07 February 2012 - 17:52
خبر کا کوڈ: 3770
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : قران کريم آيه شريفه «و ننزل من القرآن ما هو شفاء و رحمة للمؤمنين» کي بنياد پر بيماريوں کي دوا ہے اور گناہيں بيماري و پيغمبر خدا صلي الله عليه و آله وسلم طبيب ہيں ?
آيت?الله جوادي آملي
 
رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مفسر قران کريم حضرت آيت الله جوادي آملي نے اج صبح مسجد اعظم قم ميں طلاب وعلماء وافاضل حوزہ علميہ کے مجمع ميں سوره مبارکه فرقان کي ايات کي تفسير کي ?

اس مفسر وقت نے قران کريم کے تدريجي نازل ہونے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : آيه شريفه «و ننزل من القرآن ما هو شفاء و رحمة للمؤمنين» کے مطابق قران کريم شفا ہے اور معصيت و گناہ خداوند متعال بيماري و مرض ہيں اور اس لحاظ سے کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ والہ وسلم طبيب ہيں قران بھي بيماريوں کے علاج کے نسخہ کے طور پر ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوا تاکہ بيمارياں يکے بعد ديگري معالجہ ہوتي رہيں ?

انہوں نے مزيد کہا : قران کريم نازل ہونے کے وقت ٹکڑے ٹکڑے نازل ہوا اور اس وقت مکمل طور سے ھمارے ہاتھوں ميں موجود قران تجربات کا حامل ہے اور ھمارے لئے قابل استفادہ ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے سوره مبارکه فرقان کي انتاليسويں آيت کے ايک ٹکڑے «تبرنا تتبيرا» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : تِبر بُراده اور لوہے کے چور کے معني ميں ہے يعني جنہوں نے ميري ايات ونشانيوں اور ميرے پيغمبروں کو جھٹلايا ھم نے انہيں خاک (گرد وغبار) کے مانند کرديا ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے آيه شريفه «ولقد أتوا على القرية التي أمطرت مطر السوء أفلم يکونوا يرونها بل کانوا لا يرجون نشورا» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : عذاب الھي کے شکار شہروں کي بچي ہوئي خاک حجاز وشام کے راستے ميں تھي اور کفار کے شام کے سفر کے دوران اتے جاتے اسے دو بار ديکھتے مگر عبرت نہي حاصل کرتے ?

انہوں نے مزيد کہا : اسے ديکھ کر عبرت حاصل نہ کرنے کي وجہ ان کا قيامت پر عقيدہ نہ ہونا تھا وہ فقط دنيا کي زندگي کے معتقد تھے مگر مومن قيامت کا معتقد ہے کہ ايک دن قيامت اکر رہے گي ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : راستہ معصوم ہے يہ جانے والے ہے جو غلطي کرتا ہے ، غور وخوض و تفکر کا حکم اسي لئے ہے کيوں کہ راستہ موجود ہے اور صراط مستقيم بھي ہے جو ھميں مقصد تک پہونچا دے گا مگر جب راستہ چلنے والا بہکے نہي تب ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے نے آيه شريفه «و إذا رأوک إن يتخذونک إلا هزوا أهذا الذي بعث الله رسولا» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : کفار کا پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ والہ وسلم کا مزاق اڑانا ان کي حماقت کي بنياد پر تھا ، وہ سوچ رہے تھے کہ موت انے والي نہي ہے ، خدا اور انسان کا رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور اگر پيغمبر ہو تو بھي ملائکہ کو پيغمبر ہونا چاھئے اسي بنياد پر جب وہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ والہ وسلم کو ديکھتے تو اپ کا مزاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اپ کا خدا سے رابطہ ہے اور ديگر انبياء الھي کا بھي اسي طرح مزاق اڑايا گيا ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬