03 April 2012 - 17:32
خبر کا کوڈ: 3953
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : اگر کسي کا ہاتھ پير بندھا ہو مگر انکھيں اور کان کھلے ہوں تو اسے خطرہ کا احساس ہو گا مگر اس ميں بھاگنے کي سکت نہ ہوگي ? بے عمل عالم ، علم کي مشکل سے روبرو نہي ہے کيوں کہ ايات وروايات کو سمجھتا ہے مگر عمل کے ميدان ميں کاميابي حاصل نہي کرسکا اور گناہوں کے کويں ميں کود پڑا ?
حضرت آيت الله جوادي آملي
 
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله جوادي آملي نے اج نئے سال کي دوسري نشست ميں ، علماء وافاضل حوزہ علميہ قم کے درميان مسجد اعظم قم ميں سوره مبارکه شعرا کي تفسير کي ?

حوزہ علميہ قم ميں درس تفسير کے اس استاد نے کہا : وحي خدا کبھي انسان کامل کے افکار اور کبھي اس کے جزبات سے متعلق ہے ? ھم سبھي کے پاس يہ دو گوشے موجود ہے ھم ايک سے سمجھتے ہيں کہ تصور، تصديق، جزم،‌ قطع،‌ ظن اور شک اسي مربوط ہے اور دوسرے سے فيصلہ کرتے ہيں کہ اراده، عزم،‌ نيت اور اخلاص اس متعلق ہے ، يہ دونوں ھرگز ايک دوسرے سے مرتبط نہي ہيں ? يہ تمام اپس ميں ايک دوسرے سے جڑے ہونے کے باوجود عمل کي انجام دہي ميں مستقل طور سے کام انجام ديتے ہيں جيسے کہ انکھيں اور کان ديکھنے اور سننے کي ذمہ دار ہيں مگر ہاتھ اور پير چلنے پھرنے اور کام کرنے کے ذمہ دار ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا : اگر کسي کا ہاتھ پير بندھا ہو مگر انکھيں اور کان کھلے ہوں تو اسے خطرہ کا احساس ہو گا مگر اس ميں بھاگنے کي سکت نہ ہوگي ? بے عمل عالم ،علم کي مشکل سے روبرو نہي ہے کيوں کہ ايات وروايات کو سمجھتا ہے مگر عمل کے ميدان ميں کاميابي حاصل نہي کرسکا اور گناہوں کے کويں ميں کود پڑا ? حضرت امير عليه السلام کے نوراني بيان «کم من عقل اسير تحت هواً امير» کے مطابق يہ عقل اسير ہے يعني اس کے پاس فيصلہ کرنے اور انجام عمل کي طاقت نہي ہے اور جان بوجھ کر گناہوں کو انجام ديتا ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : ھمارے پاس افکار کا شعبہ ہے جس کا بارڈر بلکل الگ ہے اور ايک جزبات کا شعبہ ہے کہ ارادہ اور نيت اسي سے متعلق ہے ، وحي خدا کبھي علم سے متعلق ہے کہ خدا کي ذات احکام يا غيب کي خبروں کو کامل انسانوں کے پاس کہ جو انبياء و ائمه عليهم السلام ہيں کے پاس بھيجتا ہے اور کبھي عمل سے متعلق ہے کہ فيصلہ ، ارادہ اور اخلاص کو اس کے دلوں ميں ڈال ديتا ہے ، يہ تمام چيزيں حساب شدہ اور حکيمانہ انداز ميں ہيں ، مادر موسي عليہ السلام ہوئي وحي ، وحي فعل ہے نہ حکم ، وحي فعل کے سلسلے ميں روشن ترين ايت «و أوحينا إليه فعل الخيرات» ہے ?

انہوں نے موسي کليم اللہ عليه السلام کو درياے نيل سے گذرنے کے واقعہ کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : يہاں دريا سے مراد درياے نيل نہي ہے بلکہ مراد بحر احمر اور درياے قلزم ہے کيوں کہ درياے نيل مصر ميں ہے اور اس کے دونوں کنارے پر فراعين مصر کا قبضہ تھا ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬