18 March 2012 - 14:23
خبر کا کوڈ: 3932
فونت
رسا نيوزايجنسي – لبنان کي سياسي ، علمي ، مذھبي اور ديگر تنظيموں نے سوريہ کے دارالحکومت دمشق کے دھشت گرادنہ حملے کي مذمت کي ?
سوريہ  بم بلاسٹ

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، لبنان کي سياسي ، علمي ، مذھبي اور ديگر تنظيموں نے سوريہ کے دارالحکومت دمشق کے دھشت گرادنہ حملے جو 27 ادميوں کے مارے جانے اور 140 افراد کے زخمي ہونے کا سبب بنا مذمت کي ?

بيروت کے امام جمعہ حجت الاسلام سيد علي فضل الله نے دمشق کے اس دھشت گردانہ حملے ميں دشمنوں کے منافع کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : ھم نے ديکھا کہ سوريہ جب بھي سياسي بحران سے نکلنا چاھتا ہے کچھ لوگ خون خرابہ کرکے اسے بحران ميں ڈال ديتے ہيں ?

انہوں نے سوريہ کي مختلف پارٹيوں کو موجودہ بحران کے حل ميں کوشاں بتاتے ہوئے کہا : ھم چاھتے ہيں سوريہ تمام مسلمانوں کے مانند صھيونيت سے مقابلہ ميں اسي طرح قدم جمائے رہے ?

دوسري جانب تحريک امت لبنان کے جنرل سکريٹري شيخ عبد الناصر جبري نے بھي اس دھشت گردانہ حملے کي مذمت کرتے ہوئے کہا : يہ حملے ماضي کي طرح پھر ناکام ہوں گے اور سوريہ کے رہنے والے گذشتہ سے بھي کہيں زيادہ متحد ہوجائيں گے ?


تحريک عمل اسلامي لبنان نے بھي اس اقدام کي مذمت کرتے ہوئے جس ميں دسيوں بے گناہوں کے مارے جانے اور زخمي ہونے کا سبب بنا تاکيد کي : اس حملے ميں صھيونيت اور امريکا کا قدم واضح طور سے موجود ہيں جو سوريہ ميں مذھبي اور قبائلي جنگ پھيلانا چاھتے ہيں ?

اقوام متحدہ کے جنرل سکريٹري بان کي مون نے سوريہ کے حاليہ بم بلاسٹ کي مذمت کرتے ہوئے سوريہ ميں جنگ کے خاتمہ پر تاکيد کي اور سوگوار گھرانوں سے اپني ھمدردي کا اظھار کيا ?

ايران ، روسيہ ، فرانس اور سوريہ وفلسطين کي بعض شخصيتوں اور پارٹيوں نے بھي اس بم بلاسٹ کي مذمت کي ہے ?

واضح رہے کہ کل ظھر سے قبل سوريہ کے دارالحکومت دمشق ميں ہوئے بم بلاسٹ ميں 27 ہلاک اور 140 افراد زخمي ہوگئے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬