ليبي کے ايک عالم دين نے خبر دي؛

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ليبي کے ايک عالم دين نے اس ملک کے درجنوں مسلح افراد کو ملک شام ميں وہاں کے فوج سے مسلحانہ جنگ کرنے کي غرض سے صہيوني مخالف بشار اسد کي حکومت کے تختہ پلٹنے کے لئے بھيجے جانے کي خبر دي ہے?
شيخ عماد الدرسي نے بشار اسد کو طاغوت سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ليبي کے انقلابي خاص کر بنغاري شہر کے انقلابي کے لئے يہ فخر کي بات ہے کہ طاغوت حکومت کے خلاف جہاد کرے?
اس عالم دين نے کوشش کي ہے کہ شام کے حالات کو برعکس بيان کرے وضاحت کي : شام ملک ميں جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، کيونکہ اس ملک ميں مسلمانوں کے حرمت کا خيال نہي رکھا جاتا ہے اور فوج کي طرف سے خواتين کي بے حرمتي ہوتي ہے?
يہ شدت پسند عالم دين جو دوسرے وہابي علماء کي طرح خطہ کے مقاومت کو نابود کرنے کي کوشش ميں ہے وضاحت کي : ليبي کے مشرقي خطہ کے انقلابي شام ميں حاضر ہو کر فاسد بشار اسد کے فوج سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے