السّلام کہا جاتا ہے والد بزرگوار حضرت امام علي نقي عليہ السّلام اور والدہ سليل خاتون تھيں جو عبادت , رياضت عفت اور سخاوت کے صفات ميں پانے طبقے کے ليے مثال کي حيثيت رکھتي تھيں .
حرم امام حسن عسکري عليہ السّلام

ولادت

8 ربيع الثاني 233 ھ مدينہ منورہ ميں ہوئي .

نشوونما اور تربيت

بچپن کے گيارہ سال تقريباً اپنے والد بزرگوار کے ساتھ وطن ميں رہے جس کے ليے کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ اطمينان سے گزرا . اس کے بعد امام علي نقي عليہ السّلام کو سفر عراق درپيش ہوگيا اور تمام متعلقين کے ساتھ ساتھ امام حسن عسکري عليہ السّلام اسي کم سني کے عالم ميں سفر کي زحمتوں کو اٹھا کر سامرے پہنچے . يہاں کبھي قيد کبھي ازادي , مختلف دور سے گزرنا پڑا مگر ہر حال ميں اپ اپنے بزرگ مرتبہ باپ کے ساتھ ہي رہے . اس طرح باطني اور ظاہري طور پر ہر حيثيت سے اپ عليہ السّلام کو اپنے والد بزرگوار کي تربيت وتعليم سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکا .

زمانہ امامت

452 ھ ميں اپ کي عمر بائيس برس کي تھي جب اپ کے والد بزرگوار حضرت امام علي نقي عليہ السّلام کي وفات ہوئي حضرت عليہ السّلام نے اپني وفات سے چار مہينہ قبل اپ کے متعلق اپنے وصي وجانشين ہونے کا اظہار فرما کر اپنے اصحاب کي گواہياں لے لي تھيں . اب امامت کي ذمہ دارياں امام حسن عسکري عليہ السّلام کے متعلق جنھيں اپ باوجود شديد مشکلات اور سخت ترين ماحول کے ادا فرماتے رہے .

سلاطين وقت اور ان کا رويہ

جيسا کہ ا س سے پہلے ضمناً بيان ہوا امام حسن عسکري عليہ السّلام کي يہ خصوصيت ہے کہ اپ ان تمام تکاليف اور مصائب ميںبھي شريک رہے جو اپ کے والد بزرگوور کو حراست اور نظر بندي کے ذيل ميں بھي متعدد بار برداشت کرنا پڑے . ا س کے بعد جب اپ کا دور ُ امامت شروع ہوا ہے تو سلطنت بني عباس کے تخت پر معتز بالله عباسي کا قيام تھا . معتز کي معزولي کے بعد مہدي کي سطنت ہوئي . گيارہ مہينے چند روز حکومت کرنے کے بعد اس کا خاتمہ ہوا اور معتمدکي حکومت قائم ہوئي , ان ميں سے کوئي ايک بادشاہ بھي ايسا نہ تھا جس کے زمانہ ميں امام حسن عسکري عليہ السّلام کو ارام وسکون ملتا , باوجود يہ کہ اس وقت بني عباس بڑي سخت الجھنوں او رپيچيدگيوں ميںگرفتار تھي مگر ان تمام سياسي مسائل اور مشکلات کے ساتھ ہر حکومت نے امام حسن عسکري عليہ السّلام کو قيد وبند ميں رکھنا سب سے زيادہ ضروري سمجھا . اس کا خاص سبب رسول خدا کي يہ حديث تھي کہ ميرے بعد بارہ جانشين ہو ں گے اور ان ميں سے اخري مہدي اخر الزمان اور قائمِ الِ محمد ہوگا . يہ حديث برابر متواتر طريقہ سے عالم ُ اسلام ميں گردش کرتي رہي تھي .

خلفائے بني عباس خوب جانتے تھے کہ سلسلہ الِ محمد کے وہ افراد جو رسول کي صحيح جانشيني کے مصداق ہوسکتے ہيں وہ يہي افراد ہيں جن ميں سے گيارہويں ہستي امام حسن عسکري عليہ السّلام کي ہے اس ليے ان ہي کا فرزند وہ ہوسکتا ہے جس کے بارے ميں رسول کي پشين گوئي صحيح قرارپاسکے . ل?ہذا کوشش يہ تھي کہ ان کي زندگي کادنيا سے خاتمہ ہوجائے اس طرح کہ ان کا کوئي جانشين دنيا ميں موجود نہ ہو . يہ سبب تھاکہ امام حسن عسکري عليہ السّلام کے ليے اس نظر بندي پر اکتفا نہيں کي گئي جو امام علي نقي عليہ السّلام کے ليے ضروري سمجھي گئي تھي بلکہ اپ کے ليے اپنے گھربار سے الگ قيد تنہائي کو ضروري سمجھا گيا . يہ اور بات ہے کہ قدرتي انتظام کے تحت درميان ميں انقلاب سلطنت کے وقفے اپ کي قيدمسلسل کے بيچ ميں قہري رہائي کے سامان پيدا کرديتے تھے مگر پھر بھي جو بادشاہ تخت سلطنت پر بيٹھتا تھا وہ اپنے پيش رو کے نظريہ کے مطابق اپ کو دوبارہ قيد کرنے پر تيار ہوجاتا تھا. اس طرح اپ کي مختصر زندگي جو دور ُ امامت کے بعد اس کا بيشتر حصہ قيد وبند ہي ميں گزرا.

اس قيد کي سختي معتمد کے زمانے ميں بہت بڑھ گئي تھي , اگر چہ وہ قتل ديگر سلاطين کے اپ کے مرتبہ اور حقانيت سے خوب واقف تھا چنانچہ جب قحط کے موقع پر ايک عيسائي راہب کے دعوے کے ساتھ پاني برسانے کي وجہ سے مسلمانوں ميں ارتداد کا فتنہ برپا ہوا اور لوگ عيسائت کي طرف دوڑنے لگے تو مسلمانوں کو گمراہي سے بچانے کے ليے وہ امام حسن عسکري عليہ السّلام ہي تھے جو قيد خانے سے باہر لائے گئے ,اپ نے مسلمانوں کے شکوک کو دور کرکے انھيں اسلام کے جادہ پر قائم رکھا . اس واقعہ کااثر اتنا ہوا کہ اب معتمد کو اپ کے پھر اسي کو قيد خانے ميں واپس کرنے ميں خجالت دامنگير ہوئي . اس ليے اپ کي قيد کو اپ کے گھر ميں نظر بندي کے ساتھ تبديل کر ديا گيا مگر ازادي پھر بھي نصيب نہ ہوسکي .

سفرا کا تقرر

ائمہ اہل بيت جس حال ميں بھي ہوں ہميشہ کسي نہ کسي صورت سے امامت کے فرائض کو انجام ديتے رہتے تھے . امام حسن عسکري عليہ السّلام پر اتني شديد پابندياں عائد تھيں کہ علوم ُ اہل بيت عليہ السّلام کے طلبگاروں اور شريعت ُ جعفري کے مسائل دريافت کرنے والوں کا اپ تک پہنچنا کسي صور ت ممکن نہيں تھا . اس ليے حضرت عليہ السّلام نے اپنے زمانہ ميں يہ انتظام کيا کہ ايسے افراد جو امانت وديانت نيزعلمي و فقہي بصيرت کے اس درجہ حامل تھے کہ امام عليہ السّلام کے محل اعتماد ہوسکيں انھيں اپني جانب سے اپ نے نائب مقرر کر ديا تھا .يہ حضرات جہاں تک کہ خود اپنے واقفيت کے حدود ميںديکھتے تھے اس حد تک مسائل خود ہي بتاديتے تھے اور وہ اہم مسائل جوان کي دسترس سے باہر ہوتے تھے انھيں اپنے پاس محفوظ رکھتے تھے او ر کسي مناسب موقع پر امام عليہ السّلام کي خدمت ميں رسائي حاصل کرکے ان کو حل کراليتے تھے کيونکہ ايک شخص کا کبھي کبھي امام عليہ السّلام سے ملاقات کو اجانا حکومت کے ليے اتنا ناقابل برداشت نہيںہوسکتا تھا جتنا کہ عوام کي جماعتوں کو مختلف اوقات ميں حضرت عليہ السّلام تک پہنچنا.

ان ہي سفرائ کے ذريعے سے ايک اہم خدمت بھي انجام پائي جاتي تھي. وہ يہ کہ خمس جو حکومت ُ ال?ہيہ کے نمائندہ ہونے کي حيثيت سے اس نظام ُحکومت کو تسليم کرنے والے ہميشہ ائمہ معصومين عليہ السّلام کي خدمت ميں پہنچاتے رہے او ران بزرگوں کي نگراني ميں وہ ہميشہ ديني امور کے انصرام اور سادات کي تنظيم وپرورش ميں صرف ہوتا رہا اب وہ راز دارانہ طريقہ پر ان ہي نائبوں کے پاس اتا تھا اور يہ امام عليہ السّلام سے ہدايت حاصل کرکے انھيں ضروري مصارف ميںصرف کرتے تھے يہ افراد اس حيثيت ميں بڑے سخت امتحان کي منزل ميں تھے کہ ان کو ہ وقت سلطنت وقت کے جاسوں کي سراغرساني کا ا نديشہ رہتا تھا . اسي ليے عثمانرض بن سعيد اور ان کے بيٹے ابو جعفر محمدرض بن عثمان نے جو امام حسن عسکري عليہ السّلام کے ممتاز نائب تھے ا ور عين دارلسلطنت بغداد ميں مقيم تھے اپنے اس متعلقہ افراد کي امدورفت کو حق بجانب قرار دينے کے ليے ايک بڑي دکان روغنيات کي کھول رکھي تھي . اس طرح حکومت جو رکے شديد شکنجہ ظلم کے اندر بھي حکومتِ ال?ہيہ کا ائيني نظام چل رہا تھا اور حکومت کا کچھ بس نہ چلتا تھا .

اخلاق واوصاف

اپ اسي سلسلہ عصمت کي ايک لڑي تھے جس کا ہر حلقہ انساني کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وايثار سب ہي اوصاف بے مثال تھے . عبادت کا يہ عالم تھا کہ ا س زمانے ميں بھي کہ جب اپ سخت قيد ميں تھے معتمد نے جس سے اپ کے متعلق دريافت کيا يہي معلوم ہوا کہ اپ دن بھر روزہ رکھتے ہيں اور رات بھر نمازيں پڑھتے ہيں اور سوائے ذکر ال?ہي کے کسي سے کوئي کلام نہيں فرماتے , اگرچہ اپ کو اپنے گھر پر ازادي کے سانس لينے کا موقع بہت کم ملا . پھر بھي جتنے عرصہ تک قيام رہا اور دور دراز سے لوگ اپ کے فيض و عطا کے تذکرے سن کر اتے تھے اور بامراد واپس جاتے تھے .اپ کے اخلاق واوصاف کي عظمت کا عوام وخواص سب ہي کے دلوں پر سکہ قائم تھا . چنانچہ جب احمد بن عبدالله بن خاقان کے سامنے جو خليفہ عباسي کي طرف سے شہر قم کے اوقات وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلي? تھا سادات علوي کاتذکرہ اگيا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے کوئي حسن عليہ السّلام عسکري سے زيادہ مرتبہ اور علم دورع , زہدو عبادت ,وقار وہيبت , حياوعفت , شرف وعزت اور قدرومنزلت ميں ممتاز اور نماياں نہں معلوم ہوا . اس وقت جب امام عليہ السّلام علي نقي عليہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہيز وتکفين ميں مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمين نے اثاث اللبيت وغيرہ ميں سے کچھ چيزيں غائب کرديں اور انھيںخبر تک نہ تھي کہ امام عليہ السّلام کو اس کي اطلاع ہوجائے گي . جب تجہيز اور تکفين وغيرہ سے فراغت ہوئي تو اپ نے ان نوکروں کو بلايا اور فرمايا کہ جو کچھ پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بيان کرو گے تو ميں تمھيں معاف کردوں گا اور سزا نہ دوں گا ليکن اگر غلط بياني سے کام ليا تو پھر ميں تمھارے پاس سے سب چيزيں بر امد بھي کرالوں گا اور سزا بھي دوں گا . اس کے بعد اپ نے ہر ايک سے ان اشيا ئ کے متعلق جو اس کے پا س تھيں دريافت کيا اور جب انھوں نے سچ بيان کر ديا تو ان تمام چيزوں کو ان سے واپس لے کر اپ نے ان کو کسي قسم کي سزا نہ دي اور معاف فرماديا .

علمي مرکزيت

باوجود يہ کہ اپ کي عمر بہت مختصر ہوئي يعني صرف اٹھائيس بر س مگر اس محدود اور مشکلات سے بھري ہوئي زندگي ميں بھي اپ کے علمي فيوض کے دريا نے بڑے بڑے بلند پايہ علمائ کو سيراب ہونے کا موقع ديا نيز زمانے کے فلاسفہ کا جو دہريت اور الحاد کي تبليغ کر رہے تھے مقابلہ فرمايا جس ميں نماياں کاميابي حاصل ہوئي .ان ميں ايک اسح?ق کندي کاواقعہ يہ ہے کہ يہ شخص قران مجيد کے ايات کے باہمي تناقص کے متعلق ايک کتاب لکھ رہاتھا . يہ خبر امام حسن عسکري عليہ السّلام کو پہنچي اور اپ موقع کے منتظر ہو گئے .اتفاق سے ايک روز ابو اسح?ق کے کچھ شاگرد اپ کي خدمت ميں حاضر ہوئے . اپ نے فرمايا کہ تم ميں کوئي اتنا سمجھدارادمي نہيں جو اپنے استاد کندي کو ا س فضول مشغلے سے روکے جو انھوں نے قران کے بارے ميں شروع کر رکھا ہے , ان طلاّب نے کہا , حضور ! ہم تو ان کے شاگرد ہيں , ہم بھلا ان پر کيا اعتراض کرسکتے ہيں ?

حضرت عليہ السّلام نے فرمايا ! اتنا تو تم کرسکتے ہو جو کچھ باتيں ميں تمھيں بتاؤں وہ تم ان کے سامنے پيش کردو , طلاب نے کہا !جي ہاں ہم اتنا کرسکتے ہيں .

حضرت نے کچھ ايتيں قران کي جن کے متعلق باہمي اختلاف کا تو ہم ّ ہورہا تھا پيش فرما کر ان سے کہا کہ تم اپنے استاد سے اتنا پوچھو کہ کيا ان الفاظ کے بس يہي معني ہيں جن کے لحاظ سے وہ تنا قص ثابت کررہے ہيں اور اگر کلام ُ عرب کے شواہد سے دوسرے متعارف معن?ي کل ائيں جن کے بنا پر الفاظ قران ميں باہم کوئي اختلافات نہ رہے تو پھر انھيں کيا حق ہے کہ وہ اپنے ذہني خود ساخة معني کو متکلم قرآني کي طرف منسوب کرکے تناقص واختلاف کي عمارت کھڑي کريں , اس ذيل ميں اپ نے کچھ شواہد کلامِ عرب کے بھي ان طلاّب کے ذہن نشين کرائے . ذہين طلاّ ب نے وہ پوري بحث اور شواہد کے حوالے محفوظ کرليے اور اپنے استاد کے پاس جا کر ادھر اُدھر کي باتوں کے بعد يہ سوالات پيش کر ديئے .ادمي بہرحال وہ منصف مزاج تھا اس نے طلاّ ب کي زباني وہ سب کچھ سنا اور کہا کہ يہ باتيں تمہاري قابليت سے بالا تر ہيں . سچ سچ بتانا کہ يہ تمھيں معلوم کہاں سے ہوئيں پہلے تو ان طالب علموں نے چھپانا چاہا اور کہا کہ يہ چيزيں خو د ہمارے ذہن ميں ائي ہيں مگر جب اس نے سختي کے ساتھ انکار کيا کہ يہ ہو ہي نہيںسکتا تو انھوں نے بتايا کہ ہميں ابو محمد, حسن عسکري عليہ السّلام نے يہ باتيں بتائي ہيں يہ سن کر اس نے کہا کہ سوائے اس گھرانے کے اور کہيں سے يہ معلومات حاصل ہي نہيں ہوسکتے تھے .پھر اس نے اگ منگوائي اور جو کچھ لکھا تھا ,نذر اتش کرديا ايسے کتنے ہي علمي اور ديني خدمات تھے جو خاموشي کے ساتھ انجام پارہے تھے اور حکومت وقت جو محافظت اسلام کي دعويدار تھي . اپنے عيش وطرب کے نشے ميں مدہوش تھي يا پھر چونکتي تھي بھي تو ايسے مخلص حامي اسلام کي طرف سے اپني سلطنت کے ليے خطرہ محسوس کرکے ان پر کچھ پابندياں بڑھاديئے جانے کے احکام نافذ کرتي تھي , مگر اس کو هِ گراں کے صبرو استقال ميںفرق نہ ايا تھا .

جو امع حديث ميں محدثين اسلام نے اپ کي سند سے احاديث نقل کيے ہيں ان ميں سے ايک خاص حديث شراب خواري کے متعلق ہے جس کے الفاظ يہ ہيں کہ شارب الخمر کعابد الصنم«» شراب پينے والا مثل بت پرست کے ہے .,,

اس کو ابن الجوزي نے اپني کتاب تحريم الخمر ميںسند ُ متصل کے ساتھ درج کيا ہے اور ابو نعيم فضل بن وکيل نے کہ ہے کہ يہ حديث صحيح ثابت ہے جس کي اہلبيت عليہ السّلام طاہرين نے روايت کي ہے اور صحابہ ميں سے ايک گروہ نے بھي اس کي رسول خدا سے روايت کي ہے جيسے ابن عباس , ابو ہريرہ , احسان بن ثابت , سلمي اور دوسرے حضرات .

سمعاني نے کتاب النساب ميںلکھا ہے کہ »ابو محمد احمد بن ابراہيم بن ہاشم علوي بلاذري حافظ واعظ نے مکہ معظمہ ميں امام اہل بيت ابو محمد حسن بن علي بن محمد بن علي موسي? الرضا عليہ السّلام سے احاديث سن کر قلم بند کيے -,,

ان کے علاوہ حضرت عليہ السّلام کے تلامذہ ميں سے چند باوقار ہستيوں کے نام درج ذيل ہيں جن ميں سے بعض نے حضرت عليہ السّلام کے علمي افادات کو جمع کرکے کچھ کتابيں بھي تصنيف کيں .

1 . ابو ہاشم داؤد بن قاسم جعفري سن رسيدہ عالم تھے. انھوں نے امام رضا عليہ السّلام سے امام حسن عسکري عليہ السّلام تک چار اماموں کي زيارت کي اور ان بزرگواروںسے فيوض بھي حاصل کيے وہ امام عليہ السلام کي طرف سے نيابت کے درجہ پر فائز تھا.

2 . داؤد بن ابي زيد نيشاپوري امام علي نقي عليہ السّلام کے بعد امام حسن عسکري عليہ السّلام کي صحبت سے شرف ياب ہوئے .

3 . ابو طاہر محمد بن علي بن بلال .

4. ابو العباس عبدالله بن جعفر حميري قمي بڑے بلند پائہ عالم بہت سي کتابوں کے مصنف تھے .جن سے قرب السناد کتاب اس وقت تک موجود ہے اور کافي وغيرہ کے ماخذوں ميںسے ہے .

5 . محمد بن احمد جعفر قمي حضرت عليہ السّلام کے خاص نائبين ميں سے تھے .

6 . جعفر بن سہيل صقيل . يہ بھي نائب خاص ہونے کا شرف رکھتے تھے .

7 . محمد بن حسن صفارقمي , بڑے بلند مرتبہ کے عالم متعدد کتابوں کے مصنف ہيں جن ميں سے بصائر الدرجات مشہور کتاب ہے , انھوں نے امام حسن عسکري عليہ السّلام کي خدمت ميں تحرير ي مسائل بھيج کر ان کے جوابات حاصل کيے .

8. ابو جعفر ہامني برمکي نے امام حسن عسکري عليہ السّلام سے مسائل ُ فقہ کے جوابات حاصل کرکے کتاب مرتب کي .

9 . ابراہيم بن ابي حفص ابو اسح?ق کاتب حضرت عليہ السّلام کے اصحاب ميں سے ايک کتاب کے مصنف ہيں .

10 . ابراہيم بن مہر يار مصنف کتاب البشارت .

11 . احمد بن ابراہيم بن اسمع?يل بن داؤد بن حمدان الکاتب النديم علم لغتوادب کے مسلّم استاد تھے اور بہت سي کتابوں کے مصنف تھے , حضرت امام حسن عسکري عليہ السّلام سے خاص خصوصيت رکھتے تھے.

12 . احمد بن اسح?ق الاشعري ابو علي القمي بڑے پايہ کے مستند ومسلّم عالم تھے,ان کي تصانيف ميں سے علل الصوم اور ديگر متعدد کتابيں تھيں .يہ چند نام بطور مثال درج کيے گئے ہيں اگر تمام ان افراد کاتذکرہ کيا جائے تو اس کے ليے مستقل تصنيف کي ضرورت ہے , خصوصيت کے ساتھ تفسير قران ميں ابو علي حسن بن خالد بن محمد بن علي برقي نے اپ کے افاديت سے ايک ضخيم کتاب لکھي جسے حقيقت ميں خود حضرت عليہ السّلام ہي کي تصنيف سمجھنا چاہيے يعني حضرت عليہ السّلام بولتے جاتے تھے اور وہ لکھتے جاتے تھے , علمائ نے لکھا ہے کہ يہ کتاب ايک سوبيس اجزا پر مستمل تھي .

افسوس ہے کہ يہ علمي ذخيرہ اس وقت ہاتھوں ميں موجود نہيںہے .ممکن ہے وہ اسي سے ماخوذ ہوں ليکن ايک کتاب جو تفسير اما م حسن عسکري عليہ السّلام کے نام سے شائع شدہ موجود ہے اگر وہ مذکورہ بالاذخيرئہ علمي سے الگ ہے . اس کا پتہ صرف چوتھي صدي ہجري سے چلتا ہے اور شيخ صدوق محمد بن بابو يہ قمي رحمة الله نے اس کو معتبر سمجھا ہے مگر ان کے پيش رو افراد جن سے موصوف نے اس تفسير کو نقل کيا ہے بالکل مجہول الحال ہيں . بہرحال اس تفسير کے متعلق علامہ رجال مطمئن نہيں ہيں . جہاں تک غور کيا جاتا ہے اس کي نسبت امام حسن عسکري عليہ السّلام طرف صحيح نہيں معلوم ہوتي , ہاں بے شک اپ کا ايک طويل مکتوب اسح?ق بن اسم?عيل اشعري کے نام اور کافي ذخيرہ مختصر حکيمانہ مقولات اور مواعظ وتعليمات کتاب تحف العقول ميں محفوظ ہے جو اس وقت بھي اہل نظر کے ليے سرمئہ چشم بصيرت ہے .

يہ علمي کارنامے اس حالت ميںہيں جب کہ مجموعي عمر اپ کي 28 برس سے زيادہ نہ ہوسکي اور اپنے والد بزرگوار کے بعد صرف چھ برس امامت کے منصب پر فائز رہے اور وہ بھي ان مشکلات کے شکنجہ ميں جن کا تذکرہ ہوچکا ہے .

شھادت

اتنے علمي و ديني مشاغل ميں مصروف انسان کو کہيں سلطنت وقت کے ساتھ مزاحمت کا کوئي خيال پيدا ہوسکتا ہے مگر ان کابڑھتا ہو روحاني اقتدار اور علمي مرجعيت ہي تو ہميشہ ان حضرات کو سلاطين کے ليے ناقابل ُبرداشت ثابت کرتي رہي . وہي اب بھي ہوااور معتمد عباسي کے بھجوائے ہوئے زہر سے 8 ربيع الاوّل 062ھ ميں اپ نے شہادت پائي اور اپنے والد بزرگوار کي قبر کے پاس سامرے ميں دفن ہوئے جہاں حضرت عليہ السّلام کاروضہ باوجود نامواف ق ماحول کے مرجع خلائق بنا ہوا ہے
 
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬