27 March 2012 - 14:31
خبر کا کوڈ: 3941
فونت
محمداحمد کاظمي / دنيا بھر ميں مغربي ميڈيا کي يلغار کے زمانہ ميں کسي بھي ملک کے صحيح حالات سمجھنا غير معمولي طور پرمشکل ہوگيا ہے ? اسي لئے ميں نے اپني صحافتي زندگي ميں جس خطے اور ملک کے بارے ميں بھي قارئين کے سامنے اپني تحريريں پيش کي ہيں ميري کوشش رہي ہے کہ وہاں کے حالات بذات خود مشاہدہ کروں ?
شام

گزشتہ دنوں ميں نے شام کا دورہ کيا جہاں اس وقت مغربي طاقتيں اور ان کے علاقائي عرب اتحادي حکومتيں صدر بشار الاسد کو بر طرف کرنے کي کوششوں ميں مصروف ہيں ? اس سے پہلے بھي حاليہ شورش کے دوران گزشتہ برس اگست ميں ميں نے شام کا دورہ کيا تھا ? ميں ذاتي طور پر بھي شام ميں مقدس اور تاريخي مقامات ہونے کي وجہ سے گزشتہ 11برسوں ميں کئي بار جا چکا ہوں ?

شام کے حاليہ سفر کے دوران حکومت کے ذريعہ نئے آئين پر ہوئے ريفرينڈم کو نزديک سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ? ہندوستان سے صحافيوں کا وفد 23فروري کو دمشق پہنچاجبکہ ريفرينڈم 26فروري کو تھا ? اس سفرکے دوران دمشق کے مختلف حصوں کا جائزہ لينے کے ساتھ ہندوستاني صحافيوں کي نائب صدر محترمہ نجاہ العطار وزير اطلاعات عدنان محمود اور مفتي اعظم احمد بدر الدين حسون سے تفصيلي ملاقاتيں ہوئيں جبکہ وزير داخلہ محمد الشعار کي ريفرينڈم کے نتائج کے اعلان والي پريس کانفرنس ميں شرکت کا موقع ملا?

حالانکہ ريفرينڈم سے پہلے سڑکوں اور عوامي مقامات پر کوئي خاص بينر پوسٹر وغيرہ نظر نہيں آرہے تھے ليکن 26فروري اتوار کے روز عوام نے ريفرينڈم ميں پرجوش طريقے سے حصہ ليا ? ذرائع نے ہميں بتايا کہ عوامي مہم ٹيلي ويژن چينلوں کے ذريعہ کي گئي تھي? ريفرينڈم کے دوران ميں نے پرانے اور نئے دمشق شہر ميں ريفرينڈم کا جائزہ ليا ? ابوجرش ، بساتين الفتوات ، ميسا لوم ، حميديہ ، عميہ مسجد، اور شہر کے باہري حصے ميں سيدہ زينب وغيرہ علاقوں ميں دورہ کيا ? عوام کي آساني کے لئے رائے دہي کے مراکز بڑي تعداد ميں بنائے گئے تھے? تقريباً ہر بڑے دفتر ميں ريفرينڈم کے مراکز تھے? بعد ميں استصواب رائے کے نتيجہ کے مطابق تقريباً 57فيصد رائے دہندگان نے ريفرينڈم ميں حصہ ليا جن ميں سے تقريباً89فيصد نے ريفرينڈم کي حمايت کي اور 9فيصد رائے دہندگان نے اس کي مخالفت کي?

واضح رہے کہ ميں اکتوبر 2002ميں صدام حسين کے ذريعہ اپنے حق ميں کرائے گئے ريفرينڈم کے موقع پر بھي عراق ميں موجود تھا ? اس وقت عراقي نائب صدر طارق رمضان نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 100فيصد عوام نے صدام حسين کي حمايت کي ہے? شام کا ريفرينڈم اس سے مختلف ہے اس نے استصواب رائے ميں شريک ہونے والے شہريوں کي 57فيصد شرکت اور ان ميں سے 89 فيصد حمايت کا اعلان کيا ہے?

نئے آئين کے تحت شام کے قوانين ميں کئي بڑي تبديلياں لائي گئي ہيں ? آئين کي دفعہ 8جس کے تحت بعث پارٹي کو ملک کي رہنما کے طور پر تسليم کياگيا تھا اسے اب ختم کر ديا گيا ہے? نئے آئين کے مطابق ملک ميں کثير پارٹي نظام قائم ہوگا ? عوام کو رائے ظاہر کرنے کي آزادي ہوگي‘ کوئي بھي شخص ملک کے عہدہ صدارت پر 7-7برس کي مدت کے لئے دوبار سے زيادہ نہيں رہ سکتا? سبھي شہريوں کو پرامن مظاہروں کا حق ، ميڈيا کوآزادي اور تمام مذاہب کو برابر احترام ديا جائے گا?

پورے ملک ميں بلدياتي انتخابات اور قومي سطح پر پارليماني اور صدارتي انتخابات ہوں گے?نائب صدر نجا العطار اور وزير اطلاعات عدنان محمود کے ساتھ ملا قاتوں کے دوران جوخاص نکات ابھر کر سامنے آئے ان کے مطابق شام ميں صدر بشار الاسد 2000ميں عہدہ صدارت پر آنے کے بعد سے ہي سياسي اصلاحات نافذ کرنا چاہتے تھے ليکن خطے ميں رونما ہونے والے واقعات کي وجہ سے يہ ممکن نہيں ہوسکا ? ان ميں 2003ميں ہوئي عراقي جنگ اور اس کے بعد عراق پر امريکي قبضہ، غزہ پراسرائيلي حملہ اور حزب اللہ ?اسرائيل جنگ شامل تھيں? گزشتہ ايک برس ميں کئي سياسي اصلاحات نافذ بھي ہوچکي ہيں جس ميں ايمرجنسي قانون کا خاتمہ ، پرامن مظاہروں کي اجازت اور حاليہ ريفرينڈم قابل ذکر ہيں ? واضح رہے کہ آئين پر ہوئے ريفرينڈم کے بعد 3ماہ کے اندر پارليماني انتخابات اور نئي کابينہ کي تشکيل لازمي ہے اور 2014تک سيدھے عوام کے ذريعہ صدارتي انتخابات کا انعقاد ہونا ہے?

شام کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اسرائيل کي جارحيت کے خلاف جاري جدو جہد ميں فلسطيني عوام کي حمايت کرتا ہے جبکہ موجودہ حالات ميں حکومت مخالفين کے پاس سے اسرائيلي ہتھيارضبط کئے جا رہے ہيں ? ترکي نے بھي سرحدي علاقوں ميں کچھ حکومت مخالف عناصر کو تربيت دي ہے اور انہيں ہتھيار مہيا کرائے ہيں? حمس ميں لبناني سرحد کے راستے لڑاکو اور ہتھيار لائے جا رہے ہيں? اسي راستے سے کچھ صحافي غير قانوني طريقے سے ملک ميں داخل ہورہے ہيں? حال ميں ايک امريکي صحافي اور يورپي فوٹوگرافر بھي اسي راستے سے آئے تھے ? حکومت کا کہنا ہے کہ جو بھي صحافي غير ممالک سے آنا چاہتے ہيں انہيں دمشق کے راستے باقاعدہ اجازت لے کرآنا چاہئے? اس کے علاوہ وہ کسي کي بھي ذمہ داري نہيں لے سکتي?

امريکہ‘ اسرائيل‘ مغربي ممالک اور خطے ميں ان کے اتحادي عرب ممالک کو اب تک شام کي حکومت کے خلاف بين الاقوامي سطح پر کوئي بڑي کاميابي نہيں مل سکي ہے? اقوام متحدہ سلامتي کونسل ميں روس، چين اور کئي ديگر ممالک کي مخالفت کي وجہ سے شام مخالف قرار داد پاس نہيں ہوسکي ? اس سے پہلے عرب ليگ کے مشاہدين کي رپورٹ بھي ان کي مرضي کي نہيں آئي ? اس ميں اعتراف کيا گيا کہ غير ملکي مددسے مسلح افرا قتل و غارتگري ميں ملوث ہيں ? حال ہي ميں تيونس ميں’’ شام کے دوستوں کي کانفرنس ‘‘بھي ناکام رہي ? اس کو شام کي حکومت نے شام کے دشمنوں کي کانفرنس سے تعبير کيا ہے?اس کانفرنس ميں بھي شام حکومت کے خلاف کسي فوجي کارروائي کے حق ميں رائے نہيں بن سکي ? اس سے ناراض ہوکر سعودي عرب کے وزير خارجہ نے ميٹنگ کا بائکاٹ کيا? بعد ميں امريکہ کي وزير خارجہ ہليري کلنٹن نے سعودي عرب کے وزير خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ شام ميں کسي بھي فيصلہ کن کارروائي سے پہلے مخالفين ميں اتحاد ضروري ہے? انہوں نے يہ بھي کہا کہ شام ميں ليبيا جيسي کارروائي کرنا ممکن نہيں ہے کيونکہ وہاں ملک کے اندر بن غازي شہر سے مخالفين کي سرگرمياں جاري تھيں ليکن شام ميں ايسا نہ ہونے کي وجہ سے يہ ممکن نہيں ہے ?

عام طور پر ہر ذہن ميں سب سے اہم سوال يہ ہے کہ کيا شام حکومت کے خلاف جنگ ہوگي؟ کيا وہاں بھي ليبيا کي طرح حکومت کو زبردستي برطرف کيا جائے گا؟ ميرا ذاتي تجزيہ يہ ہے کہ شام کا حزب اللہ اور ايران کے ساتھ مضبوط اتحاد کي وجہ سے امريکہ اور اس کے اتحادي حملہ نہيں کر سکتے? حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ايران يا شام پر حملہ ہوا تو وہ خطے ميں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائيں گے?2006ميں حزب اللہ نے اسرائيل کو شرمناک شکست دي تھي جس کے بعد اس کے دنيا کي چوتھي فوجي طاقت ہونے کا بھرم چکنا چور ہو گيا تھا? 2008ميں حماس نے بھي غزہ پر اسرائيلي حملے کا منہ توڑ جواب ديا تھا?

ايسي حالت ميں جبکہ امريکہ اور اسرائيل مصر ميں حسني مبارک ، تيونيشيا ميں زين العابدين اور ليبيا ميں قذافي جيسي حکومتوں کے خاتمہ کے بعد کمزور ہوئے ہيں اور امريکہ اور يورپ ميں مالي بحران جاري ہے‘ ايک نئي جنگ شروع کرنا ممکن نہيں ہے ? حالانکہ امريکہ اور يوروپي حکومتيں عرب حکمرانوں کو ہتھيار فروخت کر کے اور ايران کے خلاف ماحول تيار کر کے خطے ميں مسلکي بنيادوں پر جنگ کي تياري کر رہے ہيں ليکن خطے کي حکومتيں حقيقي جنگ کے لئے تيار ہوجائيں گي اس پر مجھے اب بھي شک ہے?

شام ميں بحران کے شروع سے ہي قطر سے نشر ہونے والا الجزيرہ اور دبئي سے نشر ہونے والا العربيہ ٹي وي چينل حالات کو مزيد پيچيدہ کرنے کے لئے کوشاں رہے ہيں ? ان کے علاوہ بي بي سي اور سي اين اين بھي شام کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پيش کرتے رہے ہيں? ملک ميں کئي بار ايسا ہوا ہے کہ کسي بھي مقام پر جنگ جيسي صورتحال دکھانے والے ان چينلوں کو مقامي شہريوں نے فون کرکے بتايا ہے کہ وہ اسي مقام پر ہيں اور وہاں کوئي بھي ايسا واقعہ نہيں ہوا ہے? کچھ ايسي مثاليں بھي سامنے آئي ہيں کہ عراق کي ويڈيو دکھا کر اس واقعہ کو شام ميں بتاديا گيا ہے ?

اب شام ميں شورش کچھ ہي مقامات پر محدود ہے? گذشتہ کچھ ہفتوں ميں ترکي سرحد کے نذديک شہروں ميں مخالفين کے حملے کم ہوے ہيں اور حال ہي ميں حمس ميں بھي بابا عمرو ميں حکومت کي افواج نے پھر سے قبضہ کر ليا ہے?

ميں نے ذاتي طور پر شام ميں مختلف ملاقاتوں اور ذاتي تبادلہ خيال کے دوران يہ محسوس کيا ہے کہ شام کي حکومت کو ايران اور حز ب اللہ سے دوستي کي سزا بھگتني پڑ رہي ہے ? 1980سے 1988کے درميان عراق ?ايران جنگ کے دوران بھي ديگر عرب ممالک کے برخلاف شام نے ايران کي حمايت کي تھي? اس نے ہميشہ مظلوم فلسطيني عوام کي اسرائيل مخالف جدوجہد کي حمايت کي ہے?حزب اللہ اور حماس سے شام کے اچھے رشتے رہے ہيں?

امريکہ?اسرائيل اور ان کے عرب اتحادي شام کي حکومت کو برطرف کرکے ايران کو تنہا اور حزب اللہ کو کمزور کرنا چاہتے ہيں ? سعودي عرب قطر اور خليجي تعاون کونسل کے ديگر رکن ممالک امريکہ‘ اسرائيل اور يورپي ممالک کي شام مخالف تحريک کوحمايت دے رہے ہيں?

ميرا تجزيہ يہ بھي ہے کہ شام اور ايران کے خلاف اقتصادي پابنديوں کي ناکامي يقيني ہے ? ان دونوں ملکوں کے درميان عراق ميں بھي اب ان کي ہم مزاج حکومت ہے? لبنان حکومت حزب اللہ کو الگ کر کے کوئي بڑا فيصلہ نہيں کر سکتي ?ان چاروں ملکوں کي سرحديں مشترک ہونے کي وجہ سے بھي کسي بھي مشکل کے وقت يہ ايک دوسرے کي مدد کر سکتے ہيں?

جنگ سے پيدا ہونے والي مشکل صورتحال سے بچنے کے لئے اسرائيلي اور امريکي حکام نے سرکاري اورغير سرکاري طور پر يہ اعتراف کرنا شروع کر ديا ہے کہ جنگ مسئلہ کاحل نہيں ہے ? امريکہ نے يہ بھي اعتراف کيا ہے کہ شام حکومت کے مخالفين ميں اتحاد نہ ہونے کي وجہ سے کوئي بھي بڑي کارروائي ممکن نہيں ہے?

ايسے حالات ميں جبکہ مغربي ممالک اور سعودي عرب شام ميں مخالفين کو ہتھيار فراہم کرنے کا ايک طرح سے اعتراف کر چکے ہيں? امريکي صدر اوبامہ نے بھي ہر ممکنہ اقدام کي بات کہي ہے، شام کي افواج کے ذريعہ حمس پر پھر سے مکمل قبضہ کرنا غير معمولي واقعہ ہے ? اب تک شام کے کسي سفارتکار يا بڑے فوجي ذمہ دار نے حکومت سے الگ ہونے کااعلان نہيں کيا ہے ? شام ?ايران اور حزب اللہ کے ہاتھوں گزشتہ 32برسوں سے شکست کھانے والے امريکہ کي سربراہي والے مغربي ممالک ، اسرائيل اور ان کے عرب اتحاديوں کي ايسے وقت ميں کاميابي کے آثار نہيں ہيں جبکہ امريکہ عراق سے واپس جا چکا ہے ‘ افغانستان سے فرار کے لئے کھلے دشمن طالبان سے مذاکرات کي جا رہي ہيں اور امريکہ اور يوروپ مالي بحران ميں بري طرح مبتلا ہيں شام کے خلاف جنگ کے امکان نہيں ہيں ? 2003ميں عراق کي صدام حسين حکومت خطے ميں تنہا تھي ليکن شام کي بشار الاسد حکومت تنہا نہيں ہے اور اس کے اتحادي خطے کي بڑي طاقت ايران اور حزب اللہ ہيں جن سے‘ اب سے پہلے کے تجربات کي روشني ميں‘ ٹکرانے کي ہمت امريکہ اور اسرائيل نہيں کر پا رہے ہيں?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬