کل کراچي پاکستان ميں ؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، پاکستان کي موجودہ بحراني صورت حال پر کنٹرول ، شيعوں وبے گناہوں کے قتل عام پر روک اور مذھبي تفرقہ انگيزيوں پر لگام گايے جاني کي غرض سے مجلس وحدت مسلمين پاکستان نے کل نشترپارک کراچي پاکستان ميں قرآن و اہلبيت عليھم السلام کانفرنس کا انعقاد کيا جس ميں پورے پاکستان کي مذھبي ، سياسي اور سماجي شخصيتوں اور مختلف طبقے کي عوام نے شرکت کي ?
کانفرنس کي پہلي نسشت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سيد علي مرتضي? نے کہا : اگر کوئي يہ سمجھتا ہے کہ شيعيان حيدر کرار کو گوشہ نشيني کي طرف دھکيلا جا سکتا ہے يا ہميں ہمارے امام سے دور کيا جا سکتا ہے تو دشمن لبيک يا حسين عليہ السلام کے نعروں کے يہ مناظر ديکھ کر اپني غلط فہمي دور کر لے ?
محترمہ نشاط نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا : اب ہم پر ڈھائے جانے والے مظالم اپني حدود سے تجاوز کر چکے ہيں، اگر ايک شاعرہ ظلم و ستم کے خلاف ظالم حکومت کے خلاف کسي مشاعرے ميں اشعار کہتي ہے تو اس کو اغوا کرکے شہيد کرديا جاتا ہے?
انہوں نے ولايت کے مفھوم کو اتحاد کا مفھوم ديتے ہويے کہا : ولايت ايک دوسرے سے جنگ کر نے کا نام نہيں، اگر عاشورہ نہ ہوتا تو اسلام کا نام و نشان نہ ہوتا? ہميں اپني عزاداري کو محفوظ رکھنا ہے اس سے بدعتوں کو نکالنا ہے اور اس کو پاک و پاکيزہ شکل و صورت عطا کرني ہوگي?
آئي ايس او پاکستان کے مرکزي صدر رحمان شاہ نے کانفرنس ميں يہ کہتے ہويے کہ ہماري تاريخ شاہد ہے کہ ہم نہ کبھي جھکے ، نہ بکے ہيں اور ہميں ہر محاز پر بچھي ہوئي صفوں ميں ديکھا جا سکتا ہے کہا : آج کي تمام اسلامي تحريکوں کے رہنما امام حسين ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : ہم واقف ہيں کہ ہماري شہادتوں ميں سامراجي حکومتوں کا ہاتھ ہے اور يہ سب ہماري نظروں ميں ہے اور ہماري خاموشي کا ناجائز فائدہ اٹھايا جارہا ہے، خدا کي قسم ہم حق کا دامن کبھي نہيں چھوڑيں گے اور وقت آنے پر اينٹ کا جواب اينٹ سے دينگے?
مولانا عبدالرزاق بلوچ نے اپنے خطاب ميں يہ کہتے ہويے کہ ہم نے ہر چيز قرآن و اہليبيت سے لي ہے کہا : ہماري تاريخ ، ہمارا کردار، ہمارا عمل گواہي دے گا دے گا ہم نے ہميشہ حق کا ساتھ ديا ہے? کبھي ہم نے ابو ذر بن کر، کبھي ميثم اور کبھي مختار بن کر سب کو حق کا پيغام ديا ہے?
مجلس وحدت مسلمين پاکستان کي سپريم کونسل کے رکن حجت الاسلام سيد ہاشم موسوي نے اپنے بيان ميں يہ کہتے ہويے کہ پاکستان کے موجودہ حالات ناقابل برداشت ہيں اورميں عوام کے جذبات کو سلام پيش کرتا ہوں جنہوں نے ان حالات ميں اس کانفرنس ميں شريک ہو کرقومي غيرت کا ثبوت ديا ?
انہوں نے مزيد کہا : پاکستان ميں جا بجا قتل و غارت گري ہورہي ہے اور ہمارے حکمران خاموش تماشائي بنے ہوئے ہيں?
ايم ڈبليو ايم گلگت بلتستان کے جنرل سکريٹري نيرعباس مصطفوي نے کہا : ہم نے کبھي بھي قانون سے کھلواڑ نہي کيا ليکن اس کا مطلب ھرگزيہ نہيں کہ ہم اپنے منہ ميں زبان نہيں رکھتے يا کمزور ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے