03 March 2012 - 16:41
خبر کا کوڈ: 3874
فونت
ھندوستان ممبئي ميں؛
رسا نيوز ايجنسي ـ ممبئي ھندوستان ميں قبل از نماز جمعہ علماء کرام کي نگراني ميں افغانستان ، بگرام ميں امريکي فوجيوں کے ہاتھ ہوئے توہين قرآن کے خلاف احتجاجي جلسہ منعقد ہوا?
قران سوزي

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ممبئي ھندوستان کے گوونڈي، بڑے امام باڑہ ميں قبل از نماز جمعہ علماء کرام کي نگراني ميں افغانستان ، بگرام ميں امريکي فوجيوں کے ہاتھ ہوئے توہين قرآن کے خلاف احتجاجي جلسہ منعقد ہوا?

جلسہ کا آغاز مولانا وصي حيدر نقوي صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کيا اور اپني افتتاحي تقرير ميں اس حادثہ پر روشني ڈالي اور واضح کيا کہ قرآن کي توہين جناب عيسي? اور جناب مريم کي بھي توہين ہے قرآن کي توہين کرنے والا کبھي بھي عيسائي نہيں ہوسکتا ہے?

جلسہ کے مہمان مقرر جناب مولانا سيد يامين نقوي صاحب نے اپني پرجوش تقرير ميں امريکيوں کي پرزور مزمت کرتے ہوئے لوگوں کو راہ امام خميني (رہ) اور رہبر انقلاب حضرت ايت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي کي راہ پر گامزن رہنے کي تلقين کي?

امام باڑہ کے امام جماعت مولانا کلب جعفر خان صاحب نے اختتامي تقرير کرتے ہوئے اس سازش کي وجوہات پر روشني ڈالتے ہوئےاس حادثہ کو امريکہ کي بوکھلاہٹ کا نتيجہ قرار ديا?

اسي کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ کے دوسرے خطبہ ميں عالمي اور علاقائي سياست پر روشني ڈالتے ہوئے مولانا سيد فرمان علي نے مؤمنين کي بيداري کو سراہتے ہوئے گوونڈي ميں علمي، ہنري ترقي کو آغاز کار بتاتے ہوئے تعليم ميں مصروف بچوں کو اپنے محنتي ماں باپ کے حوالہ سے ذمہ داري کي طرف نوجوانوں کي توجہ کو مبذول کيا اور خطبہ کے دوسرے حصہ ميں پرزور انداز ميں امريکي فوجيوں کي اس گھينوني حرکت کي مذمت کرتے ہوئے اس سازش کے علل و اسباب پر روشني ڈالتے ہوئے مسلمانان عالم کو اپني ذمہ داري پر عمل کرنے کي تاکيد کي?

احتجاجي جلسہ ميں ديگر اداروں اور انجمنوں کے اراکين کثير تعداد ميں موجود تھے کہ جو سن ??ھجري کے يزيد سے ليکر اس دور کے يزيدوں تک کے خلاف فلک شگاف نعرہ لگا رہے تھے?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬