قاتلانہ حملے کي تاب نہ لاکر؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، جامعہ دارالہديِ علي پور گھلواں پاکستان کے پرنسپل ، حجت السلام حافظ سيد محمد ثقلين نقوي نے مرگ وزندگي کي 8 روزہ کشمکش کے بعد کل دارفاني کو الوداع کرديا ?
حافظ سيد محمد ثقلين نقوي 19 فروري کو متعصب وہابيوں کي گوليوں کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد انہيں فورا ويکٹوريہ ہاسپيٹل بھاولپور ميں بھرتي کيا گيا تھا ? اپ اس ہاسپيٹل ميں تقريبا 8 روز تک زير علاج رہے مگر اپ کو افاقہ نہ ہوسکا ?
اپ کا تعلق مذھبي اور علمي گھرانے سے تھا اپ حضرت ايت اللہ سيد محمد يار شاہ نقوي کے فرزند ہيں ، اپ نے ابتدائي تعليمات پاکستان کے ہي حوزات علميہ ميں حاصل کي اور بارہا وبارہا تحصيل علم دين کي غرض سے اپنے والد بزرگوار کے سامنے زانوے ادب تہ کيا ?
علم کے شوق نے انہيں سرزمين نجف تک پہونچايا اور اپ نے وہاں بھي بزرگ علماء کرام سے کسب فيض علم فرمايا ، انقلاب اسلامي کي پيروزي اور قم ميں ديني تعليم کے اغاز پر ہي اپ قم ميں تحصيل علم دين کي غرض سے مقيم ہوئے اور بزرگ اساتذہ کے سامنے زانوے ادب تہ کرکے خود بالاترين علمي مدارج تک پہونچايا ونيز قران کريم سے لگاو و شوق حفظ نے انہيں حافظ قران کريم کے لقب سے بھي نوازا ?
اس عالم دين کي تشيع جنازہ پاکستان کے وقت کے مطابق اج شام 3 بجے قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت السلام ساجد علي نقوي کي اقتداء ميں ہوگي اور پھر چاھنے والے مومنين انہيں کاندھا دے کر اپ کے جنازہ کي تشييع کريں گے اور تشييع کے بعد اپ کو اپکے ابائي قبرستان علي پور گھلواں ميں ہي دفن کرديا جائے گا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے