قائد ملت جعفريہ پاکستان:

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ پاکستان علامہ سيد ساجد علي نقوي مختلف مکاتب اور مسالک کے مابين اتحاد و وحدت کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا : ربيع الاول کا متبرک اور مقدس مہينہ امت مسلمہ کے لئے نعمت سے کم نہيں اور تمام مکاتب اور مسالک کے مابين اتحاد و وحدت ايجاد کا سنہري موقع فراہم کرتا ہے کيونکہ پيغمبر گرامي (ع) کي ذات بابرکات ملت اسلاميہ کے درميان اتحاد و وحدت کا مرکز و محور ہے ?
انہوں نے اضاحت کي : اس ماہ مقدس ميں ميلاد کے حوالے سے مشترکہ اجتماعات اور ديگرنعتيہ محافل کے انعقاد کے ذريعہ امت مسلمہ اپنے جزوي اور فروعي نوعيت کے معمولي اختلافات کو پش پشت ڈال کر باہم اتحاد و يگانگت اور الفت و محبت کا پيغام عام کرکے شرپسندوں اور اسلام دشمن قوتوں کو واضح پيغام ديتے ہيں کہ سينکڑوں مشترکات کي موجودگي ميں ان کے مابين کسي قسم کا انتشار و افتراق ايجاد نہيں کيا جاسکتا ?اس موقع پر اس عزم کا بھي اعادہ ہوتا ہے کہ امت مسلمہ امت واحدہ کے تصور کو حقيقت کا روپ دے کر ہي دم لے گي?
علامہ ساجد نقوي نے مزيد کہا : بد قسمتي سے ملک کے اندر شدت پسندي اور فتنہ پرستي کو دوبارہ ابھارنے کي کوشش ہورہي ہے جيسے گلگت ميں شرپسندوں کي کارروائياں اور بعض قوتوں کے ذريعے انتہائي نامناسب اور غير دانشمندانہ اقدامات کئے گئے ہيں?معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولي کھيلنا‘ دہشت گردي‘ ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گري کے ذريعے ملک ميں بدامني اور فتنہ انگيزي کو ہوا دينا قابل نفرت فعل ہي? وقتي اور عارضي مفادات کے لئے شرپسندي اور فتنہ و فساد کو بڑھاوا دينا ملک کي فضا کو خراب کرنے کے مترادف ہيں? رول آف لاء اور گڈگورننس اصل مسئلہ ہے جس پر توجہ دينے کي ضرورت ہي? اگر قانون کا بلاامتياز نفاذ کيا جائے تو بدامني‘ شدت پسندي اور قتل و غارت گري کا تدارک کيا جاسکتا ہے?
علامہ ساجد نقوي نے سياسي اور ديني جماعتوں سے خواہش کي کہ وہ اتحاد اور وحدت کي فضا کو مضبوط بنانے اور اپنے آپ کو فتنہ و فساد پھيلانے والے ‘ غير اخلاقي و غير مہذب زبان استعمال کرنے والے اور لاقانونيت پھيلانے والے عناصر سے دور رکھيں اور عوام کو چاہيے کہ وہ ايسے عناصر کو اپني صفوں سے باہر نکال پھينکيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے