13 March 2012 - 15:26
خبر کا کوڈ: 3913
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي نے کہا : تپسيا کرنے والے چوں کہ جن و شياطين کا استعمال کرتے ہيں اسي بنياد پر کبھي ان کا کام حقيقت کے مطابق اور کبھي غلط ہوتا ہے اور بسا اوقات گناہوں کے ھمراہ بھي ہوتا ہے ، تپسيا کرنے والے « إن الشياطين ليوحون إلي أوليائهم » ميں سے ہيں ?
آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله جوادي آملي نے اج اپنے سلسلہ وار تفسير کے درس ميں جو مسجد اعظم قم ميں منعقد ہوا کرامتوں ، معجزے اور تپسيا کرنے والوں کے مابين موجود فرق کو بيان کرتے ہوئے کہا : کرامتيں غير اماموں اور پيغمبروں کا اثر ہيں جس ميں تحدي ( چيلينز) موجود نہي ہے مگر معجزہ پيغمبروں اور ائمہ معصومين عليھم السلام کا کام ہے جہاں تحدي ( چيلينز) بھي موجود ہے ، چيلينز کا مقصد مقابل کو مقابلہ کي دعوت دينا ہے ، معجزہ چون کہ خدا کا حکم ہے نبوت يا امامت کا دعوے دار معجزے انجام دے کر مقابل کو چلينز کرتا ہے کہ اسکے مانند لائيں مگر وہ نہي لاسکتے لھذا اس کے دعواے نبوت يا امامت پر ايمان لے ائيں ?

انہوں نے مزيد کہا : تپسيا کرنے والے چوں کہ جن و شياطين کا استعمال کرتے ہيں اسي بنياد پر کبھي ان کا کام حقيقت کے مطابق اور کبھي غلط ہوتا ہے اور بسا اوقات گناہوں کے ھمراہ بھي ہوتا ہے ، تپسيا کرنے والے « إن الشياطين ليوحون إلي أوليائهم » ميں سے ہيں ، جيسا کہ جن يمن سے تخت جناب سليمان سلام الله عليه لانے کي طاقت رکھتا تھا اور جن بہت ساري غيبي باتوں سے بھي اگاہ ہے مگر ھميشہ اس کي باتيں صحيح نہي ہوتيں ?

حوزہ علميہ قم کے اس معروف استاد نے ايت شريفہ « قال فعلتها إذا و أنا من الضالين » کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جيسا کہ حضرت موسي عليه السلام فرماتے ہيں کہ (لهم علي ذنب بزعمهم لا واقعا؛ ان کے گمان ميں ، ميں گناہ گار تھا مگر حقيقتا گناہگار نہي تھا ) اور يہاں پر بھي فرماتے ہيں ( انا من الضالين بزعمهم لا واقعا،‌ ميں ان کے گمان ميں گمراہ تھا مگر حقيقتا گمراہ نہي تھا ) اس طرح کي ايات جو متشابہ ہيں محکم ايات کے ائينے ميں انبياء عليهم السلام کو مخلِص، ‌مخلَص، صالح، مصطفي و مجتبي بتاتي ہيں اور انہيں ايات کے مطابق انبياء الھي ميں گناہوں کا شائبہ موجود نہي ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے ياد دہاني کي : معجزہ کو مغلوب تو کيا اس کے مانند بھي نہي بنايا جاسکتا جيسے قران کريم کہ جس ميں نہ ہي کوئي اختلاف موجود ہے اور نہ ہي کوئي اعتراض کہ اگر ايسا ہوتو مغلوب ہوگا اور اس کے مانند بھي کوئي نہي لاسکتا کہ اگر ايسا ہوجائے تو قران کي ہار ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : سب سے پہلے جس نے حضرت موسي عليہ السلام کے کام کو جادو ہونے سے انکار کيا اور اس کے معجزے ہونے کا اعلان کيا وہ خود فرعون کے جادو گر ہيں جنہوں نے شربت شھادت نوش کرليا مگر وقت کے فرعون کي بات نہي ماني بلکہ انہوں نے جواب ميں کہا رب العالمين جو رب موسي و هارون عليهما السلام ہے ھم اس پر ايمان لائے اور اس سے ھرگز ھمارا مقصد فرعون نہي جو خود کو انا ربکم الاعلي کہتا ہے ?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬