
رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ايشيائي ممالک کا کاروان ’’گلوبل مارچ ٹو يروشلم‘‘گيارہ مارچ کو پاکستان کے شہر لاہو سے روانہ ہوکر ملتان پہنچے گا جہاں سياسي و مذہبي جماعتوں کے قائدين سميت طلباء تنظيموں اور سماجي گروہوں کے رہنما خوش آمديد کريں گے?ان خيالات کا اظہار فلسطين فاؤنڈيشن پاکستان اور ملتان کي سياسي و مذہبي جماعتوں کے رہنماؤں بشمول امير جماعت اسلامي ملتان پروفيسر افتخار چوہدري،امير جمعيت علماء پاکستان حافظ محمد ايوب،امير جمعيت علمائے اسلام (س) محمد اختر بٹ،مجلس وحدت مسلمين ملتان کے سيکرٹري جنرل مولانا اقتدار حسين،پاکستان مسلم ليگ فکشنل کے اشرف قريشي سميت فلسطين فاؤنڈيشن پاکستان ملتان کے ترجمان محمد ثقلين نے ملتان پريس کلب ميں ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کيا?
فلسطين فاؤنڈيشن پاکستان کے مرکزي رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ايشيائي ممالک سے روانہ ہونے والا ’’کاروان آزادئ بيت المقدس‘‘ انڈونيشيا سے روانہ ہو کر مليشيا،فلپائن،اور انڈيا سے ہوتا ہوا ?? مارچ کو واہگہ بارڈر کے راستے مملکت خداداد پاکستان ميں داخل ہو گا جبکہ يہ کاروانِ آزادي پاکستان کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ايران کے راستے ترکي اور پھر سمندري راستوں سے ہوتا ہوا لبنان کے دارلحکومت بيروت پہنچے گا جہاں سے قبلہ اول بيت المقدس کي جانب مورخہ ?? مارچ کو بيک وقت چار سرحدوں سے مارچ کيا جائے گا ?
رہنماؤں کا کہنا تھا : عالمي مارچ برائے آزادئ االقدس ميں پاکستان بھر سے سيکڑوں افراد شرکت کريں گے جبکہ ?? مارچ کو واہگہ بارڈر پر کاروان کي آمد کے موقع پر عظيم الشان استقبال کيا جائے گا اور اسي طرح يہ کاروانِ آزادي ?? مارچ کو صبح ملتان پہنچے گا جہاں اس کاروان کا شايان شان استقبال کيا جائے گا جبکہ ?? مارچ کو صبح ?? بجے ملتان پريس کلب ميں ايشيائي ممالک کے نمائندہ وفود صحافيوں سے خطاب بھي کريں گے ?
فلسطين فاؤنڈيشن پاکستان کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ عالمي مارچ برائے آزادئ القدس کے شرکاء کو پاکستان کے مختلف شہروں بشمول لاہور،ملتان،سکھر اور کراچي ميں انتظامي کميٹياں تشکيل دے دي گئيں ہيں جبکہ شرکائے عالمي مارچ برائے آزادئ القدس کو خوش آمديد کہنے کے لئے تمام سياسي و مذہبي و سماجي جماعتوں سے روابط کا سلسلہ جاري ہے ?
واضح رہے کہ واہگہ بارڈر پر شرکائے گلوبل مارچ ٹو يروشلم کو خوش آمديد کہنے کے لئے فلسطيني سفير ڈاکٹر ہازم شناب بھي موجود ہوں گے جبکہ کراچي ميں کاروان آزادئ القدس کے شرکاء بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علي جناح (رہ) کے مزار اقدس پر بھي حاضري ديں گے جہاں وزير اعلي? سندھ سيد قائم علي شاہ اور فلسطيني سفير سميت پاکستان کي متعدد سياسي و مذہبي و سماجي شخصيات موجود ہوں گي?
رہنماؤں کا کہنا تھا : شرکائے عالمي مارچ برائے آزادئ القدس ?? مارچ کو کراچي پريس کلب ميں صحافيوں اور زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کريں گے اور ’’گلوبل مارچ ٹو يروشلم‘‘ کے عنوان سے خطاب کريں گے جبکہ ايشيائي ممالک سے تشريف لائے ہوئے مندوبين ?? مارچ کو بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علي جناح (رہ) کے مزار پر حاضري ديں گے اور اپنے مزيد سفر کا آغاز مزار قائد اعظم محمد علي جناح (رہ) سے کريں گے جس کے بعد پاکستان سے جانے والے شرکاء بھي اس کاروان ميں شريک ہو کر ايران کے لئے روانہ ہو جائيں گے?
رہنماؤں کاکہنا تھا : فلسطيني سر زمين سنہ ????ء سے اسرائيلي قبضہ ميں ہے اور بيت المقدس سنہ ???? ء سے اسرائيلي شکنجہ ميں ہے?ہم نے سينکڑوں مرتبہ صيہونيوں کو مقبوضہ بيت المقدس کے اطراف ميں اپنے گھر بناتے ہوئے ديکھا ہے تا کہ وہ اپني دسترس مسلمانوں اور عيسائيوں کے مقدس مقامات اوربالخصوص قبلہ اول بيت المقدس پر جما سکيں،جبکہ دوسري طرف عالمي استعمار امريکہ ان صيہونيوں کي پشت پناہي ميں بھي مصروف عمل ہے اور جب بھي يہ معاملہ يعني’’ مسئلہ فلسطين ‘‘اقوام متحدہ ميں اٹھايا گيا تب ہي عالمي استعمار امريکہ نے اس کو ويٹو کر کے دبا ديا?انہوں نے مزيد کہا کہ در حقيقت صيہونيوں کا مقصد مظلوم فلسطينيوں کو سر زمين مقدس فلسطين سے ظلم و بربريت کے ذريعے باہر نکالنا ہے ?
انہوں نے کہا : مذہبي حيثيت کي حامل سرزمين فلسطين اور "بيت المقدس"کے شہر "يروشلم" کو امريکہ کي ناجائز اولاد اسرائيل کا دارالحکومت کہا جاتا ہے،غاصب صيہوني رياست اسرائيل کے وزير اعظم نيتن ياہو اور ديگر صيہوني غاصب رياست کے رہنماؤں کے مطابق بيت المقدس پر کسي قسم کي بات نہيں کي جا سکتي ?اسرائيلي فوج اور انتظاميہ کھلے عام بين الاقوامي قوانين کو پامال کر رہي ہے اس کو کوئي لگام نہيں دے رہا?
رہنماؤں کاکہنا تھا : غاصب صيہوني رياست اسرائيل کے مطابق فلسطين پر قبضہ کرنا ان کا حق ہے اور يہ صرف اور صرف ايک طريقے سے ممکن ہے کہ فلسطينيوں کا کھلے عام قتل عام کيا جائے اور ان کو اردن ميں منتقل کر ديا جائے ?
ان کا کہنا تھا کہ شہر يروشلم يعني ’’بيت المقدس‘‘ ايک خدا کے ماننے والوں کا مذہبي مرکز ہے اور انتہائي اہميت کا حامل ہے اور دنيا بھر ميں شہرت رکھنے والے جگہ ہے ?بيت المقدس ہي وہ درس گاہ ہے جہاں لوگوں کو محبت و اخوت کا درس ديا جاتا ہے?مگر آج بيت المقدس کے تقدس کو پامال کيا جا رہاہے اور اس کو برباد کيا جا رہا ہے تا کہ صيہوني اپنے مفادات نکال سکيں?
رہنماؤں نے مزيد کہا : صيہونيوں کا مقصد صرف مسلمانوں کے مرکز پر حملہ کرنا ہي نہيں بلکہ عيسائيوں کے مقدس مراکز پر بھي حملہ کر کے اس کو نشانہ بنانا ہے ،وہ سب چيز کو تباہ و برباد کرتے ہيں اور اپنے مقاصد کي تکميل ميں مصروف عمل ہيں?بيت المقدس کي اس صورتحال کو ديکھتے ہوئے ضروري ہے کہ دنيا بھر کے تمام مذہبي،سياسي،ثقافتي اور انساني حقوق کے ماننے والے متحد ہو کر مشترکہ جد وجہد کرتے ہوئے بيت المقدس ’’يروشلم‘‘کي آزادي کے لئے کام کريں?لہذ? ا ہم نے بيت المقدس کو صيہوني غاصبانہ تسلط سے نجات دلوانے کے لئے ’’عالمي مارچ برائے آزادئ القدس‘‘(گلوبل مارچ ٹو يروشلم )کا فيصلہ کيا ہے تا کہ پوري دنيا کو بيدار کيا جائے او ر غاصب صيہوني رياست اسرائيل کے غاصبانہ تسلط سے بيت المقدس ’’يروشلم‘‘کو آزاد کيا جائے?
رہنماؤں کاکہنا تھا : آزادئ القدس ميں دنيا بھر سے وفود شامل ہوں گے اور تمام بر اعظموں سے لاکھوں افراد مقبوضہ فلسطين کي سرحدوں مصر،لبنان،شام اور اردن ميں جمع ہوں گے اور ?? مارچ سنہ ????ء کو مقبوضہ فلسطين کي چار سرحدوں مصر،لبنان،شام اور اردن سے بيت المقدس ’’يروشلم‘‘کي جانب پر امن احتجاجي مارچ کريں گے،جسے گلوبل مارچ ٹو يروشلم کا نام ديا گيا ہے جبکہ ہمارے بہادر اور شجاع فلسطيني بھائيوں کو بھي يہ بات معلوم ہے کہ دنيا بھر سے ان کے ہمدرد اور بھائي ان کي صيہونيوں سے نجات کے لئے پر امن احتجاج کرنے کيلئے يروشلم پہنچ رہے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے