21 February 2012 - 16:46
خبر کا کوڈ: 3828
فونت
دفتر قائد ملت جعفريہ پاکستان :
رسا نيوزايجنسي - دفتر قائد ملت جعفريہ پاکستان نے حجت الاسلام حافظ سيد محمد ثقلين نقوي پر قاتلانہ حملے کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ?
دفتر قائد ملت جعفريہ پاکستان

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، دفتر قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي کے مرکزي ترجمان نے علي پور مظفر گڑھ ميں ممتاز عالم دين حجت الاسلام حافظ سيد محمد ثقلين نقوي پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے کے نتيجے ميں انکے شديد زخمي ہونے پر شديد ردعمل کا اظھارکيا ?

انہوں نے اس واقعہ کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے کہا : ہماري قيادت کي جانب سے بہت پہلے صوبائي اور وفاقي حکومت کے ذمہ داروں کي توجہ اس جانب دلائي گئي ہے کہ ملک کے اندر شدت پسندي اور فتنہ پرستي کو دوبارہ ابھارنے کي کوشش ہورہي ہے اور بعض قوتوں کے ذريعے انتہائي نامناسب اور غير دانشمندانہ اقدامات کئے گئے ہيں ليکن عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ضامن ٹس سے مس نہيں ہوئے يہي وجہ ہے کہ شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر خان پور رحيم يار خان ميں بڑے پيمانے پر شہادتيں ہوئيں اور اب علي پور مظفر گڑھ ميں ايک معروف عالم دين اور مذہبي و سماجي شخصيت پر قاتلانہ حملہ سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے ديگر حصوں کي طرح پنجاب بالخصوص جنوبي پنجاب ميں ايک بار پھر فرقہ وارانہ دہشت گردي کے گھنائونے منصوبے پر عمل درآمد ہورہا ہے جو ملک کو تباہي و بربادي کے گڑھے ميں جھونکنے کے مترادف ہے ?

ترجمان نے مزيد کہا : معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولي کھيلنا ، دہشت گردي ، ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گري کے ذريعے ملک ميں بدامني اور فتنہ انگيزي کو ہوا دينا قابل نفرت فعل ہے ?

اپ نے وقتي اور عارضي مفادات کے حصول کے لئے شرپسندي اور فتنہ و فساد کو بڑھاوا دينا ملک کي فضا کو خراب کرنے کے مترادف بتاتے ہوئے کہا : رول آف لاء اور گڈگورننس اصل مسئلہ ہے جس پر توجہ دينے کي ضرورت ہے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اگر قانون کا بلاامتياز نفاذ کيا جائے تو بدامني، شدت پسندي اور قتل و غارت گري کا تدارک کيا جاسکتا اورعوام کو بھي امن و تحفظ فراہم کيا جاسکتا ہے کہا : بصورت ديگر شرپسندوں اور دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوں گے اورايسي صورتحال ميں ملک کو خانہ جنگي اور تباہي سے بچانا مشکل ہوجائے گا ?

مرکزي ترجمان نے حجت الاسلام حافظ سيد محمد ثقلين نقوي کي صحت يابي کي دعا اور انکے اہل خانہ سے اظہار ہمدردي کرتے ہوئے صوبائي حکومت سے مطالبہ کيا : وہ اس واقعہ کے مرتکب دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے کيفر کردار تک پہنچانے ميں تاخير نہ کريں ?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬